کشور ناہید نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ محلے اور برادری کی محبتیں اور تعلق، اس ’’ڈیپ فریزر‘‘ نے برباد کردیا ہے۔ وہ ایسے کہ گھر میں کھانا زیادہ پک جاتا، شادی بیاہ کی دیگ اضافی ہوجاتی، یا قربانی کا گوشت، تو وہ پہلے برادری کے نام پر تقسیم کیا جاتا یا پھر اِس خوف سے تقسیم کردیا جاتا کہ گھر میں رکھا تو خراب ہوجائے گا۔ اب بھلا ہو ڈیپ فریزر کا، جس کی وجہ سے نہ صرف کھانا، بل کہ تعلقات بھی فریزڈ ہوگئے۔ سوال ڈیپ فریزر کا نہیں، بل کہ جدت کے آنے سے انسانی رشتوں میں دوری اور وہ خلا ہے، جس کا توڑ انسان نہیں ڈھونڈ پا رہا۔
وجودی فلسفیوں کے نزدیک اس بیگانگی کے اور معنی ہیں۔ ان کے ہاں جب ایک انسان اپنا "Authentic Self” کھوتا ہے، تو وہ بیگانگی کا شکار ہوتا ہے۔ سارتر کا "Bad Faith” یا پھر البرٹ کامیو کی "Absurdity” کہیں نہ کہیں بیگانگی سے جڑی ہے۔
کارل مارکس نے بیگانگی کے مختلف زاویے پیش کیے ہیں، جس میں انسان کی انسان سے، فرد کی سماج سے، سماج کی فرد سے اور سب سے بڑھ کر انسان کی خود اپنی ذات سے بیگانگی۔
کچھ مذہبی اور لبرل حضرات کے ہاں انسان کی بیگانگی اُس کی لالچ اور خود غرضی کی وجہ سے ہے، جو کہ غلط بیانی پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد سرمایہ دار معاشرے میں انسان کے استحصال اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی بیگانگی کو چھپانا ہے۔ ہاں اس استحصالی نظام کے دفاع میں مولوی اور لبرل بالکل ایک ہی جیسا کردار ادا کر رہے ہیں۔
مارکس کے بہ قول انسان کی بیگانگی کی مختلف لہریں ہیں۔ پہلے انسان (مزدور) جو چیز بناتا ہے، اُس سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ وہ جو بناتا ہے، وہ اُس کا نہیں ہوتا۔ پھر مزدور اس پراسس سے بے زار ہوجاتا ہے اور وہ خود کو صرف ایک ذریعۂ پیداوار تسلیم کرتا ہے۔ اس بیگانگی کی وجہ سے انسان اپنی تخلیقی صلاحیتیں کھو دیتا ہے…… اور آخر میں انسان، دوسرے انسانوں سے الگ تھلگ اور بے زار ہوجاتا ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام میں انسان اس طرح کی بیگانگی کا شکار ہوتا ہے۔
پاکستان میں یے بیگانگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ’’نیشنل سائیکاٹری سروے آف پاکستان‘‘ کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نفسیاتیبیماریوں کی شرح 37 فی صد ہے۔ اس بڑھتی شرح کی وجہ انسان کی انسان سے دوری ہے۔
80ء کی دہائی میں پی ٹی وی ڈراما ’’وارث‘‘ کے لیے بازار بند ہوتے تھے اور محلے دار ایک جگہ بیٹھ کر اُسے دیکھتے تھے۔ کیوں کہ ہر کسی کے گھر ٹی وی نہیں ہوتا تھا…… لیکن آج ہماری انفرادیت جو کہ بڑھ رہی ہے، اس سے بھی خوف ناک ہماری جمالیت اور ذوق کی گراوٹ ہے۔
آج ہم سنیما نہیں جاتے، بل کہ فون ہی سنیما ہے۔ اگر سنیما سے فحاشی پھیلتی ہے، تو یہ فحاشی 60ء اور 70ء کی دہائی میں کیوں نہیں تھی؟
آج ہمارے فون ہمارا سنیما ہے، جو یہ بتانے سے عاری ہے کہ ذوق کیا ہوتا ہے؟ بچے میدانوں میں کھیلنے کی بہ جائے موبائل فون پر کھیلتے ہیں۔ والدین فیس بُک کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، جب کہ بچے ٹِک ٹاک کو ترجیح دیتے ہیں۔ والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں ہوتا، جب یہی بچے بڑے ہوجائیں، تو والدین کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کے بہ جائے اپنی گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔ یہ ساری صورتِ حال واضح کرتا ہے کہ ہم اندر سے خالی پن اور بیگانگی کا شکار ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










