ذیابیطس یا شوگر (Diabetes Mellitus) کو کنٹرول کرنا ایک جامع اور زندگی بھر چلنے والا عمل ہے، جس کا مقصد بلڈ گلوکوز کی سطح کو مطلوبہ حد میں رکھنا ہے، تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے اور مجموعی صحت برقرار رہے۔
اب ذیابیطس (شوگر) کو کنٹرول کرنے کے بنیادی اُصولوں پر بات کرتے ہیں:
٭ ذیابیطس مینجمنٹ کا مثلث:۔ شوگر کا کنٹرول تین باہم جڑے ستونوں پر مشتمل ہے۔
1) بلڈ گلوکوز کی نگرانی اور تعلیم(Monitroing)۔
2) ادویہ۔
3) صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمی (ورزش وغیرہ)۔۔
اس مثلث میں ہم سب سے پہلے نگرانی (مانیٹرنگ) کی بات کرتے ہیں۔
٭ نگرانی (Monitoring):۔ نگرانی میں اپنے نمبرز جاننا بہت ضروری ہے۔ بلڈ گلوکوزکی خود نگرانی (Self Monitoring of Blood Glucose) کرنی چاہیے۔ گلوکومیٹر (انگلی چبھو کر) یا کانٹینیوس گلوکوز مانیٹر (CGM) استعمال کریں۔
اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کب ٹیسٹ کریں؟ تو اس کا جواب ہے: ’’ڈاکٹر کے مشورے سے۔‘‘ ٹیسٹ کے لیے عام اوقات ذیل میں ملاحظہ ہوں:
1) فاسٹنگ۔
2) کھانے سے پہلے یا بعد میں۔
3) سونے سے پہلے۔
اب رینج کیا ہو؟ اس حوالے سے فرد کے لحاظ سے، لیکن عمومی ہدف ذیل میں ملاحظہ ہو:
1) فاسٹنگ(Fasting) یعنی کھانے سے پہلے: 80-130 mg/dL۔
2) کھانے کے ایک یا دو گھنٹے بعد: 140-180 mg/dL یا 200 ملی گرام سے کم۔
3) تین ماہ کا اوسط، HbA1c۔ زیادہ تر کے لیے 7 فی صد سے کم (انفرادی ہدف مختلف ہو سکتے ہیں)۔
اس کے ساتھ باقاعدہ میڈیکل چیک اَپ ضروری ہے۔ ہر 3 یا 6 ماہ بعد HbA1c، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور گردے کے فنکشن کے ٹیسٹ کروانا لازمی ہے۔
اب آتے ہیں ادویہ کی طرف۔
ذیابیطس کے ذکر شدہ مثلث میں اب ہم ادویہ کے حوالے سے بات کریں گے:
٭ ادویہ:۔ ادویہ کا باقاعدگی سے استعمال کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تمام دوائیں ٹھیک ڈاکٹر کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق لیں۔ جن میں:
1) منھ کے ذریعے لینے والی ادویہ:۔ جیسے ’’میٹفارمین‘‘ جو انسولین حساسیت بہتر کرتی ہیں یا جگر کی گلوکوز پیداوار کم کرتی ہیں۔
2) انجیکشن کے ذریعے لینے والی ادویہ:۔ جیسے GLP-1 رسیپٹر اگونسٹ (سیمگلوٹائیڈ) یا انسولین (ٹائپ 1 ذیابیطس کے لیے ضروری، اور بہت سے ٹائپ 2 مریضوں کے لیے بھی)۔
یہ بات پلو باندھ لیں کہ ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر دوائیں چھوڑنا یا تبدیل کرنا اپنی صحت برباد کرنے کے مترادف ہوگا۔
ذکر شدہ مثلث میں اب آتے ہیں صحت مند خوراک کی طرف:
یاد رکھیں شوگر کے مریضوں کے لیے ’’غذائی تھراپی‘‘ (Diet & Nutrition)اہم ہتھیار کا کام دیتی ہے۔ غذائی طریقہ کار کو بہتر بنانے میں سب سے پہلے کاربوہائیڈریٹ مینجمنٹ سیکھنالازمی ہے۔ اس لیے کہ کاربوہائیڈریٹ کا بلڈ شوگر پر سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ کاربوہائیڈریٹ کو گننا سیکھ لیں۔ سادہ شکر کے بہ جائے کمپلیکس کاربس (سارا اناج، دالیں، سبزیاں) چنیں اور لینا شروع کردیں۔ اس میں اپنے پلیٹ کے پورشن سائز کا خیال رکھنا لازمی جزو ہے۔
٭ پلیٹ کا طریقہ:۔ ایک آسان بصری راہ نمائی کے لیے آپ کی پلیٹ درجِ ذیل چیز وں پر مشتمل ہونی چاہیے، یعنی پلیٹ تین حصوں میں تقسیم ہو:
آدھی پلیٹ:۔ نشاستہ رہیت سبزیاں (بروکولی، پالک، شملہ مرچ)۔
ایک چوتھائی پلیٹ:۔ دبلی پروٹین (مرغی، مچھلی، ٹوفو، پھلیاں)۔
باقی ماندہ ایک چوتھائی پلیٹ:۔ کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ (براؤن چاول، کوئنوآ، شکرقندی)۔
اب جو چیزیں محدود رکھنی چاہییں یا بالکل ترک کرنی چاہییں وہ ذیل میں ملاحظہ ہوں:
1) میٹھے مشروبات۔
1) پراسیسڈ غذائیں۔
3) زیادہ سچورٹڈ/ٹرانس فیٹس۔
واضح رہے کہ ذاتی غذائی منصوبے کے لیے رجسٹرڈ ڈائٹیشن سے مشورہ کرنا لازمی بات ہے۔
ذیابیطس کے ذکر شدہ مثلث میں صحت مند خوراک کے ساتھ جسمانی سرگرمی (ورزش وغیرہ) کی بات بھی شامل تھی۔ سو اس پر بھی تھوڑی سی ڈالتے ہیں۔
٭ جسمانی سرگرمی (Physical Activity & Exercise):۔ قدرتی گلوکوز کم کرنے والے موثر ترین طریقۂ کار میں شامل ہیں:
1) ایروبک ورزش، یعنی چہل قدمی، تیراکی اور سائیکلنگ۔ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل سرگرمی کا ہدف رکھیں۔ یہ آپ کے جسم کو انسولین بہتر استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔
2) مزاحمتی ورزش، یعنی وزن اٹھانا اور باڈی ویٹ ورزشیں۔ ہفتے میں دو یا تین بار مزحمتی ورزش پٹھے بناتی ہے، جو گلوکوز میٹابولزم بہتر کرتی ہے۔
اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورزش سے پہلے اور بعد میں بلڈ شوگر چیک کریں، خاص طور پر اگر انسولین لے رہے ہوں۔ ہمیشہ تیز اثر کاربوہائیڈریٹ (گلوکوز ٹیبلٹ) ساتھ رکھیں۔
ذیابیطس کے حوالے سے تعلیم اور ذہنیت بھی ایک موثر ہتھیار ہے۔ اس لیے:
1) سیکھیں:۔ سیکھیں اور سمجھیں کہ خوراک(Diet)، سرگرمی(PhysicalActivity)، تناو (Depression) اور بیماری (During ilness) آپ کے گلوکوز کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔
2) تناو کا انتظام (Depression Management):۔ دائمی تناو، بلڈ شوگر کو بڑھاتا ہے ۔ آرام کی تکنیک (گہری سانسیں لینا، مراقبہ، یوگا) اپنائیں۔
3) نیند(Sleep):۔ معیاری نیند (7 تا 9 گھنٹے) کو ترجیح دیں۔ خراب نیند ہارمونز کو متاثر کرتی ہے۔
4) تمباکو نوشی اور الکحل:۔ تمباکو نوشی اور الکحل دونوں ذیابیطس کی پیچیدگیوں کو بڑھاتے ہیں۔
اب وہ کیا چیزیں ہیں، جن سے بچنا چاہیے، لیکن لوگ بچ نہیں پاتے، یا عام غلطیاں کیا ہیں؟ ذیل میں ملاحظہ ہوں:
1) غیر مستقل کھانے کے اوقات (کھانا چھوڑنا، پھر زیادہ کھانا)۔
2) بلند یا کم بلڈ شوگر کی علامات کو نظرانداز کرنا۔
3) اندھیرے میں تیرنا، یعنی اپنی گلوکوز لیولز چیک نہ کرنا۔
4) ذیابیطس میں عارضی طور پر ڈائٹ میں تبدیلی کو ٹھیک سمجھنا بہ جائے، مستقل طرزِ زندگی کے تبدیلی کے۔
ہمارا حتمی مقصد،پیچیدگیوں سے بچاو ہونا چاہیے۔ اچھا ذیابیطس کنٹرول ذیل میں دیے گئے خطروں کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے:
1) دل کی بیماری اور فالج۔
2) گردے کی بیماری (نیفروپیتھی)۔
3) اعصابی نقصان (نیوروپیتھی)۔
4) آنکھوں کے نقصان (ریٹینوپیتھی) اور اندھا پن (بلائنڈنیس)۔
5) پاؤں کے مسائل(ڈایابیٹک فوٹ) اور Amputations۔
ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میرا حتمی مشورہ ہوگا کہ اپنی صحت کی دیکھ بھال کی ٹیم (شوگر کے مستند ڈاکٹر ، پرائمری کیئر ڈاکٹر، ذیابیطس ایجوکیٹر، اور غذائی ماہر) کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ذیابیطس کا انتظام انتہائی ذاتی نوعیت کا ہے؛ جو ایک شخص کے لیے کام کرتا ہے…… وہ دوسرے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ یہ ایک میراتھن ہے، سپرنٹ نہیں، لہٰذا مستقل مزاجی اور پائیدار عادات پر توجہ دیں اور اپنی شوگر کی بیماری کو شکست دے کر ترقی کا جشن منائیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










