گذشتہ دنوں سوات کی تحصیلِ کبل کے معروف کبل گراؤنڈ میں ایک بڑا منظر دیکھنے کو ملا۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام سوات، بونیر اور شانگلہ کے ہزاروں نوجوان ’’بنو قابل‘‘ پروگرام کے ٹیسٹ میں شریک ہوئے۔ بہ ظاہر یہ نوجوانوں کو آئی ٹی کی جدید مہارتیں سکھانے کا ایک قدم ہے، لیکن اس پورے ماحول میں ایک سیاسی تاثر بھی واضح طور پر محسوس ہو رہا تھا۔
گراؤنڈ کی ترتیب، کرسیاں، پانی اور ٹریفک کا جامع انتظام، بڑے بڑے پوسٹر اور خاص طور پر حافظ نعیم الرحمان کی جگہ جگہ آویزاں تصاویر…… یہ سب اس بات کا مظہر ہے کہ جماعتِ اسلامی اب نئی حکمتِ عملی کے ساتھ سیاسی میدان میں ایک موثر واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹیسٹ کے بعد نوجوانوں سے حافظ نعیم کا خطاب بھی اسی پیغام کی توسیع تھا۔
یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ جماعتِ اسلامی نے نوجوانوں اور عوام تک پہنچنے کے لیے علم، فلاح اور خدمت کو اپنا راستہ بنایا ہو۔ اس سے پہلے بھی ’’حرا اسکولز پراجیکٹ‘‘، ’’مفت تعلیمی مراکز‘‘، ’’نوجوانوں کی تربیتی نشستیں‘‘ اور سب سے بڑھ کر ’’الخدمت فاؤنڈیشن کی سماجی خدمات‘‘ دراصل وہ اقدامات ہیں، جن کی مدد سے جماعتِ اسلامی کو نظریاتی اور عملی اعتبار سے معاشرے میں ایک مضبوط اخلاقی شناخت ملی۔چاہے آئی ڈی پیز کا کٹھن دور ہو، یا 2010ء اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب الخدمت نے بلا امتیاز خدمت کی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی خدمات کے باوجود جماعتِ اسلامی کو انتخابات میں وہ کام یابی کیوں نہیں ملی، جس کی وہ توقع رکھتی تھی؟
کیا وجہ یہ تھی کہ سیاسی میدان میں عمران خان کی شخصیت زیادہ کرشماتی تھی……یا پھر ماضی کا ’’ریاستی سیاست کا ٹیگ‘‘ جماعتِ اسلامی کی راہ میں رکاوٹ بنا؟
پھر 2018ء کے انتخابات آئے اور تحریکِ انصاف کی لہر نے ساری سیاست کا نقشہ بدل کر رکھ دیا…… لیکن جماعت اسلامی نے اپنی رفتار نہیں روکی۔ منصورہ میں تربیتی دورے، نوجوانوں کے اجتماعات اور فلاحی سرگرمیوں کا تسلسل، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ جماعتِ اسلامی اپنی فکری اور تنظیمی شناخت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
اب دوبارہ سوال وہی اٹھتا ہے کہ کیا ’’بنو قابل‘‘، ’’آغوش‘‘ اور ’’الخدمت‘‘ کی یہ خدمات جماعت اسلامی کو انتخابی کام یابی دلا سکتی ہیں؟ اس کا جواب مستقبل کی سیاست کی سمت سے جڑا ہے۔
آج کا نوجوان صرف ’’سکلز‘‘ (Skills) نہیں چاہتا، وہ سوچ چاہتا ہے۔ نوجوان کو صرف ہنر نہیں، تنقیدی شعور، سماجی آگہی اور فیصلہ سازی کی آزادی چاہیے ۔ جب تک سیاست میں اظہار اور انتخاب کا اختیار صرف نعروں پر ہوگا، ووٹ مستقل مزاجی اور نظریاتی بنیاد پر نہیں پڑے گا۔
اگر جماعت اسلامی واقعی نوجوانوں کو ’’قابل‘‘ بنانا چاہتی ہے، تو اسے صرف آئی ٹی نہیں، بل کہ سوچنے، پرکھنے اور سوال اُٹھانے کی صلاحیت بھی دینا ہوگی۔ سیاست اب صرف جلسوں اور خدمات کا کھیل نہیں، یہ ذہن سازی کا معرکہ ہے…… اور یہ معرکہ ووٹ سے پہلے فکر میں جیتا جاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔











One Response
ماشاء اللہ
تحریر میں علم کی جھلک نمایاں ہے. بہت متوازن اور بہترین تحریر.