بدلتی دنیا میں اطلاعاتی ذمے داریاں

Blogger Hilal Danish

قارئین! دنیا بدل رہی ہے …… اور بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ کل تک خبر کا ذریعہ ایک اخبار، ایک ریڈیو اور چند مخصوص ٹی وی چینل تھے۔ خبر کے آنے تک کئی گھنٹے گزر جاتے…… لیکن آج کی دنیا میں خبر سوشل میڈیا کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ لمحوں میں ایک ویڈیو وائرل، سیکنڈوں میں ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ اور چند منٹوں میں رائے عامہ کا رُخ بدل دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اداروں، تنظیموں، جماعتوں اور حکومتی ڈھانچوں میں دو کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں: ایک سوشل میڈیا کوآرڈی نیٹر اور دوسرا سیکرٹری اطلاعات/ ترجمان۔
مذکورہ دونوں کردار بہ ظاہر ایک جیسے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں دونوں کی ذمے داریاں، طریقۂ کار، دائرۂ اثر اور ترجیحی اُمور ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں۔ آج کے اس کالم میں ہم ان دونوں کرداروں کا تفصیلی اور غیر جانب دارانہ تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔
٭ سوشل میڈیا کوآرڈی نیٹر، ڈیجیٹل محاذ کا سپاہی:۔ سوشل میڈیا کوآرڈی نیٹر کا کردار محض پوسٹ کرنے تک محدود نہیں رہا۔ یہ فرد کسی ادارے کی ڈیجیٹل شناخت، ورچوئل ساکھ، آن لائن اثر و رسوخ اور عوامی رابطے کا بنیادی چہرہ بن چکا ہے۔ وہ زمانہ گزر گیا جب سوشل میڈیا چند نوجوانوں کا شوق سمجھا جاتا تھا۔ آج یہ باقاعدہ سائنسی بنیادوں پر بنایا گیا نظام ہے، جس میں ڈیٹا اینالسز، مواد کی منصوبہ بندی، ٹرینڈ مینجمنٹ، عوامی تاثر کا مطالعہ اور بحرانوں کے دوران میں فوری ردِعمل شامل ہے۔
٭ سوشل میڈیا کوآرڈی نیٹر کی اہم ذمے داریاں:۔ نقلی یا غیر سنجیدہ دعوؤں کے برعکس، سوشل میڈیا کوآرڈی نیٹر کو درجِ ذیل ذمے داریاں ادا کرنا پڑتی ہیں:
1) ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی پیشہ ورانہ مینجمنٹ:۔ ہر پلیٹ فارم کی الگ نفسیات، الگ ٹون اور الگ زبان ہوتی ہے۔ مثلاً: ٹوئٹر پر تیز الفاظ، فیس بُک پر تفصیلی پوسٹس، انسٹاگرام پر بصری مواد، جب کہ یوٹیوب پر جامع ویڈیوز کی مانگ ہوتی ہے۔ ایک کوآرڈی نیٹر ان تمام پلیٹ فارمز کو منظم انداز میں چلاتا ہے۔
2) مواد کی تخلیق اور حکمتِ عملی:۔ ایک موثر سوشل میڈیا کے پیچھے گرافکس ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، کہانی ترتیب دینے، اسکرپٹ لکھنے اور پوسٹ کی ٹائمنگ جیسے عناصر کارفرما ہوتے ہیں۔ ایک اچھا کوآرڈی نیٹر توجہ کھینچنے والا مواد تیار کرتا ہے۔
3) آن لائن کیمپین اور ٹرینڈ مینجمنٹ:۔ سیاست ہو، کاروبار ہو، یا کسی سماجی تنظیم کی مہم، سب کی کام یابی سوشل میڈیا کی حکمتِ عملی پر منحصر ہے۔ ہیش ٹیگ ٹرینڈ، لائیو سیشنز، وائرل ویڈیوزسب زیرِ انتظام ہوتے ہیں۔
4) عوامی رابطہ اور فوری رسپانس:۔ سوشل میڈیا پر سوال دیر سے جواب دینے پر تنقید میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کوآرڈی نیٹر کو تیزی سے جواب دینا، شکایات حل کرنا اور غلط فہمی کو بروقت دور کرنا پڑتی ہے۔
5) ڈیٹا اینالیسز اور ریسرچ:۔ ہر پوسٹ، ہر ویڈیو اور ہر اشتہار کا تجزیہ ہوتا ہے۔ کتنے لوگوں نے دیکھا، کیوں پسند کیا، کیوں نہیں پھیلا، کون سا مواد بہتر رہا……؟ یہ سب سوشل میڈیا کوآرڈی نیٹر کی ذمے داری ہے۔
6) بحرانوں کا انتظام:۔ اگر کوئی غلط اطلاع پھیل جائے یا ادارے پر تنقید بڑھ جائے، تو کو آر ڈی نیٹر سب سے آگے ہوتا ہے۔ وہ چند منٹوں میں بیانیہ بدل سکتا ہے۔ غلط انفارمیشن کا مسکت جواب دے سکتا ہے۔
٭ سیکرٹری اطلاعات/ ترجمان، ادارے کی باوقار آواز:۔ سیکرٹری اطلاعات یا ترجمان کا کردار سوشل میڈیا کو آر ڈی نیٹر سے کہیں زیادہ رسمی، ذمے دارانہ اور حساس ہوتا ہے۔ یہ کسی فرد، ادارے ، تنظیم یا حکومت کا سرکاری موقف بیان کرتا ہے۔ اس کے الفاظ لکیر کی طرح ہوتے ہیں۔ ایک غلط جملہ، ایک غلط تاثر یا ایک غیر محتاط بیان سے پورا ادارہ بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔
اب آتے ہیں ترجمان کی بنیادی ذمے داریوں کی طرف:
1) سرکاری موقف کی وضاحت:۔ یہ ترجمان کی سب سے اہم ذمے داری ہے کہ وہ ادارے کا موقف میڈیا، عوام اور دنیا کے سامنے پیش کرے۔
2) پریس کانفرنس اور میڈیا بریفنگ:۔ سیاست سے لے کر سرکاری اداروں تک ترجمان وہ چہرہ ہوتا ہے، جو ٹیلی وِژن پر آ کر بات کرتا ہے، سوالوں کے جواب دیتا ہے اور لوگوں کی درست سمت راہ نمائی کرتا ہے۔
3) بااثر میڈیا سے تعلقات:۔ سینئر صحافیوں، اینکرز، تجزیہ کاروں، ادارتی بورڈز اور رپورٹرز کے ساتھ رابطے بہت ضروری ہوتے ہیں۔ ایک تجربہ کار ترجمان، میڈیا سے بات کرنے کے وقت حقائق، اعداد و شمار اور اعتماد کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
4) بحران کے وقت ادارے کا دفاع:۔ کسی تنازع کی صورت میں ترجمان کو فوراً میڈیا کے سامنے آ کر موقف واضح کرنا پڑتا ہے۔ یہ کردار ادارے کے اعتماد کو بچاتا ہے۔
5) تقریریں، پریس ریلیز اور پالیسی بیانات تیار کرنا:۔ ہر لفظ سوچ سمجھ کر منتخب کرنا پڑتا ہے۔ تحریر اور گفت و شنید دونوں میں مہارت ترجمان کا لازمی ہنر ہے۔
6) داخلی معلومات کا تجزیہ اور ہم آہنگی:۔ ترجمان مختلف ذیلی شعبوں سے معلومات اکٹھی کرتا ہے اور اُنھیں عوام تک پہنچانے کا درست طریقہ مرتب کرتا ہے۔
اب آتے ہیں دونوں کرداروں میں بنیادی فرق کی طرف۔ اگر ہم دونوں ذمے داریوں کا تقابلی جائزہ لیں، تو فرق بہت واضح ہے:
٭ ایک ہوتا ہے سوشل میڈیا کو آر ڈی نیٹر، جب کہ دوسرا ہوتا ہے سیکرٹری اطلاعات/ ترجمان۔
٭ کو آر ڈی نیٹر کا اصل میدان ڈیجیٹل دنیا یعنی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہے، جب کہ سیکرٹری اطلا عات کا میدان روایتی میڈیا اور پریس کانفرنس ہے۔
٭ کو آر ڈی نیٹر کا لہجہ غیر رسمی، تخلیقی، عوامی طرز کا ہوتا ہے، جب کہ سیکرٹری اطلاعات کا رسمی، سنجیدہ اور پالیسی پر مبنی ہوتا ہے۔
٭ کو آر ڈی نیٹر کا مقصد آن لائن رسائی اور مواد کی تشہیر ہوتا ہے، جب کہ سیکرٹری اطلاعات کا موقف کی وضاحت اور ادارے کی ساکھ کا تحفظ ہوتا ہے۔
٭ کو آر ڈی نیٹر کی مہارت میڈیا ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل سوچ اور ٹرینڈ مینجمنٹ ہوتی ہے، جب کہ سیکرٹری اطلاعات کی گفت و شنید، پالیسی فہم اور پریس ہینڈلنگ مہارت ہوتی ہے۔
٭ کو آر ڈی نیٹر کا رسپانس فوری جواب اور تیز ردِ عمل پر مشتمل ہوتا ہے، جب کہ سیکرٹری اطلاعات کا ریسپانس سوچ سمجھ کر اور ذمے دارانہ بیان پر مشتمل ہوتا ہے۔
٭ کو آر ڈی نیٹر کا اثر آن لائن کمیونٹی اور نوجوان نسل تک محدود ہوتا ہے، جب کہ سیکرٹری اطلاعات قومی میڈیا اور بڑی عوامی رائے کو متاثر کرنے والا ہوتا ہے۔
قارئین! اس بحث کو سمیٹنے کے لیے اتنا ہی رقم کروں گا کہ دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ آج کے دور میں کوئی بھی ادارہ صرف روایتی میڈیا پر انحصار نہیں کرسکتا، نہ بغیر کسی ترجمان کے سنجیدہ رابطہ کاری ممکن ہی ہے۔ سوشل میڈیا کو آر ڈی نیٹر ادارے کی آنکھ اور کان ہے، جو عوام کے ردِ عمل کو لمحہ بہ لمحہ دیکھتا ہے، جب کہ ترجمان ادارے کی زبان ہے، جو اعتماد سے، وقار سے اور ذمے داری کے ساتھ سرکاری موقف بیان کرتا ہے۔
دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ مسلم ہے…… دونوں اپنے اداروں کو مضبوط کرتے ہیں اور دونوں مل کر ادارے کی مجموعی ساکھ کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے