پاکستان کی آئینی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب آئین کو سیاسی ضرورت یا طاقت کے توازن کے مطابق ڈھالا جاتا ہے، تو اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ 8ویں ترمیم سے 18ویں ترمیم تک کا سفر صرف قانونی ترامیم کی تاریخ نہیں، بل کہ یہ ریاست، سیاست اور اقتدار کے مراکز کے درمیان کش مہ کش کی کہانی ہے۔ آج 27ویں آئینی ترمیم پر جاری بحث اسی تاریخ کے تسلسل کو ایک مرتبہ پھر اُبھارتے ہوئے نظر آتی ہے۔
1985ء کی 8ویں ترمیم نے صدرِ مملکت کو یہ اختیار دیا کہ وہ منتخب حکومت کو برطرف کرسکتا ہے۔ اس اختیار کا سب سے پہلا وار پیپلز پارٹی کی حکومت پر ہوا اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی اسی تیغ کے نیچے آئی۔ یہی تجربہ نواز شریف کو 1997ء میں 13ویں ترمیم لانے پر آمادہ کرتا ہے، جس کا مقصد پارلیمان کی بالادستی بہ حال کرنا اور وزیرِ اعظم کی آئینی حیثیت کو مستحکم کرنا تھا۔ یہ نواز شریف کے سیاسی کیریئر کا وہ مرحلہ تھا، جب اُن کی سیاست اُصول اور آئینی مزاحمت کے بیانیے کے گرد مرکوز تھی۔
مگر وقت بدلا، اقتدار کے مراکز بدلے اور سیاسی ضروریات بھی بدلیں۔ مشرف دور کی 17ویں ترمیم نے وہی اختیارات دوبارہ بہ حال کردیے، جنھیں ختم کرنے کے لیے نواز شریف نے جد و جہد کی تھی۔ بعد ازاں 2010ء کی 18ویں ترمیم صوبائی حقوق اور وفاقی ڈھانچے کی مضبوطی کا سنگِ میل بنی۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جب وفاقیت ایک شعوری قومی اتفاقِ رائے کے طور پر سامنے آئی۔ آج اسی آئینی ڈھانچے میں 27ویں ترمیم کے ذریعے مداخلت کا امکان پھر سے زیرِ بحث ہے۔
٭ اے این پی…… کم نمایندگی مگر واضح بیانیہ:۔ حالیہ پارلیمانی منظرنامے میں اے این پی کے تین سینیٹر، مع ایمل ولی خان، پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ ترمیم کے روز اُنھوں نے واضح انداز میں کہا کہ جن نِکات پر اعتراض تھا، اُنھیں ترمیم سے پہلے نکال دیا گیا ہے۔ اس لیے حمایت کی گئی۔ ساتھ ہی اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ اگر واقعی 27ویں ترمیم صوبائی حقوق پر حملہ تھی، تو صوبہ خیبر پختونخوا کی اصل نمایندہ جماعتیں خاموش کیوں رہیں؟ قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا کی 45 میں سے 37 نشستیں پی ٹی آئی کے پاس ہیں۔ باقی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پاس…… مگر آواز کہیں بھی بلند نہیں ہوئی۔ یہ خاموشی خود ایک سیاسی سوال بن کر اُبھرتی ہے۔
٭ پی ٹی آئی واک آؤٹ…… اُصولی اختلاف یا سیاسی حکمت؟:۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ترمیم کے حق میں ووٹ دے کر استعفا دے دیا، جب کہ باقی سینیٹرز نے واک آؤٹ کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر مخالفت سنجیدہ تھی، تو پارلیمان کے فلور پر زوردار بحث کیوں نہیں کی گئی؟ واک آؤٹ نے دراصل ترمیم کے لیے راستہ مزید آسان کیا۔ سیاسی طور پر یہ ایک حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے۔ مستقبل میں اگر ریاستی فیصلوں اور عسکری پالیسیوں پر عوامی ردِعمل بڑھتا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں، تو پی ٹی آئی کے پاس یہ بیانیہ موجود رہے گا کہ وہ اس فیصلے کا حصہ نہیں تھی۔ یہ بیانیہ انتخابی فائدہ دے سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عسکری آپریشنوں اور پالیسی اثرات پر جذبات پہلے سے زیادہ حساس ہیں۔
٭ پیپلز پارٹی…… ماضی اور حال کا تضاد:۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ 18ویں ترمیم کے وقت آصف علی زرداری صدر تھے اور یوسف رضا گیلانی وزیرِاعظم۔ اور 27ویں ترمیم کے وقت بھی زرداری صدر ہیں اور گیلانی چیئرمین سینیٹ۔ ایک طرف پیپلز پارٹی اب بھی 18ویں ترمیم کو اپنی کام یابی کا تاریخی حوالہ سمجھتی ہے، مگر دوسری طرف اس ترمیم کے ممکنہ منفی اثرات پر آج وہ واضح اور جرات مندانہ موقف دینے سے گریزاں ہے۔ یہ طرزِ عمل اُصولی سیاست سے زیادہ مصلحت پسندی کی نشان دہی کرتا ہے۔
٭ مسلم لیگ (ن)……نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانیے کا فرق:۔ یہاں یہ بحث اور اہم ہو جاتی ہے۔ نواز شریف کی سیاست کا مرکزی نکتہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام اور پارلیمان ہے۔ اُن کا بیانیہ مزاحمت، اُصول اور آئین کے گرد گھومتا ہے۔ انھی وجوہات کی بنیاد پر اُنھوں نے 1997ء میں 13ویں ترمیم کی اور 2017ء میں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ جیسے بیانیے کا سہارا لیا۔ اس کے برعکس شہباز شریف ہمیشہ عملیت پسند رہے ہیں۔ اُن کی سیاست…… مفاہمت، انتظام اور اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے پر مرکوز رہی ہے۔ شہباز شریف اس بات کے قائل ہیں کہ ریاست کو چلانا احتجاج سے زیادہ ضروری ہے۔
آج جب ملک معاشی دباو میں ہے، شہباز شریف حکومت مفاہمت کو بقا کی سیاست سمجھتی ہے، جب کہ نواز شریف اس صورتِ حال کو اپنی ماضی کی سیاسی جد و جہد اور اُصولی موقف کے مقابل کھڑا دیکھ رہے ہیں۔ بلاشبہ دونوں بھائی سوچ میں مختلف ہیں،مگر جماعت ایک ہی بیانیے کے بوجھ تلے کھڑی ہے۔ نواز کا بیانیہ بلند اور نظریاتی ہے جب کہ شہباز کا زمینی اور مصلحت آمیز۔ یہ اختلاف دراصل سیاسی نہیں،حکمتِ عملی کا ہے ۔
٭ اختتامی سوال:۔ آئین کو ایک بار پھر وقتی سیاسی ضرورت کے لیے بدلا جا رہا ہے۔ تاریخ ہمیں ایک سادہ سبق دیتی ہے کہ سیاسی فائدہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے، مگر آئینی نقصان مستقل۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت اس بار یہ سبق یاد رکھے گی…… یا ہم ایک بار پھر وہی غلطی دہرا رہے ہیں؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










