ریلوے: پٹڑی سے اترتے نظام کا نوحہ

Blogger Fazal Manan Bazda

وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا نے کوہاٹ سے خرلاچی تک اور پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے درمیان سرکلر ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کی دیگر سہولیات کی طرح سفری سہولیات کی فراہمی بھی حکومتِ وقت کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے، مگر اس سے قبل ضروری ہے کہ ہم ریلوے کی تاریخ اور پاکستان میں اس کے زوال پر ایک سنجیدہ نظر ڈالیں۔
برصغیر پاک و ہند کے لیے انگریز سرکار کا سب سے بڑا تحفہ بلاشبہ ریلوے کا نظام تھا، جس نے لنڈی کوتل سے راس کماری تک پورے ہندوستان کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ اس ریلوے نظام نے دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن بنائی اور مسافر اور مال گاڑیوں کی نقل و حمل کو نہایت سستا اور آسان بنا دیا۔
برطانوی پارلیمنٹ نے 1849ء میں ایک ایکٹ منظور کیا تھا، جس کے تحت برصغیر میں ریلوے نظام قائم کرنے کے لیے ایک کمپنی ’’گریٹ انڈین پینن سیولا ریلوے ‘‘ (Great Indian Peninsula Railway) یعنی ’’عظیم جزیرہ نما ہند ریلوے‘‘ کے نام سے 50 ہزار پاؤنڈ کے شرکتی سرمایہ سے قائم کی گئی۔ کمپنی، نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کر کے ریلوے لائن کی تعمیر کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر 13 سو میل طویل ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ تیار کیا گیا، جس کا مقصد بمبئی (ممبئی) کو مدراس (چنائے ) سے ملانا تھا۔ اس ابتدائی روٹ میں پونا، اورنگ آباد، احمد نگر، ناسک، ناگپور، شولاپور، امراوتی اور حیدر آباد شامل تھے۔
مذکورہ منصوبے کا مقصد عوام کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ برصغیر میں تجارت کو فروغ دینا بھی تھا۔ پہلی ٹرین 16 اپریل 1853ء کو بمبئی کے بوری بندر اسٹیشن سے روانہ ہو کر تھانے کے اسٹیشن پر پہنچی، جو ایک تاریخی دن تھا۔ 21 میل کا یہ سفر گاڑی نے 57 منٹ میں طے کیا۔ اس سفر میں 3 لوکوموٹیو انجن (سلطان، سندھ اور صاحب) 14 بوگیوں پر سوار مجموعی طور پر 4 سو مسافروں کو لے کر روانہ ہوئے۔ بعد ازاں 1854ء میں تھانے سے کلیان تک، 1856ء میں کیمپولی تک اور 1858ء میں پونا تک ریلوے لائن بچھائی گئی۔ اسی طرح 1861ء میں یہ لائن تھل گھاٹ کے ذریعے ایک شاخ کے ساتھ کلیان سے بھور گھاٹ، شولاپور اور رائے پور سے ہوتی ہوئی 1869ء میں مدراس تک جا پہنچی، جو اُس وقت کا ایک مرکزی ریلوے اسٹیشن تھا۔
اسی دوران میں 1858ء میں سندھ میں کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائن پر کام شروع کیا گیا، جس کی لمبائی 108 میل تھی اور یہ تین سال بعد 1861ء میں مکمل ہوئی۔ بے شک ریلوے کی آمد کے ساتھ برصغیر میں انقلابی تبدیلیوں کا آغاز ہوا، تجارت کو فروغ ملا اور عوام کو سستی سفری سہولیات میسر آئیں۔
پاکستان بننے سے قبل یہاں چار بڑی نجی ریلوے کمپنیاں (پنجاب ریلوے ، سندھ ریلوے ، دہلی ریلوے اور انڈین فلوٹیلا ریلوے) کام کر رہی تھیں، جنھیں 1885ء میں انگریز سرکار نے خرید کر سرکاری تحویل میں لے لیا۔ 1886ء میں اس نظام کا نام ’’نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ ریلوے‘‘ رکھا گیا، جو بعد ازاں ’’نارتھ ویسٹرن ریلوے‘‘ کہلایا۔ چمن اور تفتان سے کراچی، بدین، حیدر آباد، ملتان، لاہور، سرگودھا، راولپنڈی، پشاور، لنڈی کوتل، درگئی اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں تک ریلوے لائنیں بچھائی گئیں۔
آج پاکستان میں یہ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ایک عبرت ناک داستان بن چکا ہے۔ سرکاری دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان میں ریلوے پھیلنے کے بہ جائے مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ 1950ء سے 1955ء کے دوران میں مجموعی طور پر 8 ہزار 650 کلومیٹر روٹ کم ہو کر 7 ہزار 791 کلومیٹر رہ گیا، جب کہ 12 ہزار کلومیٹر ٹریک گھٹ کر 11 ہزار 811 کلومیٹر تک محدود ہو گیا۔
ابتدا میں مختلف اقسام کے 862 انجن تھے، جو کم ہو کر 472 رہ گئے۔ 16 ہزار 159 گوڈز ویگنوں میں سے تقریباً 9 ہزار 832 ناکارہ ہو چکی ہیں۔ 1 ہزار 82 مسافر کوچز میں سے 966 اپنی معیاد پوری کرچکی ہیں۔ کراچی، لاہور، پشاور ایم ایل ون کا 2 ہزار 995 کلومیٹر روٹ 55 فی صد تک خستہ حال ہے۔ اٹک، کوٹ ادو سے کوٹری تک 12 سو 54 کلومیٹر ٹریک کا 80 فی صد حصہ اپنی مدت پوری کرچکا ہے ، جب کہ روہڑی، جیکب آباد، کوئٹہ اور تفتان تک 970 کلومیٹر ایم ایل تھری ٹریک بھی 80 فی صد مدت پوری کرچکا ہے۔
پاکستان ریلوے کے موجودہ 13 ہزار 900 چھوٹے بڑے پلوں میں سے کم و بیش 11 ہزار پل 100 سال سے زائد پرانے ہیں۔ ملازمین کی تعداد جو کبھی ایک لاکھ سے زیادہ تھی، اب کم ہو کر 66 ہزار رہ گئی ہے۔
میرپور سے پتھورو تک 1939ء میں بچھائی گئی 130 کلومیٹر لائن کا بنیادی مقصد اس خطے سے کپاس، آم، مرچ اور تازہ سبزیوں کی منڈیوں تک ترسیل تھا، مگر اسے 2005ء میں بند کر دیا گیا۔
ژوب ویلی کی 298 کلومیٹر لائن، جو قلعہ عبداللہ، مسلم باغ، بوستان، خانائی، خانوزئی، زرغون، چورمیان، خان مہترزئی، آلوزئی، شمزئی، مسافر پور اور ژوب کو ملاتی تھی، 1985ء میں بند ہوئی اور 2008ء میں اسے اکھاڑ دیا گیا۔
ماڑی (ماڑی انڈس) سے لکی مروت تک بچھائی گئی لائن 1995ء میں بند کر دی گئی۔
پلیسہ تا ڈنڈوت ریلوے لائن، جو کھیوڑہ سے نمک کی ترسیل کے لیے 1905ء میں تعمیر کی گئی تھی، 1996ء میں بند ہوگئی۔
کوہاٹ تھل سیکشن، جو خوشحال گڑھ کے راستے 1903ء میں مکمل ہوا تھا، 1991ء میں بند کر دیا گیا۔ بنوں، آبہ خیل، سرائے نورنگ، لکی مروت، شہباز خیل، پیرو روڈ اور ٹانک تک جانے والی لائن 1995ء میں بند ہوئی اور آج اس کا نام و نشان تک باقی نہیں۔
لنڈی کوتل لائن، جو اپنے وقت میں 50 ہزار روپے فی کلومیٹر لاگت سے تعمیر کی گئی تھی، 2005ء سے بند پڑی ہے، جب کہ نوشہرہ سے درگئی تک ریلوے لائن بھی کئی دہائیوں سے غیر فعال ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں ریل کا نظام مسلسل ترقی کر رہا ہے اور ٹرینیں چھے سو کلومیٹر فی گھنٹا تک کی رفتار سے چل رہی ہیں، جب کہ پاکستان میں یہ نظام بدحالی کا شکار ہے اور بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیرِ اعلا کو یہ مشورہ کس نے اور کس مقصد کے تحت دیا؟ کیوں کہ موجودہ ریلوے نظام کو اہل کار دکھاوے کے بغیر ہی ہضم کرتے جا رہے ہیں، تو ایسے میں اُن نئے منصوبوں کا کیا حشر ہوگا، سوائے اس کے کہ قومی خزانے کو ایک بار پھر چونا لگایا جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے