توار کی شام 6 بج کر 40 منٹ پر اسٹریلوی شہر سڈنی کے ساحلی مقام بونڈئی پر ’’حنوکا‘‘ یا ’’ہنوکا‘‘ مذہبی تہوار منانے والے یہودیوں پر دو حملہ آور باپ بیٹے، ساجد اور نوید، کی اندھا دھند فائرنگ سے 16 افراد ہلاک اور 40کے قریب زخمی ہوئے۔
حملے کی خبر سامنے آتے ہی اسرائیل اور ہندوستان نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا اور حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے جوڑنے لگے۔ اس طرح پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے پہلگام میں فالس فلیگ کا ڈراما رچایا گیا۔
بعد میں تحقیقات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ حملہ آوروں میں باپ، ساجد، کا تعلق ہندوستان سے تھا، جب کہ بیٹا نوید اسٹریلوی ہندوستانی نژاد تھا۔ دونوں کے تعلق کو داعش سے جوڑا جاتا ہے۔
قارئین! یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ آج کا ہندوستان دنیا کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے اسی ملک نے کینیڈا میں سکھ راہ نما کو قتل کیا۔ امریکہ میں سکھ راہ نما کے قتل کی سازش کی۔ پاکستان میں بھی اپنی خفیہ ایجنسیوں کے تخریب کار بھیجے ہوئے ہیں، جو آئے دن لوگوں کو ٹارگٹ کر کے قتل کر رہے ہیں۔ اب اس نے آسٹریلیا میں تخریب کاری کا آغاز کر دیا ہے۔
ہندوستان یہ سب کچھ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اور اپنی سرحدوں کے اندر جاری آزادی کی تحریکوں سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ ہندوستان میں متعدد صوبوں میں آزادی کی تحریکیں زوروں پر ہیں۔ اُن تحریکوں میں ’’ناگالینڈ‘‘، ’’آسام‘‘، ’’منی پور‘‘، ’’اروناچل‘‘، ’’تری پورہ‘‘، سکھوں کی ’’خالصتان‘‘ اور ’’میزورم‘‘ سرِفہرست ہیں۔
ناگالینڈ میں ناگا نامی جنگ جو قبیلہ وہاں آزادی کے لیے لڑ رہا ہے۔ 1950ء میں آزادی پسند تحریک ’’ناگا نیشنل کونسل‘‘ نے بغاوت کر دی تھی۔ اُس وقت ’’نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ‘‘ آزادی کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
اس طرح آسام میں ’’یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام‘‘، جو آسام کو ہندوستان سے آزاد کرانا چاہتی ہے، 1990ء میں ہندوستان کی جانب سے پابندی کا شکار بنی۔ آج بھی ان علاحدگی پسندوں کے خلاف بھارتی فوجی آپریشن جاری ہے۔ آسام میں فوجی آپریشن کے دوران میں 10 ہزار علاحدگی پسند مارے گئے، لیکن اُنھوں نے ہتھیار نہیں ڈالے ۔
مسلم اکثریتی آبادی کی وجہ سے مسلم آزادی پسند تحریک، ’’مسلم یونائیٹڈ لبریشن ٹائیگرز‘‘ نامی تنظیم، 1996ء سے وہاں سرگرمِ عمل ہے اور وہ آسام کو مسلمانوں کا آزاد ملک بنانا چاہتی ہے۔ ’’یونائیٹڈ پیپلز ڈیموکریٹ سالیڈیریٹی‘‘ نامی عسکری تنظیم آسام کو ایک خودمختار ریاست بنانے کے لیے لڑ رہی ہے۔
منی پور، جس کی حدود برما (میانمار) تک پھیلی ہوئی ہیں، کبھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا، بل کہ انگریزوں نے اس پر قبضہ کرکے ہندوستان میں شامل کیا تھا۔ منی پور میں آزاد جمہوریہ منی پور تحریک سمیت دیگر تنظیمیں آزادی کے لیے لڑ رہی ہیں، جب کہ پیپلز لبریشن آرمی بھی 1978ء سے اس جنگ میں شامل ہوچکی ہے۔
اروناچل، جو جنوبی تبت کا متنازع علاقہ ہے اور جس پر چین نے باقاعدہ دعوا کر رکھا ہے، وہاں ’’ایسٹ انڈیا لبریشن فرنٹ‘‘ نامی تنظیم آزادی کی تحریک چلا رہی ہے۔ اس سیاسی تنظیم کے علاوہ ’’ہجونگ چکاہوم لینڈ‘‘ یا ’’ہجونگ چکما ہوم لینڈ‘‘ اروناچل کو آزاد ریاست بنانا چاہتی ہے۔
1989ء سے تری پور میں ’’نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پور‘‘ نامی جنگ جو تنظیم منی پور کو ’’خداوند اور یسوع مسیح‘‘ کی آزاد ریاست بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ کیوں کہ یہاں عیسائی آبادی کی اکثریت ہے۔ 1978ء سے قائم ’’میزو نیشنل فرنٹ‘‘، ’’تری پور نیشنل والنٹیئر فرنٹ‘‘ اور 1990ء میں قائم ہونے والی ’’تری پور ٹائیگر فورس‘‘ بھی آزادی کے لیے لڑ رہی ہیں۔
مشرقی پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور شمالی اضلاع سری گنگا نگر اور ہنومان گڑھ پر مشتمل آزاد سکھ ریاست بنانے کی خالصتان تحریک ہندوستان کے لیے مستقل دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ 1970ء سے خالصتان تحریک کے عروج کا آغاز ہوا، تو 1984ء میں وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) پر فوج کشی کرکے سکھ راہ نما بھنڈرانوالہ کو ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا، جو گولڈن ٹیمپل میں مورچہ زن تھے۔ اس حملے کے ردِ عمل میں سکھوں نے اندرا گاندھی کو قتل کر دیا۔
میزورم میں ہمر، چکا، رینگر، لائس اور بروس قبائل ’’میزورم نیشنل فرنٹ‘‘ کی صورت میں آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس طرح تامل ناڈو میں بھی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اندرونی معاملات درست کرتا، لیکن اس کے برعکس وہ بیرونی ممالک میں تخریب کاری پر زیادہ توجہ دے رہا ہے، جو دنیا کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ہندوستان کا یہ طرزِ عمل انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اپنے ہی ملک میں خود تخریب کاری سے بھی باز نہیں آتا، اور اگر دنیا میں کہیں بھی کوئی واقعہ ہو جائے، تو بغیر ثبوت کے اس کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرانے کا پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ دنیا ہندوستان جیسے بدمست ہاتھی کو لگام دینے کے لیے اس کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان تو ایک طرف، ہندوستان پوری دنیا کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










