سوات، علاقائی تعظیمی ناموں کی دم توڑتی روایت

Journalist Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab, Swat

اللہ بخشے، میرے دادا، محمد المعروف بزوگر حاجی صاحب (مرحوم) کی دو بیویاں، یعنی میری دو دادیاں تھیں۔ جس دادی کے بطن سے میرے والد نے جنم لیا، اُنھیں ہم ’’ابئی‘‘ نام سے پکارتے تھے۔ ’’ابئی‘‘ دراصل دادا (مرحوم) کی دوسری بیوی تھیں۔ اُن کی پہلی بیوی (بڑی دادی) کو ہم چھوٹے اور بڑے ’’خوگہ‘‘ (شیریں یا میٹھی) نام سے پکارتے تھے۔ اُنھیں مذکورہ نام سے پورے محلے کی ہم عمر اور چھوٹی عمر کی خواتین، یہاں تک کہ لڑکیاں اور لڑکے بالے بھی پکارتے تھے۔
میری سگی دادی کا اصل نام باچا زرین تھا، مگر محلے میں ’’فتح پور بی بی‘‘ کے نام سے مخاطب کی جاتی تھیں، جو آگے چل کر ’’فتح پور بی‘‘ پکارا جانے لگا۔ دراصل دادی مرحومہ نے فتح پور (سوات) میں جنم لیا تھا اور دادا (مرحوم) سے نکاح کے بعد محلہ وزیر مال، مینگورہ میں مستقل طور پر رہایش پذیر ہوگئیں۔
مجھے بچپن میں دادی (مرحومہ) کے لیے تعظیم کے طورپر استعمال ہونے والا نام ’’فتح پور بی‘‘ سن کر کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ یہ تو آگے چل کر پتا چلا کہ دادی کو اُن کی ہم عمر یا اُن سے چھوٹی عمر کی خواتین احتراماً مذکورہ نام سے مخاطب کرتی تھیں…… اور یہ عمل صرف دادی (مرحومہ) کے لیے مخصوص نہیں تھا، بل کہ پورے سوات کی طرح محلہ وزیر مال (جہاں مجھے اس خرابے میں ٹپکایا گیا تھا) میں بھی یہی روایت تھی کہ خواتین خود سے بڑی عمر کی خاتون کو احتراماً تعظیمی کلمے سے مخاطب کرتیں۔ سوات میں ایسے کئی نام تھے، جو مخصوص علاقوں کی مناسبت سے خواتین کو ملے۔ زیرِ نظر تحریر میں آگے چل کر ایسے چند نام پڑھنے کو ملیں گے۔ اس کے ساتھ دیگر نام ایسے بھی تھے، جو خواتین کو اُن کی کسی اچھی خصلت یا جسامت کی بنا پر ملے تھے۔ جیسے میرے بچپن کے دور میں محلہ وزیر مال میں ایک خاتون کو اپنی پرہیزگاری اور پاک دامنی کی بنا پر ’’غوڑی بی‘‘ پکارا جاتا تھا…… یعنی وہ خاتون جس کے ہاتھ میں برکت ہو۔
اس طرح کسی جسمانی نقص یا خوش شکل نہ ہونے کی وجہ سے بھی کسی خاتون کو نام ملتا تھا۔ جیسے ’’ٹکئی ترور‘‘ (جس کے چہرے پر چیچک کے بڑے بڑے اور گہرے داغ تھے)، ’’کانڑہ ترور‘‘ (جنھیں اونچا سنائی دیتا تھا) وغیرہ۔ اس طرح محلہ وزیر مال میں ایک خاتون، جو اس قدر کوتاہ قد تھیں کہ اُس کے پیچھے چلنے والا شخص اُسے بہ مشکل چھے سالہ بچی ہی سمجھتا، جنھیں اہلِ محلہ ’’چیتہ جاجئی‘‘ یعنی ’’چھوٹی قد والی بڑی بی‘‘ کَہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ’’چیتہ جاجئی‘‘ کی آواز اُن کی قد کی مناسبت سے بچوں جیسی ہی سنائی دیتی تھی۔ جوتے چھوٹے، یہاں تک کہ چوڑیاں بھی اُن کی کلائیوں میں بچوں والی ہی ہوتیں۔ ’’چیتہ جاجئی‘‘ بچوں کی طرح چھوٹی موٹی باتوں پر باقاعدہ روٹھ بھی جایا کرتی تھی۔
غالباً 1990ء کو ہم محلہ امان اللہ خان (نشاط چوک) میں اپنی دادی ’’ابئی‘‘ کے ساتھ نئے گھر شفٹ ہوگئے۔ پرانے گھر میں ’’خوگہ‘‘ (بڑی دادی) اپنے اکلوتے بیٹے علی خان، جنھیں ہم ’’مشر دادا‘‘ کے نام سے پکارتے، کے ساتھ رہ گئیں۔ بعد میں ’’خوگے‘‘ کو بریسٹ کینسر لاحق ہوگیا، جس کی وجہ سے اُن کا ایک عضو بھی کاٹا گیا…… مگر تب تک کینسر جڑ پکڑ چکا تھا۔ بالآخر ایک اذیت ناک دور سے گزرنے کے بعد ’’خوگہ‘‘ انتقال کرگئیں۔
محلہ امان اللہ خان میں ہمارے پڑوس میں ایک نیک خاتون تھیں، جو شیرزادہ ٹھیکے دار کی منکوحہ تھیں۔ حج کی ادائی کے بعد اُنھیں نہ صرف اپنے خاندان والے ’’حج ابئی‘‘ پکارنے لگے، بل کہ پورا محلہ، یہاں تک کہ ہم لڑکے بالے بھی اُنھیں ’’حج ابئی‘‘ (یعنی حج ادا کرنے والی دادی) نام سے پکارتے۔
محلہ امان اللہ خان ہی کے میرے لنگوٹیے ڈاکٹر عبد اللہ (سینئر رجسٹرار کارڈیالوجی نارتھ ویسٹ ٹیچنگ ہاسپٹل، پشاور) کی والدہ (مرحومہ) کو محلے کی سبھی خواتین ’’بی بی‘‘ کے نام سے پکارتی تھیں۔ وہ پشتو مقولے ’’خوئی پہ رنگ خائستہ‘‘ کے مصداق خوب سیرت و خوب صورت خاتون تھیں۔ بچوں پر والدہ کی تربیت کا گہرا اثر تھا، اس لیے سبھی اعلا تعلیم حاصل کرنے کے بعد اَب معاشرے میں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔’’بی بی‘‘ کے درجات بلند ہوں، اُن کی مادرانہ شفقت کا احساس بچپن میں طمانیت کا احساس دلاتا تھا۔
واپس چلتے ہیں محلہ وزیر مال مینگورہ کی طرف، جہاں ایک عمر رسیدہ خاتون ’’کوہی ترور‘‘ کہلاتی تھیں۔ کنویں کو پشتو میں ’’کوہے‘‘ کہتے ہیں۔ ماں فرماتی ہیں کہ دراصل ’’کوہی ترور‘‘ کا گھر محلے کے اُن گنے چنے گھروں میں سے ایک تھا، جن میں کنواں تھا۔ ’’کوہی ترور‘‘ کا آسان مفہوم ’’کنویں والے گھر کی پھوپی‘‘ ہے۔
’’کوہی ترور‘‘ ضعیف العمری کی بنا پر سوکھ کر کانٹا بن گئی تھیں، مگر مجھے جس وجہ سے اُن سے ڈر لگتا تھا، وہ بشری تقاضا تھی۔ در اصل اُن کے چہرے پرپڑی گہری جھریوں پر جب بھی نظر پڑتی، میری سٹی گم ہوجاتی…… اور جب بھی اُن سے اچانک مٹھ بھیڑ ہوتی، مارے ڈر کے بے اختیار چیخ نکل جاتی۔ دوسرے ہی لمحے بجلی کی طرح تیزی سے سیدھا ماں کی طرف لپکتا اور اُن کی آغوش میں سر رکھ کر ہی دم لیتا۔ ماں بھی کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اوڑھی ہوئی چادر سے مجھے ڈھانپ کر ایک طرح سے تحفظ کا احساس دلاتیں اور ’’کوہی ترور‘‘ سے واپس جانے کی درخواست کرتیں۔
محلہ وزیر مال میں ایک گوالن، جو بڑی کی عمر کی خاتون تھیں، تانبے کے بنے ایک بڑے گڑھے میں دودھ بھر کر لاتیں اور بیچتی تھیں۔ پورے محلے میں اُن کا نام ’’پیو ابئی‘‘ (دودھ بیچنے والی دادی) مشہور تھا۔ بچپن میں ہم "Haptic” قسم کے بچوں میں شمار ہوتے تھے، جنھیں بڑے بوڑھے ’’شیطانان‘‘ (شطونگڑے) پکارتے۔ یہ نیم پلیٹ ہمارے سینے پر کیوں سجایا گیا تھا؟ اس حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ سنیے:
مَیں نے ایک دن ’’پیو ابئی‘‘ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا: ’’ابئی! آپ قسم کھا کر کہیں کہ آپ نے آج دودھ میں پانی نہیں ڈالا؟‘‘ وہ سادہ لوح خاتون کہتیں: ’’خدا کی قسم، اگر مَیں نے دودھ میں پانی کا ایک قطرہ بھی ڈالا ہو!‘‘ یہ ایک طرح سے ترپ کا پتا تھا، جو ناکام ہوا، اس لیے مَیں نے حکم کا اکا پھینکتے ہوئے کہا: ’’چلیں، اب قاسم کھا کے کہیں کہ آپ نے پانی میں دودھ نہیں ڈالا!‘‘ اس کے جواب میں ’’پیو ابئی‘‘ کی صورتِ حال کا اندازہ لگانے کے لیے شاید الطاف الرحمان فکرؔ یزدانی صاحب کا یہ مصرع ہی کافی ہے کہ
پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
جانے کس نے یہ مصرع میر تقی میرؔ کے کھاتے میں ڈال کر فکرؔ صاحب کی فکر کا ستیا ناس کردیا……؟ پورا شعر کچھ یوں ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا تو فکرؔ نے دیکھا
پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
محلہ وزیر مال میں ایک اور خاتون ’’بلہ نہ ترور‘‘ کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔ اس نام کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے، جسے بیان کیے بغیر آگے جانا مناسب نہ ہوگا۔
’’بلہ نہ ترور‘‘ کے بارے میں مشہور تھا کہ اُن کے والدین اولادِ نرینہ سے محروم تھے۔ اُن سے پہلے بھی اُس گھر میں کئی لڑکیوں نے جنم لیا تھا، مگر جیسے ہی ایک اور لڑکی (بلہ نہ ترور) نے جنم لیا، تو والدین نے اُس کا نام ’’بلہ نہ‘‘ رکھ دیا، جس کا مطلب ہے ’’گھر میں اس کے بعد ایک اور لڑکی جنم نہ لے۔‘‘
عمر گزرنے کے ساتھ ’’بلہ نہ‘‘ کے ساتھ تعظیماً ’’ترور‘‘ کا لاحقہ لگ گیا۔ ’’بلہ نہ‘‘ کی طرح ’’بلہ نشتہ‘‘ نام بھی خواتین کے لیے مشہور تھا۔ میری شریکِ حیات کے بہ قول، ایک خاتون گوالیرئی گاؤں میں اَب بھی اس نام سے زندہ ہیں۔ میری شریکِ حیات کہتی ہیں کہ ’’بلہ نشتہ‘‘ نامی خاتون کی 12 یا 13 بہنیں حیات تھیں۔ اس کے علاوہ اُن کی دو تین بہنیں پیدا ہوتے ہی مرگئی تھیں۔ ’’بلہ نہ‘‘ کی طرح ’’بلہ نشتہ‘‘ کے معنی بھی ’’گھر میں اس کے بعد ایک اور لڑکی جنم نہ لے‘‘ جان لیں۔
’’بلہ نہ ترور‘‘ ایک ماہر خاتون تھیں، جس کی وجہ سے محلے دار اُن کی نہ صرف قدر کرتے، بل کہ اُن کو چائے پانی کا بھی پوچھتے۔ میری پیدایش سنہ 1981ء ہے (یہ ایک الگ المیہ ہے کہ پاسپورٹ بنوانے کی خاطر میری دستاویزات میں بڑوں نے قصداً عمداً چھیڑخانی کرکے میری عمر ایک سال بڑھائی اور تاریخِ پیدایش یکم جنوری 1980ء رقم کی)، اس لیے مجھے محلہ وزیر مال مینگورہ کے 80ء کی دہائی کے آخری تین چار سالوں کے واقعات اور شخصیات اچھی طرح سے یاد ہیں۔ 88ء، 89ء یا اس کے آس پاس محلہ وزیر مال اور محلہ امان اللہ خان مینگورہ کے بیش تر گھر کچے تھے۔ اس لیے موسمِ سرما کے آغاز سے پہلے بازار سے گز کے حساب سے پلاسٹک خریدا جاتا اور اسے گھر کے مختلف کمروں کی چھت پر ڈال کر اس کے اوپر ڈھیر ساری مٹی ڈالی جاتی۔ اس کے بعد ’’بلہ نہ ترور‘‘ کو بلوایا جاتا۔ وہ ایک لگن میں پانی لے کر چھت پر چڑھ جاتیں۔ اپنا دایاں ہاتھ پانی کی مدد سے تر کرکے تازہ مٹی کے اوپر پھیرتی جاتیں۔ اس عمل کے لیے اُردو ادب میں ایک محاورہ مستعمل ہے:’’پُچارا پھیرنا۔‘‘ پتلی لپائی کا یہ عمل خاصا صبر آزما ہوتا۔ تین چار کمروں پر مشتمل گھر اکثر تین چار دنوں میں مکمل ہوتا۔
’’بلہ نہ ترور‘‘ کی مہارت کا جادو 90ء کی دہائی کے آخر تک سر چڑھ کر بولتا رہا۔ پھر مینگورہ شہر کے باسیوں میں مکانات پختہ کرنے کا مقابلہ شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا۔ ’’بلہ نہ ترور‘‘ کنکریٹ کے اس جنگل (مینگورہ) سے کب پردہ کرگئیں اور اب کہاں دفن ہیں؟ اس حوالے سے محلے داروں کو کچھ علم نہیں۔
ایک ضعیف العمر خاتون ’’بانڈئی بی‘‘ (بانڈئی بی بی) کے نام سے محلہ امان اللہ خان میں جداگانہ شہرت رکھتی تھیں۔ وہ کافی دل چسپ خاتون تھیں۔ ہماری عمر اُس وقت بہ مشکل 10 سال ہی ہوتی ہوگی، مگر وہ ہم سے بھی باقاعدہ پردہ کرتی تھیں۔ صوم و صلواۃ کی پابند خاتون تھیں۔ دن کا بیش تر حصہ تلاوتِ قرآنِ پاک کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ محلے کی چھوٹی بڑی لڑکیوں سمیت کم سن و سن رسیدہ خواتین اُن سے ناظرہ پڑھنے آتیں۔ ’’بانڈئی بی‘‘ کا گھر دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک حصے میں وہ خود رہتیں اور دوسرا کرایہ پر چڑھایا رکھا تھا۔ اللہ بخشے، تا دمِ آخر ہمیں اُن کا رُخِ انور دیکھنے کی سعادت نصیب نہ ہوئی۔
اس طرح ایک بڑی عمر کی خاتون اکثر ہمارے گھر دادی (مرحومہ) سے ملنے آتیں، جنھیں ’’کاٹیلئی بی‘‘ کے نام سے پکارا جاتا۔ مینگروال جانتے ہیں کہ ’’کاٹیلئی‘‘، امانکوٹ کا پرانا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذکورہ خاتون ’’کاٹیلئی‘‘ میں پیدا ہوئی تھیں۔
مٹہ، برسوات کے جس گاؤں میں سنہ 1986ء یا 87ء میں میری خالہ کی شادی ہوئی، گوالیرئی کہلاتا ہے۔ میری خالہ کی ساس ’’گوالیرئی ابئی‘‘ کے نام سے مشہور تھیں۔ چھوٹے بڑے سبھی اُسے ’’گوالیرئی ابئی‘‘ ہی کہتے تھے۔ یہ روایت اب بھی کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔ جیسے میری ہم شیرہ کی شادی خالہ زاد سے ہوئی اور وہ گوالیرئی گاؤں میں اپنے بچوں کے ساتھ خوش حال زندگی گزار رہی ہیں۔ سو میرے بھانجے میری ماں، جو اُن کی نانی ہے، کو ’’دَ مینگوری مور‘‘(یعنی مینگورہ شہر والی ماں) اور میری خالہ، جو اُن کی دادی ہے، کو ’’دَ گوالیرئی مور‘‘ (یعنی گوالیرئی گاؤں والی ماں) کے نام سے پکارتے ہیں۔
روایات تبھی دم توڑنے لگتی ہیں، جب یہ ’’آؤٹ ڈیٹڈ‘‘ یعنی غیر متعلق محسوس ہونا شروع ہوں۔ جنریشن زی اور ایلفا ٹک ٹاک کی مختصر ویڈیوز، فیس بک/ انسٹا ریلز اور اس قبیل کے دیگر پلیٹ فارمز پر جس ’’کانٹینٹ کری ایٹر‘‘ (لڑکے یا لڑکی) کا توتی بول رہا ہو، لڑکے لڑکیاں اُس کا نام خود اپنے لیے، اپنے بہن بھائیوں، دیگر رشتے دار لڑکے لڑکیوں یا دوست اور سہیلیوں کے لیے رکھ لیتے ہیں۔ اب ’’غوڑی بی‘‘، ’’بی بی گل‘‘، ’’ورندار بی‘‘، ’’تندار بی‘‘، ’’بانڈئی بی‘‘ اور ’’کاٹیلئی بی‘‘ جیسے ناموں سے اس دور کی کسی لڑکی کو پکار کے دیکھیں، جواب میں سننے کو جو کچھ ملا…… اس کے لیے گناہ گار مجھے مت ٹھہرائیے گا!
شوکت واسطی کا یہ شعر شاید اس وقت میرے سینے میں موجزن جذبات کے لیے موزوں ترین ہے، ملاحظہ ہو:
شوکتؔ ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے