فضل ربی راہیؔ
فضل ربی راہیؔ لفظونہ ٹیم کے سرپرست ہیں۔ سوات کے نامور ادیب، شاعر، صحافی اور نقاد ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ روزنامہ جنگ، نئی بات اور آزادی میں ان کی نگارشات چھپتی رہتی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ کے بہترین لکھاری ہیں۔ اس کے علاوہ شعیب سنز پبلشرز کے نام سے نشر و اشاعت کا ادارہ چلاتے ہیں۔
پاکستانی سیاست کے بجلی گھر
ندیم فاروقی سے میری بالمشافہ ملاقات تاحال نہیں ہوئی، لیکن مَیں اُنھیں ایک صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ قلم لکھاری کی حیثیت سے طویل عرصے سے جانتا ہوں۔ اُن کی تحریروں میں ایک خاص گہرائی، توازن اور فکری وقار جھلکتا ہے۔ جب میرے قریبی دوست ظاہر شاہ نگار نے بتایا کہ ندیم فاروقی کا تعلق ملاکنڈ سے ہے، تو اُن کے مضامین میں میری دل چسپی اور بڑھ گئی۔ اُن کے چند مضامین سوات کے مقامی روزنامہ ’’آزادی‘‘ میں شائع ہوئے ہیں، تاہم وہ پاکستان کے ایک مقبول اور معیاری آن لائن پلیٹ فارم ’’ہم سب‘‘ کے مستقل لکھاری ہیں، جہاں اُن کے کالموں کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ مَیں نے اُن کی بیش تر تحریریں اسی ویب سائٹ پر پڑھیں اور اُن کے اُسلوب اور فکر دونوں سے متاثر ہوا۔
ندیم فاروقی کے مضامین موضوعات کے اعتبار سے متنوع اور فکر کے لحاظ سے عمیق ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف قومی، بل کہ علاقائی اور عالمی حالات و واقعات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ اُن کا طرزِ تحریر مدلل، واضح اور شستہ ہے، جس میں مشاہدے کی گہرائی اور تجزیے کی پختگی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
زیرِ تبصرہ کتابچہ ’’پاکستانی سیاست کے بجلی گھر‘‘ ندیم فاروقی اور ظاہر شاہ نگار کی مشترکہ علمی و فکری کاوش کا ثمر ہے۔ ندیم فاروقی سے تو میرا تعارف اُن کے مضامین کے ذریعے ہے، مگر ظاہر شاہ نگار میرے نہایت قریبی دوست ہیں۔ ہمارا تعلق دو دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے۔ اگر روزانہ نہیں تو ہفتے میں دو تین بار ہماری فون پر بات ضرور ہوتی ہے۔ ہم برطانیہ میں ایک ہی ادارے میں ساتھ کام کر چکے ہیں، اور ہماری رفاقت وقت کے ساتھ خاندانی دوستی میں بدل چکی ہے۔
مَیں نے اپنی زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جو بہ یک وقت متعدد ذمے داریاں خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہوں، اور ظاہر شاہ نگار اُن ہی میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ مُثبت، تعمیری اور نتیجہ خیز سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں۔ اُن کا بنیادی شعبہ اکاؤنٹس ہے ، اور وہ ایک ماہر اور دیانت دار اکاؤنٹینٹ کے طور پر اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک مترجم (Interpreter) کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔ اُنھوں نے سیکورٹی آفیسر اور برطانیہ کے سول سروسز میں بہ طور انتظامی آفیسر بھی خدمات سرانجام دی ہیں۔
ظاہر شاہ نگار نہ صرف ایک سرگرم لکھاری ہیں، بل کہ سوشل میڈیا پر مختلف علمی و سماجی موضوعات پر معلوماتی ویڈیوز بھی شیئر کرتے ہیں۔ آج کل وہ مختلف ممالک کے دوروں پر ہیں اور اپنے تجربات کو سفرنامے کی صورت میں قلم بند کر رہے ہیں۔ اُن کی زندگی کی سب سے بڑی ترجیح اپنے بچوں کی اعلا تعلیم اور بہترین تربیت رہی ہے، اور وہ اس فریضے کو احسن انداز میں انجام دے چکے ہیں۔ اُن کے دو بیٹے اور دو ہی بیٹیاں ڈاکٹر ہیں۔ اُن میں ایک بیٹی فارماسسٹ کے طور پر ایک معیاری ادارے سے وابستہ ہے، لیکن ’’یو کے‘‘ کے معیار کے مطابق ایک خاص کورس پاس کرکے وہ بھی ڈاکٹر کے فرائض انجام دے سکتی ہے،جب کہ تیسری بیٹی نے کمپیوٹر سائنس میں اعلا ڈگری حاصل کی ہے۔ یوں ظاہر شاہ نگار نے مغربی دنیا میں رہتے ہوئے اپنی اولاد کو اعلا تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے ایک مثالی والد ہونے کا حق ادا کیا ہے۔
ظاہر شاہ کے کالم سوات کے روزنامہ ’’آزادی‘‘ کے علاوہ ’’ہم سب‘‘ میں بھی شائع ہوتے ہیں، اور اُنھوں نے نہایت کم عرصے میں اپنی ایک مضبوط ریڈر شپ قائم کی ہے۔ اُن کی تحریروں میں تاریخ، مشاہدہ، تجزیہ اور دلیل کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ عموماً اپنے آبائی علاقے کے مسائل پر لکھتے ہیں اور بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی اپنے قلم کے ذریعے اپنے لوگوں کی آواز بلند کرتے ہیں۔ اپنی جنم بھومی سے اُن کی والہانہ محبت اُن کے ہر مضمون سے جھلکتی ہے۔ یہی محبت اُنھیں اپنے علاقے کے عوام سے جوڑے رکھتی ہے، اور جب وہ پاکستان جاتے ہیں، تو اُن سے ملاقات کے لیے لوگوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔
’’پاکستانی سیاست کے بجلی گھر‘‘ اگرچہ ایک مختصر تصنیف ہے، لیکن اس میں پاکستان کی سیاست کے نشیب و فراز، ریاستی اداروں کے کردار اور سیاست دانوں کی موقع پرستی کا تجزیہ نہایت سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مصنفین نے مختلف سیاسی ادوار کا تاریخی تسلسل اور پس منظر اس انداز سے بیان کیا ہے کہ قاری کو نہ صرف مطالعے کا لطف آتا ہے، بل کہ سیاسی حرکیات کے اندرونی پہلوؤں کی بہتر تفہیم بھی حاصل ہوتی ہے۔
کتاب کا عنوان بہ ذاتِ خود ایک بامعنی استعارہ ہے۔ ’’بجلی گھر‘‘ دراصل پاکستان کی سیاست کی اُس طاقت کے مرکز کو ظاہر کرتا ہے، جس کے بغیر کوئی چراغ نہیں جلتا۔ مصنفین نے طنز و مزاح اور سنجیدہ تجزیے کے امتزاج سے اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں کے باہمی تعلقات کو نہایت فن کارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کا اُسلوب نرم مگر کاٹ دار طنز، شایستہ مزاح اور عمیق بصیرت کا حسین سنگم ہے۔
پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کل کیا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہے۔ تاہم، سیاست دان کب اور کیوں اپنا نظریہ، موقف یا قبلہ بدل لیتے ہیں…… یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ جب کسی سیاسی جماعت یا راہ نما کو اسٹیبلشمنٹ کی تائید حاصل ہو جاتی ہے، تو اقتدار اُس کے قدموں میں ہوتا ہے، اور جب وہ اپنے مخصوص نظریے پر قائم رہنے کی کوشش کرے، تو اقتدار اس سے بہ یک جنبشِ قلم چھین لیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں میاں نواز شریف اور عمران خان کی مثالیں اس تصور کو تقویت دیتی ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ قارئین کو یہ کتابچہ نہ صرف معلوماتی اور تجزیاتی طور پر مفید محسوس ہوگا، بل کہ اس کے مطالعے سے اُنھیں پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو سمجھنے میں بھی ایک نیا زاویۂ نظر حاصل ہوگا۔ مَیں ندیم فاروقی اور ظاہر شاہ نگار کی اس فکری و ادبی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ وہ علم و قلم کے سفر میں اسی طرح آگے بڑھتے رہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
فضل ربی راہیؔ
ویڈیو گیلری
مزید
گراسی گراونڈ او کہ ترکولی….؟
خوشالی زان لہ پہ خپلہ ورکوہ (پس منظر)
د مسئلو ڈکہ د مینگوری سبزی منڈائی
د مینگوری مشہور بارگین (چور بازار)
د مینگوری خوڑ د سخا والی ذمہ وار سوک دے؟
ملا بابا سکول او د حکومت وقت بے حسی
متعلقہ پوسٹس
’’کیس نمبر 9‘‘، اردو ادب کی مقصدی روایت کا احیا
خدمت کی سیاست کا روشن چہرہ… مفتی فضل غفور
تجزیۂ سیارہ اور تخلیق کا داخلی کرب
ڈاکٹر شیبر میاں کی یاد میں
مانسہرہ کے ایدھی، وقاص خان