سوات کیا پورے ملاکنڈ ڈویژن میں تحصیلِ بابوزئی کو کئی وجوہات کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ یہ ڈویژنل اور ضلعی ہیڈکوارٹر ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی، عدالتی اور تاریخی ہیڈکوارٹر بھی ہے ۔ کاروباری مواقع کے لحاظ سے بھی یہ ایک بڑی تحصیل ہے۔ یوں اس تحصیل میں آبادی کی مسلسل منتقلی ایک فطری امر ہے۔
اب اگر مرکزی شہر ’’مینگورہ‘‘ کی بات کریں، تو پچھلے 70 سالوں میں یہ ایک چھوٹے قصبے سے ایک مکمل میٹروپولیٹن کلچر والے شہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس طرح اگر ہم ماضی میں دیکھیں، تو تحصیلِ بابوزئی کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ پورے سوات اور ڈویژن کے مسائل کے حل کے لیے بابوزئی کے جرگے کی طرف دیکھا جاتا تھا اور اس کی بڑی اہمیت تھی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ سب ڈویژن لیول پر تو جرگے تھے، مگر تحصیلِ بابوزئی بے زبانی کی حالت میں کسی نمایندہ جرگے سے محروم تھی۔ بابوزئی تحصیل کبھی سیاسی لوگوں کے رحم و کرم پر رہی، تو کبھی بیوروکریسی اور انتظامیہ نے اس کے فیصلے کیے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ عسکریت پسند اور دہشت گرد اس کے سیاہ و سفید کے مالک بننے کا خواب دیکھنے لگے۔
بابوزئی تحصیل کے آبائی لوگ، جو اکثریت میں ایک دوسرے کے رشتے دار ہیں، غمی خوشی میں شریک اور روابط میں مضبوط، ایک طویل عرصے سے تاریخی جبر کا شکار رہے ہیں۔ یہاں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر لوٹ مار ہوتی رہی۔ مادرِ علمی جہانزیب کالج کو گرا کر ’’شہید‘‘ کیا گیا۔ اس سے پہلے ودودیہ ہائی اسکول کی عمارت ملیامیٹ کی گئی۔ دہشت گردوں نے تو قمبر سکول، بنڑ سکول سمیت تاریخ اور جذبات کے ہر مرکز کو مٹا دیا۔ انتظامیہ نے چند کوڑیوں کی خاطر دریائے سوات کے جسم پر باقاعدہ گھاو لگائے……اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
بابوزی کے دونوں خوڑ (جامیبل اور مرغزار خوڑ) گندے اور بدبو دار نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سیدو شریف میں ریاست کا قائم کردہ ہسپتال پہلے ’’سیدو گروپ‘‘ کے نام پر یک جا کیا گیا، پھر اس کی فروخت کے لیے باقاعدہ بولیاں لگنی شروع ہوئیں۔
گراسی گراؤنڈ، جو ملاکنڈ ڈویژن کا واحد باقاعدہ فٹ بال، ہاکی، کرکٹ، والی بال، لان ٹینس، بیڈمنٹن اور اسکواش کا ریاستی قائم کردہ سپورٹس کمپلیکس تھا، اب کسی ویرانے کی طرح مینگورہ اور سیدو شریف کے بیچ عہدِ رفتہ کی عظمت کا رونا رورہا ہے۔
دوسری طرف قبرستان تک کو نہیں چھوڑا جا رہا۔ جگہ جگہ موجود قبرستانوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ واسا اور ٹی ایم اے عملی معنوں میں صفر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ ریسکیو 1122 نے دریا میں کھڑے بے بس انسانوں کو ایک ایک کرکے بہنے دیا۔ کیوں کہ ان سے پوچھنے والا کوئی تھا جو نہیں۔
بر ملکانان میں پیش آئے کئی ناخوش گوار واقعات پر شہر اور بابوزئی تحصیل، خون کے آنسو روئے۔ اب شہر کے پاس افسوس کرنے اور رونے کے علاوہ کچھ نہیں رہا۔
بابوزئی تحصیل میں منشیات، ہیروئن اور چرس کی بے پناہ مقبولیت کے بعد اب آئس کا نشہ قبولیت کی سند پاچکا ہے۔ سیدو گروپ کو پچھلے تین سال سے فنڈز نہیں مل رہے۔ شاہی محل بھی مسائل کی لپیٹ میں ہے۔ واپڈا کا اپنا قبلہ ہے۔ غیر علانیہ لوڈشیڈنگ، واپڈا والے اپنا حق گردانتے ہیں۔ شہر کے کئی حصوں میں گیس لوڈشیڈنگ اور کم پریشر معمول ہے، مگر سوئی ناردرن گیس کمپنی بغلیں بجاتے نہیں تھکتی کہ گیس کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ہر سال سیکڑوں نہیں، بل کہ ہزاروں نوجوان میٹرک کے بعد داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں، یا ]ھر پرائیویٹ کالجوں میں بھاری فیسوں پر تعلیم ’’خریدنے‘‘ پر مجبور ہیں۔
گراسی گراؤنڈ کو آثارِ قدیمہ میں تبدیل کرنے کے بعد خواجہ آباد گراؤنڈ رہ جاتا ہے، جس میں دوربیں لے کر تلاش کرنے سے بھی گھاس کا قطعہ نہیں ملتا۔ کھیل کے میدان ویران، نشے کے اڈے آباد اور ہسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ سیدو ہسپتال میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینیں برسوں سے خراب ہیں، مگر مجال ہے کہکسی کے کان پر جوں تک رینگے۔ فحاشی اور عریانی کے تو اسٹیمپ لگ چکے ہیں بابوزی تحصیل اور مینگورہ شہر پر۔
رہی سہی کثر گریویٹی اسکیم کے نام پر شہر میں خندق کھودنے کے عمل نے پوری کردی ہے۔ واسا اور ’’زیڈ کے بی‘‘ کی ملی بھگت اور حکم رانوں کی آشیرباد سے اربوں روپے کا منصوبہ بابوزئی تحصیل کے لیے زحمت بن چکا ہے۔ اس وقت مینگورہ صوبے کا آلودہ ترین شہر ہے، جسے مَیں نے حالیہ اپنی ایک تحریر میں ’’لاہورِ ثانی‘‘ کا نام دیا ہے۔ سانس کی بیماریوں کی شرح وہاں (سوات) سب سے زیادہ ہے، جہاں پہلے سانس کے بیمار تازہ ہوا کی تلاش میں آتے تھے۔ آلودگی کی وجہ سے کینسر کے کیس خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ایچ آئی وی پازیٹو مریضوں کی تعداد سکریننگ میں تشویش ناک حد تک سامنے آ رہی ہے ۔ صاف پانی کے لیے کئی علاقوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ٹریفک کا نظام اتنا بگڑا ہوا ہے کہ گاڑی گاڑی سے جا لگتی ہے اور لوگ شہر میں سڑکوں پر نکلنے سے گھبراتے ہیں۔
مختلف عوامل، جن میں دہشت گردی، غیر یقینی صورتِ حال، مالی بدحالی، بے روزگاری، تعلیمی مواقع کی عدم موجودگی یا محدود مواقع شامل ہیں…… ذہنی امراض کو خطرناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ چوہوں کی شام سے صبح تک شہر پر مکمل حکومت ہے اور چوہوں کی آبادی انسانوں سے کئی گنا زیادہ ہو گئی ہے۔ وجہ وہی روایتی نااہلی، بے حسی اور قوم کی کٹی ہوئی زبان اور نمایندگی کا فقدان۔
اور ہم جانتے ہیں کہ:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
مگر دیر آید درست آید کے مصداق ’’قامی تڑون جرگہ‘‘ کے نام پر چند وطن پرست لوگوں نے درد محسوس کیا اور قطعی غیر سیاسی بنیادوں پر ایک جرگہ قائم کیا۔ لوگوں نے باتیں بنائیں۔ اسے ’’سوات قومی جرگہ‘‘ کا مقابل قرار دیا۔ اس پر سیاسی، انتظامی اور عسکری اداروں کے ایما پر تشکیل شدہ جرگے کا الزام لگایا گیا…… مگر یہ وطن کے پیار میں سرشار لوگ ہر الزام سہتے رہے۔ اکیلے نکلے تھے ، قافلہ بنتا گیا۔ بابوزئی تحصیل اب ایک فعال جرگہ (قامی تڑون جرگہ) رکھتی ہے۔ ایسا جرگہ جس کا کوئی سربراہ ہے نہ لیڈر، بل کہ سب ایک درد لیے نکلے ہیں کہ عوام کو ایک زبان ملے۔ وطن کے ساتھ جو کچھ برا ہوا، وہ دوبارہ نہ دہرایا جائے۔
تحصیلِ بابوزئی کی سابق حیثیت، جس میں باقی تحصیلوں کے جرگے ہوا کرتے تھے، کی بہ حالی کا کام جاری ہے ۔ اب اس تحصیل کے عوام کے پاس ایک موثر آواز ہے، جو سوال بھی کر سکتی ہے اور عمل پر مجبور بھی۔
اب بابوزئی تحصیل کے لوگوں نے اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ کیا ہے، تو یقیناً اللہ تعالیٰ بھی ان کی قسمت بدل دے گا۔
ممبر قومی تڑون جرگہ کی حیثیت سے مَیں ہر مذہبی، سیاسی، فرقہ ورانہ، خاندانی اور کاروباری تعصب سے بالاتر ہو کر اپنا کردار ادا کرنے کی پوری کوشش کروں گا اور تحصیلِ بابوزئی کے عوام کے سامنے اس کا حلف لیتا ہوں۔ مَیں یہ درخواست کرتا ہوں کہ اپنے لیے، اس تحصیل کے لیے، اس کی ترقی، منشیات، جرائم اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اس جرگے کی حمایت کریں اور اس سے جڑ جائیں، تاکہ ہم کسی اچھے دن کے منتظر رہنے کی بہ جائے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکیں۔
یہ تحصیلِ بابوزئی کے ہر شہری پر فرض ہے کہ وہ اپنی تحصیل کی تعمیر، ترقی اور بہتر کل کے لیے بھرپور کوشش کرے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










