’’کیس نمبر 9‘‘: فارمولا کہانیوں سے انحراف

Blogger Sajid Aman

عام طور پر پاکستانی ٹی وی ڈرامے محبت، جاگیرداری، غریب اور امیر کی شادی، محبت میں ناکامی کے خدشات کے بعد ہونے والی شادی، سیاسی خانوادوں کے رویوں کی عکاسی اور ساس بہو کے تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں…… مگر ’’کیس نمبر 9‘‘ نے سب کچھ بالکل 180 درجے پر گھما دیا ہے۔ معروف اینکر شاہ زیب خانزادہ کے قلم سے لکھا گیا یہ ڈراما خود ایک بڑی تبدیلی ہے، جو فارمولا ڈراموں کی سمت بدلنے والا ثابت ہوا ہے۔ ایک ٹی وی میزبان کے تجزیے اور گہری سوچ ان مکالموں میں جھلکتی ہے، جو اداکار بولتے ہیں۔
ڈرامے کی کہانی بہ ظاہر عام سی ہے، مگر پیش کش کے انداز میں بہت کچھ غیرمعمولی ہے۔ کہانی اَپر کلاس اور اَپر مڈل کلاس کے ماحول میں گھومتی ہے، جہاں چار دوست دو مسلمان اور دو ہندومحبت کی شادیاں کرکے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ایک میاں بیوی اور اُن کا ایک دوست مشترکہ کاروبار چلاتے ہیں، جب کہ ہندو لڑکے کی بیوی ’’منیشا‘‘ سماجی خدمت اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم ہے۔ شروع میں ان کا کاروبار بہ خوبی چل رہا ہوتا ہے، مگر دو تین سال بعد ایک ٹھہراو آ جاتا ہے۔ کمپنی کے ملبوساتی برانڈز کی سیلز میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ بورڈ فیصلہ کرتا ہے کہ ایک نئی مارکیٹنگ ٹیم لائی جائے۔ چناں چہ ایک قابل، مگر بدقسمتی سے طلاق یافتہ، محنتی سپر مڈل کلاس لڑکی کو مارکیٹنگ ہیڈکے طور پر بھرتی کیا جاتا ہے، جس کے پاس اپنی ڈیزائننگ ٹیم بھی ہوتی ہے۔
مذکورہ لڑکی اپنی پریزنٹیشن میں بورڈ کو قائل کرلیتی ہے کہ کس طرح صارفین انھی کے برانڈز کی طرف متوجہ ہوں گے۔ اس کے بعد کمپنی کی مہمات کام یاب ہونے لگتی ہیں، سیلز میں اضافہ ہوتا ہے اور نئے منصوبے ترتیب پانے لگتے ہیں۔
روہیب، جو ہندو لڑکا ہے، نہایت پیشہ ور اور کاروبار پر توجہ مرکوز رکھنے والا شخص ہے، جب کہ مسلم لڑکا اگرچہ کاروبار جانتا ہے، مگر رنگین مزاجی اُس کی پرانی کم زوری ہے۔ وہ اپنی مارکیٹنگ ہیڈ کے ساتھ چکر چلانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ناکام رہتا ہے۔ ناکامی کے بعد وہ ایک منصوبہ بناتا ہے۔ گھر پر رات کے کھانے کی دعوت رکھتا ہے، عید سے پہلے تمام مہمانوں کو منسوخی کی اطلاع دے دیتا ہے، سوائے مارکیٹنگ ہیڈ کے، جسے وہ جان بوجھ کر آگاہ نہیں کرتا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ لڑکی ڈنر پر آ جاتی ہے۔ گھر کے سارے نوکر چھٹی پر جاچکے ہوتے ہیں، صرف ایک چوکی دار موجود ہوتا ہے۔ وہاں درندگی کا واقعہ پیش آتا ہے اور وہ شخص اپنی جنسی ہوس پوری کرنے میں کام یاب ہو جاتا ہے۔
لڑکی گھر واپس آ کر خوف زدہ حالت میں ماں کو سب کچھ بتاتی ہے۔ ماں اُسے نہلا کر اُس کے پہنے ہوئے کپڑے پھینک دیتی ہے اور اُسے خاموش کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ دنیا کیا کہے گی؟ باپ اور بھائی بھی اسی سوچ کے حامی ہوتے ہیں…… مگر پانچویں رات وہ ہمت کر کے گھر سے نکلتی ہے اور پولیس اسٹیشن جا کر ایف آئی آر درج کروانے کی درخواست کرتی ہے۔ وہاں پرانا ’’تھانہ کلچر‘‘ اور پولیس کا رویہ سامنے آتا ہے۔ بڑے آدمی پر ایف آئی آر درج کرنے کے بہ جائے پولیس اُس کی خوشامد شروع کر دیتی ہے اور پیسے لے کر کیس کو کم زور کرنے پر توجہ دیتی ہے۔ دوسری جانب خاتون کو میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور کہانی پولیس، میڈیکل اور عدالتی نظام کی خامیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔
ایک طرف بااصول وکلا کی عظمت بیان کی گئی ہے، تو دوسری جانب پیسے کے پجاری قانون دانوں کے کالے کوٹ کے نیلام ہونے پر بھی خاموشی اختیار نہیں کی گئی۔ ڈرامے کا خاص پہلو یہ ہے کہ مصنف اگرچہ پیشہ ور ڈراما نگار نہیں، مگر اس کا مکمل کنٹرول کرداروں اور مکالموں پر قائم رہتا ہے۔ ہر کردار مصنف کے الفاظ کا پیکر بن کر ناظرین کو سحر میں مبتلا رکھتا ہے۔
ڈراما طاقت ور اور تیز رفتار ہے، اس لیے کہیں بھی بوریت محسوس نہیں ہوتی۔ پہلی مرتبہ غیر مسلم کرداروں کو فرنٹ لائن میں جگہ دی گئی ہے اور ہائی کلاس کے مذہبی تعلقات یا سماجی زندگی میں مذہب کی غیر موجودگی کا احساس بھی دیا گیا ہے۔ جہاں کم زور اخلاقی اقدار کے نتائج دکھائے گئے ہیں، وہاں اعلا اخلاقی اصولوں کو فضیلت کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔ ڈراما یہ پیغام دیتا ہے کہ جنسی ہراسانی یا ریپ کے مقدمات میں اگرچہ ملزم کو سزا دلوانا مشکل ہے، مگر ایسے جرائم کے خلاف نفرت، مزاحمت اور ہمت نہ ہارنے کا رویہ ہی حقیقی اخلاقی جرات ہے۔
یہ کہنا بہ جا ہوگا کہ جہاں عام طور پر ممنوعہ موضوعات پر آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں، وہاں مصنف نے جرات مندی سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ ڈراما ہفتے میں دو دن آن ائیر ہوتا ہے۔ یقینا ہمارے جیسے معاشرے میں، جہاں ٹی وی دیکھنے کا مطلب صرف خبری چینل دیکھنا سمجھا جاتا ہے، اس طرح کے بامقصد ڈرامے تفریحی چینلوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہیں۔ یہ رجحان دوسرے ڈراما نگاروں کو بھی متوجہ کرسکتا ہے کہ وہ صرف گلیمر کا سہارا نہ لیں، بل کہ سماجی حقیقتوں اور اخلاقی جرات پر مبنی تحریروں کی طرف آئیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے