ایک منظر میں ٹرکوں میں سامان رکھا جا رہا ہے، اور اس کے آس پاس بچے بچیاں حسرت و یاس کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔
دوسرے منظر میں کئی ایک لوگ اپنے گھروں کو اُجاڑ رہے ہیں۔ مٹی کی دیواریں گرائی جا رہی ہیں اور آبادی میں لگی قیمتی چیزوں کو الگ کیا جا رہا ہے۔ گرد و غبار اُڑ رہا ہے اور ارد گرد موجود لوگوں کے چہروں پر بے بسی کے آثار نمایاں ہیں۔
تیسرے منظر میں بچیاں اسکول جاتی ہیں، مگر اسکول حکومت نے بند کر دیے ہیں۔ یوں مجبور بچیاں پھر گھر کا راستہ لے لیتی ہیں۔
چوتھے منظر میں واپڈا والے بجلی کے کنکشن کاٹ رہے ہیں اور پاس کھڑے ہجوم کے پاس سوائے بے بسی اور مجبوری کے کچھ نہیں۔
پانچواں منظر بہت جذباتی ہے۔ سرکاری اسکول سے بچے الوداعی ملاقاتوں میں اساتذہ کے ساتھ لپٹ لپٹ کر رو رہے ہیں۔ ساتھ ہی اساتذہ بھی جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہیں اور دو طرفہ بہتے آنسوؤں میں ایک پوری کہانی بیان کی جاتی ہے۔
ان مناظر کے علاوہ ایک اور منظر بھی ہے، جس میں سالوں سے ٹھہرے ہوئے مہمان، اپنے میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا منظر بھی ہے کہ میزبان اپنے ہاں سے جانے والے مہمانوں کے گلے لگ کر زاو و قطار رو رہے ہیں، اور اس بات پر خود کو تسلی دیتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ریاست کی پالیسی نہ ہوتی، تو 50 سالوں سے جاری میزبانی اور مہمانی کا یہ خوب صورت سلسلہ جاری رہتا۔
یہ سب مناظر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر نظر آئے۔ یوں جذبات کو حقائق کے ساتھ ملا کے ایک پُراثر ماحول ترتیب دیا گیا ہے۔ پاکستان میں یہ کہانی بلاشبہ افغانیوں کی اپنے وطن واپسی تک محدود ہے، مگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے، تو دنیا بھر میں مہاجرت سے جڑی اس قسم کی کہانیاں عام ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہاجر مسلمان ہیں۔ مہاجرت کی بہت ساری وجوہات اور اسباب ہیں، مگر سب سے زیادہ جنگیں چھڑنے والے ہی اس کے لیے قصور وار ہیں۔ افغانستان، شام، لیبیا، عراق، لبنان، فلسطین، یمن، ایران، سوڈان اور دیگر مسلمان ممالک سے اکثر و بیش تر لوگوں نے جنگوں ہی کی وجہ سے مہاجرت اختیار کرلی ہے۔ اُن میں سے زیادہ تر لوگ غیر مسلم ممالک میں منتقل ہوئے ہیں اور وہاں ایک خاص وقت تک قانون کے تحت رہ کر سکونتی حقوق کے مالک بن گئے ہیں۔ برخلاف اس کے ، مسلمان ممالک میں عموماً مہاجرین کو سکونتی حقوق میسر نہیں ہیں۔
اُردن میں لاکھوں فلسطینی مہاجرین آباد ہیں، مگر شہری حقوق تو کیا، اُردن حکومت نے ایک بار اُن کو فوجی کارروائی کے ذریعے مارا بھی تھا۔ اسی طرح بہاری ایک قوم ہے، جس کا کچھ حصہ بنگلہ دیش، جب کہ کچھ حصہ پاکستان میں آباد ہے۔ یہ لوگ سنہ 71ء کی جنگ میں پاکستان فوج کے سخت حمایتی تھے اور یہی اُن کا اکلوتا قصور ہے۔ اسی وجہ سے بنگلہ دیش میں اُن کو پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے اور ’’کاکس‘‘ کے نام سے آباد ایک گنجان کیمپ میں بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن ڈھاکہ حکومت ان بہاریوں کو ملکی شناخت اور شہری حقوق نہیں دے رہی۔ اسی طرح پاکستان میں موجود بہاریوں کے ساتھ بھی کچھ مساویانہ سلوک نہیں کیا جا رہا۔اس طرح ایران میں اگر دیکھا جائے، تو وہاں بھی افغان مہاجرین کو مسلسل کیمپوں میں رکھا گیا ہے اور اب وہاں سے بھی افغانیوں کا انخلا جاری ہے۔
زیرِ بحث موضوع یہ نہیں کہ پاکستان کو افغانیوں کو شہریت دینی چاہیے یا نہیں، کیوں کہ یہ ہر ریاست کا صواب دیدی فیصلہ ہے ، اور اس فیصلے پر سوال اٹھانا لایعنی عمل ہے۔ پاکستان میں جذباتی لوگوں نے ماحول ایسا بنایا ہے، گویا افغانستان کی ساری مشکلات پاکستان کے سبب ہیں۔ اس لیے پاکستان میں 50 سالوں سے رہایش پذیر مہاجرین کو شہریت دینی چاہیے۔ یہ خواہش تو ہوسکتی ہے، مگر ریاستی فیصلوں سے مضبوط عمل نہیں اور جیسا کہ عرض کیا گیا کہ ریاستی فیصلے اس ضمن میں بے رحم ہوتے ہیں۔
حقائق نے ثابت کیا ہے کہ افغانستان کے مسائل کے لیے کلی طور پر پاکستان ذمے دار نہیں۔ زیادہ حصہ خود افغانیوں کا بھی اس میں یک ساں ذمے دار ہے۔ ہر دور میں اُنھوں نے اپنے ملک سے بھاگنے میں عافیت جانی ہے اور اب بھی وہاں سے نکلنے کو جنت کی ٹکٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
سو اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سے مہاجروں کا انخلا یقینا جذباتی اور مشکل مرحلہ ہے، کیوں کہ 50 سال کہیں گزارنا اور پھر وہاں سے سب کچھ سمیٹ کر واپس کہیں اور منتقل ہونا، مہاجرت در مہاجرت کا یہ سلسلہ بہت اندوہ ناک عمل ہے…… لیکن بالکل اسی طرح کا معاملہ تو ایران سے بھی جاری ہے۔ روزانہ ہزاروں مہاجرین ایران سے واپس افغانستان آ رہے ہیں، لیکن جو ماحول پاکستان میں بنایا جا رہا ہے، ایسا کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا عرض یہ ہے کہ مہاجرت کا سہارا لے کر جذبات کو ہیجان انگیز نہ بنایا جائے۔ افغانی ہمارے بھائی ہیں۔ اُن کا ایک طویل وقت یہاں گزرا ہے۔ اچھے برے ہم میں بھی موجود ہیں اور اُن میں بھی۔ اب جب وہ جا رہے ہیں، تو خوش اُسلوبی کے ساتھ اُن کو رخصت کیا جائے اور کوئی ایسا جذباتی منظر تشکیل نہ دیا جائے کہ الوداعی منظر کہیں نفرت اور منفی ردِ عمل میں بدل جائے۔ مہاجرت ایک مشکل کام ہے۔ خدا تمام مہاجروں کی مشکلات آسان فرمائے ۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










