ولیم شیکسپیئر کے بہ قول: ’’موسیقی روح کی غذا ہے۔‘‘
اور مَیں سمجھتا ہوں کہ موسیقی روح کی آواز ہے۔ یہ وحشتوں کا راستہ روکتی ہے۔ سخت دل کو نرم کرتی ہے۔
موسیقی ایک طرح سے انسان کے سینے میں پکنے والے جذبات کے لاوے کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ تو محبت کے اظہار کا نام ہے۔ یہ انسانوں کو تفریق کی دنیا سے دور لے جاکے محبت سے جوڑتی ہے۔ یہ سفر کرتی ہے، فاصلے طے کرتی ہے۔ یہ رنگ، نسل، روایات، اونچ نیچ اور سماجی بندشوں سے ہوکے جب انسان تک پہنچتی ہے، تو روح کی تھکن اُتارنے کا سامان کرتی ہے۔
جس طرح کتاب اپنے پڑھنے والے کا انتخاب خود کرتی ہے، ٹھیک اُسی طرح موسیقی بھی اپنے سننے والے کے انتخاب میں خودمختار ہے۔
جب تک ساز بجتا رہے گا، فرد کا انسان بننے کا سفر جاری رہے گا۔ جب تک موسیقی کا چراغ روشن رہے گا، تب تک متشدد رویوں اور وحشت میں کمی آتی جائے گی اورایک روز یہ ماضی کا قصہ بن کر رہ جائیں گے۔ پھر کوئی دادا دادی اپنے پوتوں پوتیوں کو متشدد رویوں اور وحشت زدہ ماحول کی کہانی سنائیں گے، تو پوتے پوتیاں دیدے پھاڑ کے ان کو سنتے جائیں گے اور رات بھر سوچتے رہیں گے کہ یہ بھلا کیسے لوگ تھے، جو زندگی کے خلاف تھے۔
سوات میں واقع ہونے والے حالیہ واقعات کو دیکھ کر مَیں تو کہتا ہوں کہ شاید ہم وہ دن دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہیں، لیکن اپنے جیتے جی یہ محسوس اور باقاعدہ تجرباتی دور سے گزر رہا ہوں کہ جو لوگ موسیقی سنتے ہیں، اس سے رغبت رکھتے ہیں، تو ایسے بیش تر افراد فطرت کے قریب ہوتے ہیں اور زندگی کی باریکیوں کا باریکی سے مشاہدہ کرتے ہیں ۔
یہ بھی میرا ذاتی مشاہدہ ہی ہے کہ جو لوگ موسیقی سے دور ہوتے ہیں، اکثر متشدد رویہ رکھتے ہیں، مرنے مارنے کی باتیں کرتے ہیں، گفت گو میں ادب کو ملحوظ نہیں رکھتے،بسا اوقات دہشت پھیلانے کا سبب بھی بن جاتے ہیں، القصہ…… خود جیتے ہیں، نہ دوسروں کو جیتا دیکھ کے برداشت ہی کرتے ہیں۔
ہمارا سوات بھی کبھی ساز اور سروں کا مسکن تھا۔ یہاں محبت کے نغمے دریائے سوات کی لہروں کی طرح بہتے تھے۔ سوات مذہبی رواداری اور امن کا گہوارہ تھا۔ یہاں ریاستی دور میں مینگورہ شہر کے وسط میں موضع ’’بنڑ‘‘ ہی کی مثال لے لیں، جو ایک طرح سے ثقافتی مرکز تھا۔ ’’بنڑ‘‘ آج تلک ریاستِ سوات کے والی کی روشن فکری کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ پھر ادغام کے بعد انکل سام کے ایما پر سرخ ریچھ کے ناخن کاٹنے اور تیز دانت کھٹے کرنے کے لیے پورے پشتون بلٹ (بہ شمول سابقہ ریاستِ سوات) میں پرائی آگ میں پُر امن عوام کو جھونک دیا گیا۔ بہ قول خواجہ آصف، جو آگ ہم نے انکل سام کو خوش کرنے کے لیے پڑوسیوں کے گھر میں لگائی، اس کے شعلے اب ہماری دہلیز پر بھڑک رہے ہیں۔
’’ڈالری جنگ‘‘ میں وادیِ سوات کو باقاعدہ خون میں نہلایا گیا…… اور مذکورہ جنگ لڑنے والوں کے لیے بعض لوگوں نے باقاعدہ سہولت کاری کی، فتوے دیے، چندہ اکٹھا کیا اور معصوم انسانوں کے گلوں پر چھری پھیرنے والوں کو مجاہدِ اسلام ثابت کرنے کی باقاعدہ کوششیں کی گئیں۔
لیکن تاریخ ’’کے ایف سی‘‘ (KFC) کی بلڈنگ تھوڑی ہے، جس کے خلاف آپ احتجاج کریں اور ایک پرشکوہ عمارت کو برقعہ پہناکر باپردہ کیا جائے۔
تاریخ تو وہ مظلوم خواجہ سرا بھی نہیں، جنھیں ضلع بدر کرنے کے لیے عام عوام کو بھڑکایا جائے اور انھیں دھمکیاں دے کر ان کا بوریا بستر گول کیا جائے۔ یہ الگ بات کہ مذکورہ خواجہ سراؤں کا حال ہم میں سے کس نے پوچھنے کی زحمت اٹھائی، کس نے ایک بے بس و لاچار خواجہ سرا کو دو وقت کی روٹی کمانے کی خاطر روزگار دیا۔ کیا پیدا کرنے والا اس بارے میں ہم سے نہیں پوچھے گا؟
یاد رکھیں کہ تاریخ مرغِ باد نما نہیں، اس کا حافظہ ہماری طرح نہیں کہ خود پر ہر گزرتی قیامت کو چند مہینوں میں بھول جاتے ہیں، بل کہ تاریخ سب کچھ یاد رکھتی ہے۔ اچھے برے،صحیح غلط ہر چیز کا تعین تاریخ خود کرتی ہے اور اُن تمام کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے، جو اپنے مفاد یا اتھارٹی قائم رکھنے کے لیے انتہائی قدم اٹھانے تک سے نہیں کتراتے۔
تاریخ ضمیر فروشوں اور ضمیر کے قیدیوں میں امتیاز کرنے کے لیے ’’لٹمس پیپر‘‘ کا کام کرتی ہے۔
قارئین! سوات کے سینئر صحافی فیاض ظفر میں کئی خامیاں ہوں گی، وہ انسان ہے، آسمان سے اترا فرشتہ نہیں، مگر ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ ضمیر فروش نہیں، بل کہ ضمیر کے قیدی ہیں۔ وہ اس مٹی کے بہادر سپوت اور محسن ہیں۔
فیاض ظفر وہ دور بھی دیکھ چکے ہیں، جب سوات امن و آشتی کا گہوارہ تھا اور پھر جب اس وادی کو خون میں نہلایا جارہا تھا، تو وہ اُس عمل کے بھی گواہ ہیں۔
فیاض ظفر کی رگوں میں سوات کی محبت دوڑتی ہے، اور وہ ہر اُس شخص سے کھل کر نفرت کا اظہار کرتے ہیں، جو اُن کی دانست میں سوات کے باشندوں یا سوات کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو۔
اہلِ سوات گواہ ہیں کہ بہ ظاہر کم زور اور سہارا لے کر چلنے والے انسان سے فرعونِ وقت کی سوات کی طرف اُٹھنے والی میلی نظر تک برداشت نہیں ہوئی اور سینہ تان کے کھڑے ہوئے۔ یہ ایک طرح سے اُن کی سوات سے محبت کا اظہار ہے۔
فیاض ظفر سوات کے اُن گنے چنے لوگوں میں سے ہیں، جو سُر اور ساز کی اہمیت اور ضرورت سے واقف ہیں۔ اُنھیں بہ خوبی علمہے کہ یہ خطہ دہشت گردی کی آگ میں بری طرح جھلس چکا ہے۔ اب اس خطے کو سُر اور ساز کی اتنی ہی ضرورت ہے، جتنی ایک زخم کے لیے مرہم کی ضرورت ہوتی ہے۔
خدارا! ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے فلسفے کے قائل اس انسان کو خوشی کے چند پل محسوس کرنے دیں۔ کیوں کہ وہ اُس وقت کے چشم دید گواہ ہیں، جب رباب کی تاریں ٹوٹ چکی تھیں، ہارمونیم خون آلود تھا، بانسری توڑ دی گئی تھی اور ہر اُس گلے کو دبوچ لیا گیا تھا، جس سے ٹپے کے لیے ’’یا قربان……!‘‘ کی آواز نکلا کرتی۔
فیاض ظفر جانتے ہیں کہ یہ خطہ اب بھی ’’جنگی صدمے‘‘ (War Trauma) سے گزر رہا ہے اور اس صدمے سے نکلنے کے لیے برداشت، مکالمے، موسیقی، کتاب اور مدلل گفت گو کی اشد ضرورت ہے۔
خدا ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے محسنوں کی قدر کرناسیکھیں اور یہ سمجھ سکیں کہ آپس کی لڑائی میں فائدہ ہمیشہ ’’لڑانے والا‘‘ اٹھاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










