پاکستان میں جب بھی ریاستی ناکامیوں، مالی خساروں اور آئی ایم ایف کی شرائط کا دباو بڑھتا ہے، تو سب سے پہلے جس قومی ادارے کو قربانی کے لیے پیش کیا جاتا ہے، وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) ہے۔ بس ایک طے شدہ بیانیے کے تحت یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ چوں کہ پی آئی اے سرکاری ادارہ ہے، اس لیے نااہل ہے۔اور چوں کہ نااہل ہے، اس لیے اس کا واحد علاج نج کاری ہے۔ حالاں کہ ریاستی ذمے داریوں، معاشی حقائق اور عالمی تجربات کی روشنی میں یہ بیانیہ نہ صرف ادھورا ہے، بل کہ گم راہ کن بھی ہے۔ کیوں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ پی آئی اے سرکاری ہے، یا نجی……؟ بل کہ یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے اداروں کو سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور ناقص حکم رانی سے آزاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں……؟
پی آئی اے کا ماضی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ادارہ کبھی ناکام نہیں تھا۔ 1960ء اور 70ء کی دہائی میں پی آئی اے ایشیا کی صفِ اوّل کی ایئرلائن تھی۔ جدید طیارے، تربیت یافتہ عملہ اور بین الاقوامی ساکھ اس کی پہچان تھی، مگر 1980ء کے بعد ریاستی نظام میں آنے والی خرابیوں نے پی آئی اے کو بھی متاثر کیا۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ہوئیں۔ ایوی ایشن سے نابلد افراد کو فیصلہ سازی سونپی گئی اور ادارہ رفتہ رفتہ ایک قومی ایئرلائن کے بہ جائے سیاسی روزگار اسکیم بنتا چلا گیا۔
اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے، تو 1990ء میں پی آئی اے کے ملازمین تقریباً 7 ہزار تھے اور طیاروں کی تعداد 40 کے قریب تھی، جب کہ 2015ء تک ملازمین کی تعداد بڑھ کر تقریباً چودہ ہزار ہو گئی اور طیاروں کی تعداد کم ہو کر 30 سے بھی نیچے آ گئی، یعنی ایک طیارے پر 400 سے 500 سو ملازمین، جو عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ اضافی بوجھ کسی کاروباری توسیع کا نتیجہ نہیں، بل کہ خالصتاً سیاسی فیصلوں کا تھا، جس کی قیمت قومی خزانے نے ادا کی۔
سرکاری آڈٹ رپورٹس کے مطابق 2000ء میں پی آئی اے کا مجموعی قرض تقریباً 40 ارب روپے تھا۔ 2010ء میں یہ 120 ارب، 2020ء میں 450 ارب اور 2023ء تک 600 سے 700 ارب روپے کے قریب پہنچ گیا، مگر اس قرض کو محض سرکاری ناکامی کَہ کر بیان کرنا حقائق سے فرار کے مترادف ہے۔ کیوں کہ اس خسارے کی جڑ میں غلط پالیسی فیصلے، مہنگے لیز معاہدے، ایندھن کی ناقص حکمتِ عملی اور سیاسی بنیادوں پر چلائے گئے غیر منافع بخش روٹس شامل ہیں، نہ کہ محض ریاستی ملکیت۔
نج کاری کے حامی یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ حکومت کاروبار کیوں چلائے، مگر یہی حکومت دفاع، نیوکلیئر پروگرام، موٹرویز، بندرگاہیں اور پیچیدہ توانائی نظام بھی چلاتی ہے۔ اصل مسئلہ حکومت کا کاروبار چلانا نہیں۔ بل کہ اداروں کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلنے کی آزادی نہ دینا ہے۔ عالمی مثالیں اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں کہ کام یابی کا تعلق ملکیت سے نہیں، بل کہ گورننس سے ہے۔
"Emirates Airline” مکمل طور پر ریاستی ملکیت میں ہونے کے باوجود اربوں ڈالر منافع کماتی ہے۔
"Qatar Airways” اور "Turkish Airlines” بھی ریاستی کنٹرول میں رہتے ہوئے عالمی معیار کی کام یاب ایئرلائنز ہیں۔ ان تمام اداروں میں مشترک عنصر یہ ہے کہ سیاسی حکومت پالیسی طے کرتی ہے، مگر روزمرہ آپریشن پیشہ ور ماہرین کے ہاتھ میں ہوتا ہے، جب کہ پاکستان میں یہی حدِ فاصل بارہا پامال کی گئی۔ نج کاری کے ممکنہ سماجی اور قومی اثرات پر بھی سنجیدہ گفت گو نہیں ہو رہی۔ پی آئی اے کے تقریباً 14 ہزار بہ راہِ راست ملازمین اور اُن سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔
عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ نج کاری کے بعد بڑی تعداد میں برطرفیاں، پنشن میں کٹوتی اور کنٹریکٹ سسٹم متعارف ہوتا ہے…… اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں سماجی تحفظ کا نظام کم زور ہے، اس کے اثرات محض معاشی نہیں، بل کہ سماجی بے چینی کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کا قومی کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حج و عمرہ آپریشن، قدرتی آفات میں امدادی پروازیں اور گلگت، اسکردو اور چترال جیسے دور دراز علاقوں کی فضائی رسائی وہ ذمے داریاں ہیں، جنھیں نجی شعبہ صرف منافع کی صورت میں قبول کرتا ہے۔ اگر یہ ذمے داریاں چھوڑ دی گئیں، تو ریاست کو بالآخر سبسڈی دے کر وہی بوجھ دوبارہ اُٹھانا پڑے گا، جس سے بچنے کے لیے نج کاری کی بات کی جاتی ہے۔
2020ء میں یورپی یونین کی جانب سے پی آئی اے پر عائد پابندی کو بھی ناقابلِ اصلاح ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ پابندی جعلی پائلٹ لائسنس اور ریگولیٹری ناکامی کا نتیجہ تھی، جس کی بنیادی ذمے داری ایئرلائن سے زیادہ ریاستی ریگولیٹرز پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ تھا، جو کسی نجی ایئرلائن میں بھی پیدا ہو سکتا تھا، اگر وہاں بھی نگرانی کا نظام کم زور ہوتا۔
سو حاصل نشست یہہے کہ پی آئی اے کا بحران دراصل ریاستی طرزِ حکم رانی کا بحران ہے، اور نج کاری کو واحد حل کے طور پر پیش کرنا ایک آسان مگر خطرناک راستہ ہے۔ کیوں کہ اگر اصلاحات کے بغیر محض اسے فروخت کیا گیا، تو یہ فیصلہ وقتی مالی سہولت تو دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں قومی خودمختاری، سماجی استحکام اور اسٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پی آئی اے کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے خودمختار بورڈ، پیشہ ورانہ مینجمنٹ، شفاف احتساب اور مرحلہ وار اصلاحات کے ذریعے بہ حال کیا جائے۔ کیوں کہ تاریخ، اعداد و شمار اور عالمی تجربات یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ ادارے ملکیت سے نہیں، بل کہ نظام سے تباہ یا آباد ہوتے ہیں اور اگر نظام درست نہ کیا گیا، تو نج کاری بھی ایک اور ناکام تجربہ ثابت ہوسکتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










