لاہورِ ثانی، ’’مینگورہ‘‘

Blogger Sajid Aman

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے، کیوں کہ وہاں سموگ ہوتا ہے…… مگر خیبرپختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن، خصوصاً مینگورہ (سوات) کا کوئی والی وارث نہیں، جو آکر دیکھے کہ آلودگی کسے کہتے ہیں!
ایک چھوٹا سا شہر اور اُس میں ہزاروں رکشے اور اُن سے اٹھتے ہوئے دھویں کے مرغولے، مسلسل ٹریفک اور ٹریفک جام…… یوں لگتا ہے، جیسے ’’گریوٹی اسکیم‘‘ کے نام پر شہر پر ہیروشیما یا ناگاساکی کی طرز کی بمباری ہوئی ہو۔ ہر طرف مٹی ہے، گرد و غبار ہے۔ صبح گھر سے نکلا ہوا شخص جب سرِ شام واپس گھرکی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، تو گرد و غبار سے اٹے چہرے سے چھوٹے بچوں اُسے بھوت سمجھ کر اپنی ماں کی طرف چیخ مار کر دوڑ پڑتے ہیں۔
واسا کی نااہلی کی وجہ سے گندگی کے ڈھیر ایک طرف، خود واسا کی بدبودار گاڑیاں جب شہر کی سڑکوں پر دوڑتی ہیں، تو پیدل چلنے والے ناگوار بو سے منھ ڈھانپ لیتے ہیں۔
رہی سہی کثر سیلاب کی لائی ہوئی مٹی نے پورا کردیا ہے، جو ہوا میں اُڑ اُڑ کر نہ صرف لوگوں کے چہروں پر جا بیٹھتی ہے، بل کہ کھانے پینے کی چیزوں کو بھی خراب کرتی ہے۔ رات کو یہی مینگورہ شہر ہزاروں چوہوں کے حوالے ہو جاتا ہے۔
اس شہرِ ناپرساں کے میئر صاحب فرماتے ہیں کہ اُن کے پاس اختیارات نہیں، مگر وہ اپنا وقت پورا کریں گے۔
ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ کام ہم سے لے کر ’’واسا‘‘ نامی ادارے کو دیا گیا ہے۔ واسا والوں کا کہنا ہے کہ ایک پرائیویٹ کنٹریکٹر ہے، جو ٹی ایم اے کو جواب دہ ہے۔ ٹی ایم او کہتا ہے کہ مَیں سرکاری ملازم ہوں اور میئر عوامی نمایندے ہیں، جب کہ میئر کا دعوا ہے کہ میرے پاس اختیارات ہیں اور نہ کوئی میری سنتا ہی ہے۔ یہ ایک ایسا گول دائرہ ہے جس کا انت ایک طرح سے دوبارہ شروعات ہے۔ نتیجتاً مینگورہ شہر بہت جلد لاہورِ ثانی بن کر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوگا۔
آپ کسی دن ماہرِ امراضِ سینہ یا کسی اُو پی ڈی میں جا کر دیکھیں، آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ آدھے سے زیادہ شہری سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ آلودگی ہے۔ الرجی کے مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ دھواں، مٹی اور گرد سے لوگ ’’ڈسٹ الرجی‘‘ یا جلدی امراض کا شکار ہیں۔
اس طرح شور شرابا اتنا ہے کہ ماہرِ نفسیات کے کلینک دیکھ کر لگتا ہے کہ آدھا شہر ذہنی دباو کا شکار ہے۔ کوئی بے چینی کا مریض ہے، کوئی نیند کی دوا پر گزارا کر رہا ہے۔ میڈیکل ڈیپارٹمنٹس میں جائیں، تو معدے ، بخار، ڈینگی، کورونا، ملیریا اور ٹائیفائیڈ کے مریضوں کی تعداد روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے۔ ان سب بیماریوں کا بہ راہِ راست تعلق گندگی سے ہے۔
المیہ یہ ہے کہ یہی آلودگی اب کینسر جیسی موذی بیماری کا سبب بن رہی ہے۔ سیدوشریف کے کینسر اسپتال یا دیگر ڈاکٹروں سے معلوم کریں کہ پچھلے دس سالوں میں کینسر کے مریض کتنے بڑھ چکے ہیں؟ اُن میں زیادہ تر وہ کیس ہیں، جن کی جڑ آلودگی، مصنوعی رنگ، دودھ اور خوراک میں ملاوٹ سے جا ملتی ہے۔
رکشہ بہ ظاہر ایک سہولت ہے، مگر یہ درحقیقت انسانیت پر ظلم بن چکا ہے۔ رکشہ ڈرائیور روز ناہم وار سڑکوں پر کئی کئی گھنٹے گزارتے ہیں۔ اگر آپ شہر کے سرجنوں سے پوچھیں، تو معلوم ہوگا کہ بواسیر، السر، سینے اور دماغی امراض کے مریضوں میں رکشہ ڈرائیوروں کی تعداد نمایاں ہے۔
نہ یہاں کوئی میڈیکل یونیورسٹی ہے جو طبّی تحقیق کرے، نہ ماحولیات کا محکمہ اپنی ذمہ داری ہی نبھا رہا ہے۔ اگر کبھی اس کے دفتر کا دورہ کریں، تو خود اس کا ماحول پراگندہ دکھائی دیتا ہے۔
ٹی ایم اے کی ذمے داری ختم ہو چکی، واسا ایک پرائیویٹ ٹھیکے دار کے رحم و کرم پر ہے، جسے صرف منافع سے غرض ہے۔ میئر کے پاس اختیارات نہیں اور تقریری مقابلے شہر نہیں سنوارنے سے رہے۔ اراکینِ اسمبلی کو صرف ’’مال صاف کرنے ‘‘ کا ہنر آتا ہے۔ ایسے میں شہر آشوب ہی لکھے جاسکتے ہیں۔
مینگورہ شہر میں اگر آسمان صاف ہو، تو مٹی برستی ہے…… اور اگر پانی برسے تو آدھا شہر ڈوب جاتا ہے۔ گرمیوں میں گرمی اور لوڈشیڈنگ، سردیوں میں سردی اور گیس کی بندش سمیت آلودگی اور گندگی کا موسم یہاں ’’صدا بہار‘‘ ہیں۔
شہر کا کوئی والی وارث نہیں…… اور نہ شہر کے لوگوں کو اس بات کا ادراک ہی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے