اشتراکی سوویت انقلاب کے عظیم راہ نما لینن نے کہا تھا: ’’ہم مذہبی لوگوں سے موت کے بعد والی جنت پر نہیں الجھنا چاہتے۔ ہمارا مقصد اِس زندگی کو تمام انسانیت کے لیے جنت بنانا ہے۔‘‘
لبرل ازم، جدید سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے۔ اس فکر کے حامل لوگ مادر پدر آزادی کو ہی اصل آزادی سمجھتے ہیں۔ بھوکے ، غریب اور مفلس مزدور، کسان اور محنت کش کی محنت کا استحصال کرکے قدرِ زائد کو ہڑپ کرنے والی یہ اشرافیہ، بدہضمی سے ڈکاریں مارتی ہوئی، اپنے شغل کے لیے ’’نان ایشوز‘‘ کو ’’ایشوز‘‘ بناکر خود مزے لیتی ہے اور عوام کو گم راہ کرکے اُن کی توجہ اصل مسائل یعنی استحصال اور وسائل پر قبضے سے ہٹاتی ہے۔ یہ دراصل انقلاب اور شعور کے خلاف ایک مذموم کوشش ہوتی ہے۔
برسبیلِ تذکرہ، کارل مارکس نے کہا تھا کہ ’’سرمایہ دارانہ نظام ایک منظم جرم ہے!‘‘ اور ہر دفعہ سرمایہ دارانہ نظام نے کارل مارکس کو درست ثابت کیا ہے۔اُنھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’اگر لوگ خودکشیاں شروع کر دیں، تو سرمایہ دار رسیاں بیچنا شروع کر دیں گے!‘‘ اب صورتِ حال کا جائزہ لیں، تو پتا چلتا ہے کہ کارل مارکس کا کہا پتھر پر لکیر کے مصداق سچ ہے۔
اس تمہید کے بعد آتے ہیں اصل نکتے کی طرف۔ آج کل سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر جاوید اختر صاحب اور مفتی شمائل صاحب کا مباحثہ زیرِ بحث ہے۔ تمام تر توجہ ذکر شدہ اصحاب کے مکالموں پر مرکوز ہے۔ مذہبی طبقات مفتی صاحب کی جیت پر جشن منا رہے ہیں، جب کہ لبرل حلقہ جاوید اختر صاحب کے سوالات کو فلسفے سے جوڑ رہا ہے۔ مذہبی طبقات کا کہنا ہے کہ جاوید اختر صاحب محض مذہب سے بے زاری یا مذہبی لوگوں کی کوتاہیوں کو بنیاد بنا کر خدا کی ذات کے منکر ہیں اور اس کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں…… جب کہ لبرل اشرافیہ کا موقف ہے کہ سوالات اہم ہوتے ہیں، جوابات کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔
اس طرح لبرل حلقے کے مطابق مفتی صاحب نے مطمئن نہیں کیا، بل کہ لفاظی کے ذریعے لاجواب کر دیا، جب کہ مکالمے کا بنیادی اُصول مطمئن کرنا ہوتا ہے، لاجواب کرنا نہیں۔
اس حلقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ جاوید اختر صاحب پیشہ ور مقرر ہیں، نہ اُن کا کام مذاکروں اور مباحثوں میں حصہ لینا ہے، اُنھیں جواب در جواب دینے کا ملکہ حاصل ہے اور نہ اُن کی ایسی کوئی تربیت ہی ہوئی ہے ۔ اس کے برعکس مفتی صاحب کو مذہبی انڈسٹری نے اسی مقصد کے لیے تیار کیا ہے۔
در اصل دونوں اصحاب کے درمیان ہونی والی بحث کا عنوان تھا: ’’خدا کا وجود ہے یا نہیں……؟‘‘
مگر ’’بھوک کا وجود ہے یا نہیں……؟‘‘ اس پر کوئی مباحثہ نہیں کیا جاتا۔ ہمارے اس کرۂ ارض پر لگ بھگ ساڑھے سات ارب انسان آباد ہیں، جب کہ اس پر ہر وقت 10 ارب لوگوں کی ضرورت کے مطابق راشن اور کھانے پینے کی اشیا موجود ہوتی ہیں، مگر آج بھی انسان کی موت کی سب سے بڑی وجہ بھوک ہے، نہ کہ جنگیں، حادثات یا وبائی امراض۔
اس طرح ہماری اس دنیا میں ہر وقت 10 ارب افراد کے رہنے کے لیے بلڈنگ میٹریل موجود ہوتا ہے، مگر آج بھی آدھی سے زیادہ دنیا کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وسائل کی کمی نہیں، بل کہ وسائل پر چند لوگوں کا قبضہ ہے۔ دنیا کی دولت کا 70 فی صد صرف چند ہزار افراد کی ملکیت ہے۔ دنیا کے فیصلے چند کارپوریشنیں کرتی ہیں…… جنگ اور امن کے فیصلے محض منافع کے لیے کیے جاتے ہیں۔
خدا کا وجود ہے یا نہیں، یہ ایک فکری بحث ہوسکتی ہے، مگر مزدور، کسان اور محنت کش اس بحث کا موضوع ہی نہیں۔ وہ بھوک اور افلاس کا شکار ہیں، چھت سے محروم ہیں اور انھیں علاج، تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر نہیں۔ ایسے لوگ نہ تو اس قسم کی ذہنی عیاشی کے لیے مباحثوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں اور نہ اُن میں کوئی دل چسپی رکھتے ہیں۔ ہاں، کارپوریٹ میڈیا کے تعاون سے سرمایہ دار اشرافیہ دھوکا اور فریب دے کر، اصل مسائل سے اُن کی توجہ ہٹاکر اُنھیں غیر متعلقہ مباحثوں میں اُلجھا دیتی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام ایک منظم جرم ہے۔ اس بار معاشرتی تقسیم کو مزید پھیلا کر اسے دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیے جانے کا پروگرام ہے۔ مستقبلِ قریب میں مذاکروں اور مباحثوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ کارپوریٹ میڈیا میں ٹرینڈز بنائے جائیں گے۔ اشتہارات حاصل کرنے، ریٹنگ بڑھانے اور ڈالر بٹورنے کے لیے تیاری مکمل ہے۔ بس
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قسم کے ہتھ کنڈوں کو سمجھا جائے، اس جعلی شعور کو مسترد کیا جائے اور جواب در جواب کے اس مسخرہ پن سے باہر نکلا جائے۔ حقیقی معنوں میں استحصال، جبر اور غلامی کے خلاف جد و جہد کی جائے، جو واحد راستہ ہے۔ یہ طبقاتی جد و جہد ہے، جہاں بالادست طبقات، زیرِ دست طبقات کے وسائل پر قابض ہیں…… اور ہر وہ انسان غلام ہے، جو زیرِ دست طبقات سے تعلق رکھتا ہے۔ زیرِ دست طبقات کے پاس غلامی کی زنجیروں کے سوا کھونے کے لیے کچھ نہیں۔
دنیا بھر کے محنت کش طبقے ایک ہو جائیں، بالادست طبقات سے وسائل واپس لے کر زیرِ دست طبقات کو مہیا کریں، تاکہ غلامی، مسائل اور مصائب کا خاتمہ ہوسکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










