سوات موٹر وے فیز ٹو: تاخیر، ناکامی اور نقصان

Blogger Sajid Aman

اس وقت نہ صرف مینگورہ شہر غیر قانونی رکشوں اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شدید گھٹن کا شکار ہے، بل کہ اربن پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے آبادی کے غیر فطری پھیلاو (Irregular Expansion) نے لاکھوں لوگوں کو محصور کر دیا ہے۔
ہم جیسے غیر ممالک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑی بھاری قیمت پر آتی ہے، جیسے ریاست کی کوئی ذمے داری ہی نہ ہو۔ سوات موٹر وے ایسا ہی ایک منصوبہ ہے، جس میں حکومت کا ایک پیسا بھی نہیں لگنا۔ ایک کمپنی اپنے وسائل سے موٹر وے بنائے گی اور آگے 30 سال تک اس کا ٹول وصول کرکے اصل اور منافع وصول کرے گی۔ چلیں، یہ بھی اچھا ہے کہ حکومتی نہیں، بیرونی سرمایہ کاری منافع کے لیے ہی سہی، کچھ سہولت تو دے گی۔
مگر ایک عرصہ ہوا سوات موٹر وے فیز ون کو تعمیر ہوئے۔ فیز ٹُوکو تیاری کے ساتھ ہی بننا تھا، اس کے لیے بین الاقوامی کمپنی نے سرمایہ اور تکنیکی مہارت مہیا کرنی تھی اور مرکزی حکومت نے زمین کی خریداری کے لیے زمین مالکان کو رقم فراہم کرنی تھی۔ صوبائی حکومت کے ذمے محض پلاننگ میں مدد دینا، سیکورٹی فراہم کرنا اور زمینوں کا حصول تھا۔ وفاقی حکومت نے زمین کے مالکان کو ادا کرنے کے لیے رقم صوبے کو منتقل کر دی۔ یہ بڑا مرحلہ طے ہوگیا، مگر صوبائی حکومت نے زمین کی رقم ادا کرکے بین الاقوامی کمپنی کو کام شروع کرنے کا اشارہ دینا تھا۔
مگر صوبائی حکومت تو سرے سے موجود ہی نہیں۔ وزیرِ اعلا اور وزیروں کے نام پر چند لونڈے موجود ضرور ہیں، جنھوں نے واضح کر دیا ہے کہ اُن کا مقصد کپتان کی رہائی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سڑکیں پختہ ہیں، تو خیبرپختونخوا کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں میں شعور ہی شعور ہے۔ اب بغیر وژن کی لیڈرشپ ہوگی، تو اس کے پاس جو شعور ہوگی، اُس کے یہی نتائج نکلنا ہوں گے۔
چکدرہ سے مینگورہ تک سروے شدہ زمین کے مالکان کو رقم کی ادائی ہوگئی ہے، یا صوبائی حکومت کی سستی کی وجہ سے نہیں ہوئی…… مگر تصفیہ طلب کچھ نہیں۔ اُنھوں نے زمینیں خالی کر دیں اور تیار فصلوں کو تلف کیا، باغات کاٹ لیے اور پھر جب دیکھا کہ حکومت کو کوئی دل چسپی نہیں، تو اپنی زمینوں پر دوبارہ ہل چلا دیے۔
مینگورہ سے خوازہ خیلہ حصے پر بہ ہرحال قوم، حکومت اور تعمیراتی کمپنی کے اختلافات قائم ہیں۔ قوم کا موقف ہے کہ آباد زمینوں، باغات اور آبادیوں کی جگہ دریا کے کنارے کنارے فیز ٹو کے لیے راستہ ہم وار کیا جائے ۔
سرمایہ فراہم کرنے والی اور تعمیر کرنے والی کمپنی کا موقف ہے کہ یہ موٹر وے خود ایک اثاثہ ہے، جو کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ہے۔ کیسے اسے ایک بپھریے ہوئے دریا کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے…… جب کہ آیندہ تیس سال تک تعمیر، مرمت اور آباد رکھنے کی ذمے داری بھی سرمایہ کار کی ہو؟
صوبائی حکومت کا موقف پچھلی حکومت میں مکمل عوام کے خلاف تھا اور اس حکومت میں بالکل لاتعلق ہے۔ صوبائی حکومت کا مینڈیٹ تھا کہ وہ اس پر مذاکرات کرتی، مذاکرے منعقد کرتی ، کانفرنسوں کا ڈول ڈالتی اور اس عمل کو کمپنی اور عوام کے اعتماد کے ساتھ جاری رکھتی …… مگر بدقسمتی سے وفاق سے کروڑوں روپے وصول ہوکر پہلے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے اکاؤنٹس میں پڑے رہے اور اس سے مفت کا منافع ملتا رہا۔ اب یہ رقم صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ میں چلی گئی ہے۔
گنڈاپور نے تو صوبہ ویسے ہی دیوالیہ کر رکھا تھا، تنخواہوں کے پیسے نہیں تھے، نئے وزیرِ اعلا نے آکر اعلان کر دیا کہ ’’میرا مشن صرف قیدی 804کے نام پر میدان گرمانا ہے۔‘‘
غیر سنجیدگی کی انتہا دیکھیں کہ پشاور جلسے میں پشاور میں 5 ہزار بستر والے ہسپتال کے قیام کا اعلان کیا، جس پر بین الاقوامی میڈیا نے ان کا خوب مذاق اُڑایا۔ 5 ہزار کیا، 3 ہزار بیڈ کا ہسپتال بھی پاکستان جیسے کسی ترقی پذیر ملکمیں نہیں۔ چین میں دنیا کا سب سے بڑا ہسپتال 6 ہزار بیڈز کا ہے، دوسرا بھی چین ہی میں ہے 4 ہزار بیڈ کا۔ تیسرا 3 ہزار پلس کا روس میں ہے۔ چوتھا مشرقی یورپ میں سوویت یونین کا بنایا ہوا ہے۔
کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ جنھوں نے خیبر، حیات آباد، لیڈی ریڈنگ ہسپتال بیچ ڈالے اور سوات ہسپتال بیچ رہے ہیں، وہ 5 ہزار بیڈ کے ہسپتال بنانے کا اعلان کر رہے ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت زور ڈالے کہ صوبائی حکومت چکدرہ سے مینگورہ غیر متنازع فیز ٹو پر فوری کام شروع کروانے کے لیے دباو ڈلوائے۔ صوبائی حکومت کوئی میگا پراجیکٹ یا کوئی اور قابلِ ذکر پراجیکٹ شروع نہیں کروا سکی۔ یہ پراجیکٹ ان کا واحد پراجیکٹ ہوگا۔
اس کے علاوہ، مینگورہ سے خوازہ خیلہ والے حصے پر فوری عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ صوبائی حکومت کو فراہم کردہ بجٹ کی چھان بین کی جائے اور سٹیٹ بینک سے اس کی گارنٹی لی جائے کہ اس اکاؤنٹ کی رقم کسی اور مد میں استعمال نہ ہو…… اور اگر استعمال ہوئی بھی ہے، تو باقی مدوں سے نکال کر موٹر وے کی مد میں ڈال کر فریز کی ۔
اور ہاں……! مقامی طور پر خود ساختہ پریشر گروپس کی ہرگز پروا نہ کی جائے، جو ہر حالت میں خلاف رہتے ہیں، وہ موٹر وے کے بھی خلاف ہیں۔ اس موقع پر ایک انڈین فلم یاد آگئی، جس میں ایک نیم خواندہ سیاست دان ایک انڈین ریاست میں ہائیڈرل ڈیم کے خلاف مہم چلا رہا ہوتا ہے۔ اسمبلی میں حکومت ڈیم کے فوائد بتاتے ہوئے کہتی ہے کہ ڈیم سے نکلنے والے پانی سے بجلی پیدا ہوگی اور نکلنے والا پانی زراعت میں آب پاشی کے لیے استعمال ہوگا۔ وہ سیاست دان ہزاروں کے مجمع میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہے، پتا ہے کہ حکومت کا کیا منصوبہ ہے؟ پانی سے بجلی نکال کا مردہ پانی کسان کو دے گی اور طاقت بجلی کے طور پر نکال لے گئی۔ ہم حکومت کو کسان کے ساتھ یہ ظلم نہیں کرنے دیں گے۔
سوات میں اس قسم کے سیاست دانوں کا کاروبار بہت اچھا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے