تیسرے ہزاریے کا ہول ناک سوال

Blogger Zubair Torwali

اس یخ بستہ رات کی تنہائی کے ڈوبے ہوئے آخری پہر نے مجھے پھر سے وہ سب یاد دلا دیا، جو میں دہائیوں سے محسوس کر تا آیا ہوں۔ یہ چنگاری اُن روزمرہ کے حساب سے نظروں نے دہکائی ہے، جو شک اور نفرت، خواہشاتِ نفس، سرد آہوں، خالی آنکھوں، دھوکا دہی، بددیانتی، سفاکی، بے حسی اور دشمنی سے بھری ہوتی ہیں۔ اسی لیے میرے محبوب، کیا مَیں یہ پوچھنے کی جرات کرسکتا ہوں کیا انسان واقعی موجود ہے؟
صدیوں سے الٰہیات (Theology) اور فلسفے کے مابین ہونے والے مناظرے ایک ہی سوال کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں کہ کیا خدا موجود ہے؟ ہم نے ہمیشہ ایک خالق کی تلاش میں آسمانوں کی طرف دیکھا اور اپنی زندگی کے اس شکستہ ڈھانچے کا ذمے دار کسی معبود کو ٹھہرایا…… مگر آج جب ہم تیسرے ہزاریے کی تیسری دہائی میں داخل ہوئے ہیں، تو ایک زیادہ پریشان کُن خاموشی اُس وقت اُبھرتی ہے، جب ہم اس سوال کا رُخ اپنی طرف موڑتے ہیں۔ ہمیں اپنی اجتماعی انا کو پاش پاش کر دینے والے اس ہول ناک سوال کو پوچھنا ہوگا کہ کیا انسان موجود ہے؟
ماہرِ الٰہیات اور اخلاقیات کے علم بردار ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ایک ممتاز مخلوق ہیں، اشرف المخلوقات ہیں…… جسے آزاد ارادہ (Free will) عطا کیا گیا ہے، جو اُن کے نزدیک یا تو قدرت کا کوئی کرشمہ ہے، یا ارتقا کا وہ شاہ کار جس نے ہمیں اپنی حیوانی جبلتوں سے ماورا ہونے کی قوت بخشی ہے۔ لیکن وقت کے آئینے میں اپنی نوع کا سنجیدہ مطالعہ ایک مختلف حقیقت کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ ہمیں اس دنیا میں کہیں انسان نظر نہیں آتے، بل کہ ہمیں صرف وہ حیاتیاتی ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں، جن پر ’’ثقافتی سدھاو‘‘ (Social Conditioning) کے آسیبوں کا قبضہ ہے۔ یہ آزاد ارادہ درحقیقت محض ایک سراب ہے۔ حقیقت میں یہ ثقافت کا ایک پیچیدہ پروگرام ہے، جو پیدایش کے لمحے ہی سے اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ اس سے پہلے کہ بچہ انسانیت کے تصور کو زبان دے سکے، اُسے خاندان، قبیلے، مذہب اور قوم کی شناختوں کے ’’قماط‘‘ (Swaddle) میں باندھا جاتا ہے۔
یوں ثقافت انسان کو آزاد نہیں، بل کہ اسے پابند کرتی ہے۔ یہ اسے ٹھپے، لیبل، تعصبات اور رسومات جیسے اوزاروں کا مجموعہ تو فراہم کرتی ہے، مگر اُس خالص انسانیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، جسے ہمارا بنیادی جوہر ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہم عقل اور زبان جیسی نعمتوں سے مالا مال نوع ہیں…… یعنی وہ خصائل جو ہمیں جنگل کی حیوانی برائیوں سے بلند رکھنے کے لیے تھے…… مگر تاریخ اور ذاتی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ عقل محض وہ وکیل ہے، جسے ہماری حیوانی جبلتوں کے دفاع کے لیے مامور کیا گیا ہے…… اور زبان وہ لبادہ/ بھیس (Camouflage) ہے جو ان جبلتوں کو چھپانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یوں ہم کسی فرد کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں وہاں انسانیت کی کوئی دھندلی تصویر بھی نہیں ملتی۔ اس کے بہ جائے ہمارا سامنا ایسے لوگوں سے ہوتا ہے، جو حسد، دھوکا دہی اور ایک ایسی بڑی انا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں، جنھیں پارسائی یا پیشہ ورانہ مہارت کے نقاب اُوڑھنے پڑتے ہیں۔ کوئی مذہب درحقیقت اس حیوان کو انسان میں نہیں ڈھال سکا۔ کوئی سماجی یا سیاسی نظام ہمارے اندر کے درندے کو نہیں مار سکا۔ ہم نے تو بس اپنے بھیس کو تہذیب بخشی ہے۔ وہ حسد جو کسی دور میں محض لاٹھی مارنے پر اُکساتا تھا، اب کارپوریٹ سطح کی منظم دھوکا دہی یا لطیف سماجی تخریب کاری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے…… اور جسے مقابلے اور برتری کی بہترین زبان کا لبادہ پہنایا جاتا ہے۔
اجتماعی سطح پر یہ المیہ مزید سنگین ہوجاتا ہے۔ ہم خود کو ایسی نسلوں اور شناختوں کے ساتھ وابستہ پاتے ہیں، جو دوسرے کی نفی اور اکثر اس کی تباہی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ عالمی سطح پر تو انسان مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ متصادم لیبلوں/ ٹھپوں کا ایک بازار سج جاتا ہے، جیسے مسلمان، مسیحی، لبرل، ملحد، انتہا پسند، دہشت گرد، سرمایہ دار اور سوشلسٹ۔ یہ محض القابات نہیں۔ یہ قلعہ بند ذہنی خندقیں ہیں۔ ہر گروہ کا اپنا اخلاق اور اپنے مقدس مفادات ہیں، جن کے لیے وہ قتل کرنے پر آمادہ ہے۔ لبرل آزادی کے نام پر مار سکتا ہے، صاحبِ ایمان سچائی کے نام پر، سرمایہ دار ترقی کے نام پر اور مذہبی خدا کے نام پر۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ہر صورت میں مقتول کبھی انسان نہیں ہوتا، بل کہ وہ محض ایک ہدف، ایک غدار یا جنگ کا ضمنی نقصان (Collateral) قرار پاتا ہے۔
یہی نکتہ ہمیں وجودی بحران کے مرکز تک لے آتا ہے۔ اگر انسانیت کی تعریف آفاقی ہم دردی، معروضی عقل اور قبائلی انا کی زنجیروں سے آزاد روح ہے، تو پھر انسان ایک فرضی مخلوق ہے۔ ہم اپنے دماغ کے ترقی یافتہ حصوں کو ایک مشترکہ انسانی شناخت کے لیے نہیں، بل کہ اپنی قدیم جبلتوں کے لیے زیادہ پیچیدہ جواز تراشنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
لہٰذا کسی معبود کے وجود کا سوال ثانوی، بل کہ غیر متعلقہ ہوجاتا ہے۔ دنیا کی حالتِ زار کا ذمے دار کسی ہستی کو ٹھہرانا اس حقیقت سے چشم پوشی کرنا ہے کہ اس اسٹیج کا اصل اداکار یعنی انسان ہی غائب ہے۔ ہم اداکاروں کی وہ قسم ہیں، جنھوں نے ہر وہ بھیس بدل رکھا ہے، جو تصوراتی یا معاشرتی طور پر قابلِ قبول ہو۔ سوائے اس ایک روپ کے جس کا ہم دعوا کرتے ہیں۔ ہم نے تہذیبیں بنائیں، ایٹم کو پاش پاش کیا اور انسانی جینوم کے نقشے مرتب کیے، مگر ہم اُسی انسانیت کے لیے اجنبی رہے، جس کا جشن ہم اپنی شاعری، مذہب اور ’’اِزموں‘‘ (isms)میں مناتے ہیں۔
مستقبل کا اصل کام خدا کی تلاش نہیں، بل کہ یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہم بالآخر ایک انسان کو جنم دے سکتے ہیں……؟ جب تک ہم حسد کی تہوں، شناخت کے نقابوں اور قتل کو جائز قرار دینے والے اخلاقیات کے حصے بخرے نہیں کردیتے، ہم وہی رہیں گے جو ہمیشہ سے تھے:اپنے ہی بنائے ہوئے لبادے میں لپٹا اور کھویا ہوا ایک چالاک جانور……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے