شوگر کنٹرول کرنے کے لیے معیاری اہداف

Blogger Doctor Ahmad Ali Diabetologist, Swat

قارئین! اس بلاگ کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرنے جا رہے ہیں۔ اس حصہ میں شوگر کے ویلیوز یا ٹارگٹ رینجز اور بعد میں ان اہداف کے حصول کے طریقۂ کار کو وضع کرنے کی کوشش کر یں گے۔
ذیابیطس کو کنٹرول کرنا ایک جامع اور زندگی بھر چلنے والا عمل ہے، جس کا مقصد بلڈ گلوکوز (Blood Glucose) کی سطح کو مطلوبہ حد میں رکھنا ہے، تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے اور مجموعی صحت برقرار رہے۔
ذیابیطس کے موثر کنٹرول کے لیے خون میں گلوکوز کی مخصوص اقدار (رینج) کو جاننا بہت ضروری ہے۔ یہاں وہ بنیادی اقدار (Values) دی جا رہی ہیں، جو عام طور پر ڈاکٹر اور صحت کے ادارے تجویز کرتے ہیں۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک تن درست انسان کے گلوکوز اہداف کیا ہیں؟
1) صبح خالی پیٹ یا کھانے کے کم از کم 8 گھنٹے بعد ایک سو mg/dL یا اس سے کم۔
2) کسی بھی کھانے کے 2 گھنٹے بعد دو سو mg/dL یا اس سے کم۔
اب اُن لوگوں کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں، جن کو شوگر کی بیماری لاحق ہے:
1) صبح خالی پیٹ یا کھانے کے کم از کم 8 گھنٹے بعد ایک سو چھبیس mg/dL یا اس سے زیادہ۔
2) کسی بھی کھانے کے 2 گھنٹے بعد دو سو mg/dL یا اس سے زیادہ۔
یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اقدار زیادہ تر بالغ ’’ٹائپ ٹو ذیابیطس‘‘ مریضوں کے لیے ہیں۔ اس طرح ’’ٹائپ 1 ذیابیطس‘‘، حاملہ خواتین (جیشٹیشنل ڈائیبٹیز)، بزرگ یا دیگر پیچیدگیوں والے مریضوں کے ٹارگٹس مختلف ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور طویل مدتی نگرانی کا ہدف جس کو "HbA1c” کہتے ہیں، بہت اہمیت کا حامل ہے، جس کو ہم آسان الفاظ میں یوں بیان کر سکتے ہیں:
1) نارمل انسان کے لیے یہ ہدف پانچ اعشاریہ سات فی صد یا اس سے کم۔
2) شوگر سے پہلے (Pre Diabetes)، جن کو ممکنہ شوگر کی بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہو، کے لیے یہ ہدف پانچ اعشاریہ سات فی صد سے لے کر چھے اعشاریہ چار فی صد کے درمیان ہونا چاہیے۔
3) شوگر (Diabetic) کے لیے یہ ہدف چھے اعشاریہ پانچ فی صد یا اس سے بڑھا ہوا ہو، تو یہ "Diabetic” تصور کیا جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شوگر کے مریض کو اپنا HbA1c، پانچ تا چھے فی صد یا اس سے کم رکھنا ایک اچھے کنٹرول کی نشان دہی ہے۔
یہ نکتہ یاد رہے کہ یہ ٹیسٹ پچھلے 2، 3 مہینوں کے اوسط بلڈ شوگر کی سطح بتاتا ہے۔
٭ ہدف کیا ہے؟
1) زیادہ تر مریضوں کے لیے "HbA1c” سات اعشارہ صفر فی صد سے کم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن یہ ہدف فرد کی عمر، صحت اور ہائپوگلائسیمیا کے خطرے کے مطابق ڈاکٹر تبدیل کرسکتا ہے۔
2) حمل کی ذیابیطس (Gestational Diabetes) کے لیے ہدف۔
3) حاملہ خواتین میں کنٹرول زیادہ سخت ہوتا ہے، تاکہ ماں اور بچے دونوں کو تحفظ ملے۔
4) خالی پیٹ/ کھانے سے پہلے پچانوے mg/dL سے کم۔
5) کھانے کے 1 گھنٹا بعد ایک سو چالیس mg/dL سے کم۔
6) کھانے کے 2 گھنٹے بعد ایک سو بیس mg/dL سے کم۔
شوگر یا Diabetes Mellitis Glycemic Control تین اہم بڑے ستونوں پر مشتمل ہے، جن کے متعلق اگلے بلاگ میں بات ہوگی، ان شاء اللہ!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے