ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی وادی کی معاشی، تجارتی اور ثقافتی سرگرمیوں کا دل سمجھا جاتا تھا…… مگر آج یہی شہر ٹریفک کے ایسے گھن چکر میں پھنس چکا ہے کہ روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ہر گلی، ہر چوک اور ہر بازار میں گاڑیوں کا جمِ غفیر، رکشوں کی بھرمار، سڑکوں کی کھدائی اور پارکنگ کی بدانتظامی نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔
٭ رکشوں اور گاڑیوں کا سیلاب:۔ مینگورہ کی تنگ سڑکیں اَب شہر کے بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں۔ روزانہ ہزاروں رکشے، موٹر سائیکلیں، کاریں اور پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ دھکم پیل کرتی نظر آتی ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اُن میں سے اکثر رکشے بغیر رجسٹریشن اور بغیر کسی مقررہ روٹ کے شہر کے ہر حصے میں رواں دواں ہیں۔ ٹریفک پولیس کی محدود تعداد اور وسائل کے باعث صورتِ حال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
٭ واٹر سپلائی سکیم اور سڑکوں کی کھدائی:۔ شہر میں جاری واٹر سپلائی سکیم نے ٹریفک کے بہاو کو تقریباً ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ جگہ جگہ سڑکیں کھودی گئی ہیں، مگر ان کی بہ حالی کا کوئی منظم نظام نظر نہیں آتا۔ پانی کی پائپ لائنیں ڈالنے کے لیے سڑکوں کو اُکھاڑ دیا گیا ہے اور مہینے گزرنے کے باوجود انھیں دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ گاڑیاں دھول، کیچڑ اور گڑھوں میں پھنسی نظر آتی ہیں۔ یہ ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر منصوبہ بندی کے بغیر شروع ہونے والے کام عوام کے لیے آسانی کے بہ جائے اذیت بن جاتے ہیں۔
٭ پارکنگ کا مسئلہ:۔ شہر کے بازاروں اور مارکیٹوں میں پارکنگ کی کوئی مناسب جگہ نہیں۔ دکان دار، خریدار اور راہ گیر سب اپنی گاڑیاں سڑک کنارے کھڑی کر دیتے ہیں، جس سے سڑک کی آدھی جگہ پارکنگ کے لیے استعمال ہوجاتی ہے۔ اگر کسی وقت ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کو گزرنا پڑے، تو وہ بھی ٹریفک کے سمندر میں پھنسی رہ جاتی ہے۔
٭ ہر دکان دار کی ذاتی گاڑی:۔ ایک اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ تقریباً ہر دکان دار اپنی ذاتی گاڑی شہر لاتا ہے، چاہے دکان چند قدم کے فاصلے پر ہی کیوں نہ ہو۔ اس روش نے شہر میں گاڑیوں کی تعداد کئی گنا بڑھا دی ہے۔ عوامی نقل و حرکت کے لیے رکشہ یا منی وین کا استعمال کم ہوگیا ہے، جس سے سڑکوں پر دباو مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انتظامی کم زوری اور شہری بے حسی نے مل کر اس بحران کو جنم دیا ہے۔ عوام بھی قوانین کی پاس داری نہیں کرتے۔ غلط پارکنگ، غلط سمت میں گاڑی چلانا اور پیدل راستے پر رکشے چڑھانا معمول بن چکا ہے۔ اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ ایک چوک سے دوسرے چوک تک پہنچنے میں گھنٹا بھر وقت لگ جاتا ہے۔ شہری روزانہ اپنے قیمتی وقت کا بڑا حصہ ٹریفک جام میں ضائع کرتے ہیں۔ طلبہ اسکول دیر سے پہنچتے ہیں۔ سرکاری ملازمین دفتر وقت پر نہیں جا پاتے۔ مریض اسپتالوں تک پہنچنے سے پہلے اذیت برداشت کرتے ہیں۔
٭ اس مسئلے کے ممکنہ حل کے لیے چند تجاویز یہ ہوسکتی ہیں:
1) رکشوں کے لیے روٹ اور کوٹہ سسٹم نافذ کیا جائے۔
2) واٹر سپلائی سکیم کے کام باقاعدہ پلاننگ کے تحت مکمل کیے جائیں اور کھدائی کے فوراً بعد سڑکوں کی بہ حالی یقینی بنائی جائے۔
3) پارکنگ پلازے تعمیر کیے جائیں، تاکہ سڑکوں پر غیر ضروری پارکنگ ختم ہو۔
4) ٹریفک پولیس کو جدید تربیت اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے ۔
5) عوامی آگاہی مہم چلائی جائے، تاکہ لوگ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں۔
مینگورہ شہر کے باسیوں نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ٹریفک جام ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے، مگر یہ مایوسی مستقل نہیں ہونی چاہیے۔ اگر حکومت، ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور شہری سب مل کر اپنی اپنی ذمے داری نبھائیں، تو مینگورہ دوبارہ ایک خوب صورت، منظم اور پُرسکون شہر بن سکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










