عمران خان کی رہائی میں رکاوٹ کون؟

Blogger Rafi Sehrai

خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیرِ اعلا سہیل آفریدی بڑے غصے میں ہیں۔ اُنھیں غصہ اس بات پر ہے کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے بھی اُنھیں مقتدر حلقوں سے عزت نہیں مل رہی۔ اُن کی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ اس معاملے کو لے کر وہ ڈپریشن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ گلہ نہیں کر رہے، بل کہ باقاعدہ غصہ کر رہے ہیں کہ عدالت سے اجازت ملنے کے باوجود اُن کی ملاقات بانیِ پی ٹی آئی سے نہیں کروائی جا رہی۔
گذشتہ روز چارسدہ میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران میں سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود اُن کی ملاقات بانیِ پی ٹی آئی سے نہیں کروائی جا رہی۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اُنھوں نے پنجاب اور وفاقی حکومت کو خط بھی لکھے۔ ملاقات نہ ہونے پر میں عوام کے پاس آیا ہوں۔ جس نے قوم پر ظلم و جبر کیا ہے، اُس کو عوام کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اُنھوں نے عوام سے کہا کہ وہ تیاری پکڑ لیں، ہم بانی چیئرمین کو جیل سے نکالیں گے۔
قارئین! سہیل آفریدی جب سے وزیرِ اعلا بنے ہیں، مسلسل اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اُن کی ملاقات بانیِ پی ٹی آئی (عمران خان نیازی) سے ہو جائے، مگر وہ ابھی تک اپنی کوشش میں کام یاب نہیں ہوئے۔ وہ کیوں کام یاب نہ ہو سکے؟ یہ بات وہ خود بھی بہ خوبی جانتے ہیں۔ بیرسٹر سیف انھی کی حکومت کے نمایندہ ہیں۔ اُنھیں ملاقات سے آج تک انکار نہیں ہوا۔ سہیل آفریدی اُن کے ذریعے پیغام رسانی کر سکتے ہیں، لیکن مسئلہ پیغام رسانی کا نہیں۔ اصل مسئلہ اپنی حیثیت کو منوانے کا ہے، جس میں فی الحال وہ کام یاب نہیں ہوسکے…… لیکن حسن ایوب خان کے مطابق وہ کورٹ آرڈر کے بغیر اڈیالہ جیل بانی سے ملاقات کرنے گئے تھے۔ اس کی وجہ تو سہیل آفریدی خود ہی بتا سکتے ہیں کہ اُنھوں نے ایسا کیوں کیا؟
جہاں تک پنجاب اور وفاقی حکومت کو خط لکھنے کی بات ہے، تو یہ کام خط لکھنے والا نہیں۔ وہ پنجاب کی جیل میں بند ایک قیدی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب سہیل آفریدی کی عمل داری میں نہیں آتا کہ وہ خط کے ذریعے اطلاع دے کر کسی قیدی سے ملنے پہنچ جائیں۔ اگر اُنھوں نے وفاقی یا پنجاب حکومت کو درمیان میں لانا ہے، تو اس کے لیے اُنھیں خط لکھنے کی نہیں، بل کہ اجازت مانگنے کی ضرورت تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سہیل آفریدی بانی سے ملاقات کرنا ہی نہ چاہتے ہوں۔
دوسری طرف منصور علی خان کے ایک پروگرام میں اُس وقت شرکائے پروگرام اور ناظرین حیرت زدہ رہ گئے، جب پی ٹی آئی کے رہ نما اور عمران خان کے مرکزی وکیل انتظار پنجوتھہ نے یہ دعوا کر دیا کہ جب نواز شریف جیل میں تھے، تو وہ باقاعدہ آرڈیننسز پر دستخط کرتے تھے۔ حالاں کہ حکومت بھی ہماری تھی…… جب کہ اَب عمران خان سے ہماری ملاقات نہیں کروائی جاتی۔ منصور علی خان نے اُنھیں جب یہ کہا کہ آرڈیننس واحد دستاویز ہے، جس پر صرف صدرِ مملکت دست خط کرنے کا مجاز ہے، کوئی دوسرا شخص اس پر دست خط نہیں کر سکتا۔ نواز شریف تو کبھی صدر رہے ہی نہیں، تو پھر وہ آرڈیننس پر کیسے دست خط کر سکتے تھے؟ انتظار پنجوتھہ پھر بھی اپنی بات پر اڑے رہے اور کہا کہ آپ گوگل کر کے دیکھ لیں۔ اس پر منصور علی خان نے پروگرام میں شریک مہمانوں حسن ایوب خاں اور اختیار ولی خان کو بولنے سے منع کرتے ہوئے انتظار پنجوتھہ سے کہا کہ وہ خود ہی گوگل کر کے بتا اور دکھا دیں۔ انتظار پنجوتھہ نے گوگل سے تحریر تلاش کر کے پڑھ کر سنا دی، جو اُن کے اپنے ہی دعوے کی نفی کر رہی تھی، لیکن وہ پھر بھی اپنی بات پر قائم رہے کہ نواز شریف جیل میں آرڈیننسز پر دستخط کیا کرتے تھے۔
ایک نام ور وکیل کی جانب سے اس طرح کا مضحکہ خیز دعوا قابلِ افسوس ہی نہیں، قابلِ غور بھی ہے کہ اگر عمران خان کی وکلا کی ٹیم کے ایک اہم ممبر کی قابلیت کا یہ معیار ہے، تو باقی وکلا بھی ایسے ہی تو نہیں، جو بغیر تیاری کے عدالتوں میں پیش ہوتے ہوں اور اپنے موکل کا دفاع کرنے میں ناکام رہتے ہوں؟ ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے پارٹی ممبران وکیلوں کی بہ جائے بھاری فیس لینے والے وکلا کی خدمات حاصل کرنے پر غور شروع کر دیا ہو۔
تیسری طرف سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور رہ نما پی ٹی آئی اسد قیصر نے ایک نجی ٹی وی سے گف گو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانیِ پی ٹی آئی کی رہائی کے 200 فی صد امکانات ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بانی کے کیس میرٹ پر چلیں، تو ایک دن بھی جیل میں نہیں رہیں گے۔
مذکورہ نشست میں اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ بانیِ پی ٹی آئی کی بنی گالہ منتقلی پر پارٹی میں مشاورت کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ کہیں منتقلی کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں، یہ حکومت کی صواب دید ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے اس وقت موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ نومبر میں احتجاج سے متعلق کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔ بانی نے تحریک کی ذمے داری محمود اچکزئی کو دی ہے۔ ہم نے جلسوں کے ذریعے عوام کو متحرک کرنا ہے۔
اسد قیصر کے اس بیان کا تجزیہ کیا جائے، تو اس میں تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ بانیِ پی ٹی آئی کی بنی گالہ منتقلی پر رضامند نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف اس بات کی تردید بھی کر رہے ہیں کہ اُن کے موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ رابطوں کے بغیر اتنا بڑا فیصلہ ہوجائے، جب کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھنے پر تیار نہ ہو۔ سمجھنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بیک ڈور چینلوں سے رابطوں کے بغیر ایسی بیلیں منڈھے نہیں چڑھا کرتیں۔ وہ میرٹ پر کیسوں کی بات کر رہے ہیں، جب کہ خان کے خلاف فیصلوں میں ان کے وکلا بھی برابر کے شریک ہیں۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بانیِ پی ٹی آئی کے خلاف ثبوت اتنے پکے ہوں کہ وکلا کے پاس اُنھیں جھٹلانا ممکن نہ ہو۔ نومبر میں احتجاج کے زیرِ غور نہ ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سہیل آفریدی ابھی اس امتحان کے لیے تیاری نہیں کرسکتے…… لیکن اگر اس بات کو محمود اچکزئی کی تحریک کی قیادت کی ذمے داری سے ملا کر دیکھا جائے، تو یہ مقتدرہ کے لیے خیرسگالی کے جذبات کا پیغام بھی ہوسکتا ہے۔
چوتھی طرف رکنِ قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سابق رہ نما شیر افضل مروت نے عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ عمران خان، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیل تقریباً طے پا چکی تھی، جس کے تحت عمران خان کی رہائی بھی متوقع تھی، تاہم رینجرز کے واقعے نے سارا معاملہ ختم کر دیا۔
شیر افضل مروت کے مطابق 3 نومبر کو مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے لیے ایک 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں علی امین گنڈاپور، بیرسٹر گوہر علی خان، محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ شامل تھے، جب کہ بعد میں وہ خود بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بن گئے۔
شیر افضل مروت نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران میں کئی امور پر اتفاقِ رائے ہوچکا تھا، جن میں عمران خان کی رہائی بھی شامل تھی۔ اس سلسلے میں وزیرِ داخلہ نے اپنا جہاز بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف کے لیے فراہم کیا، تاکہ وہ اٹک جیل جا کر عمران خان کو مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کر سکیں۔
شیر افضل مروت کے بہ قول، 25 نومبر کو بیرسٹر گوہر اٹک جیل پہنچے، جہاں عمران خان کا ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا جانا تھا۔ اُس پیغام میں عمران خان نے اپنے کارکنوں کو ہدایت دینی تھی کہ وہ سنگجانی میں اُن کی رہائی تک قیام کریں۔ اُن کے مطابق بیرسٹر گوہر سے ویڈیو بنانے کے لیے موبائل مانگا گیا، تو اُنھوں نے کہا موبائل جیل میں نہیں لایا، کیوں کہ اس کی اجازت نہیں ہے۔ جیل کے ایک اہل کار نے کہا کہ یہ میرا موبائل ہے، اس کی مدد سے ویڈیو بنالیں، لیکن عمران خان نے جیل اہل کار کے موبائل کے ذریعے ویڈیو بنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شک ہے کہ ویڈیو ’’ٹیمپر‘‘ نہ کر دی جائے۔ پھر فیصلہ کیا گیا کہ اگلی صبح بیرسٹر گوہر اپنا موبائل لائیں گے اور پیغام ریکارڈ کیا جائے گا۔
شیر افضل مروت نے دعوا کیا کہ اسی رات رینجرز کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد تمام طے شدہ معاملات ختم ہوگئے۔ اُن کے مطابق اس وقت تک ریاست کسی تصادم کی خواہش مند نہیں تھی، اس لیے ہر قسم کے کمپرومائز پر آ چکی تھی…… مگر رینجرز واقعے کے بعد سب ختم ہو گیا۔ یہ ڈیل تھی، اس کے تحت صبح عمران خان کی رہائی ہونا تھی۔
قارئینِ کرام! اب فیصلہ خود ہی کر لیجیے کہ عمران خان کی رہائی کی راہ میں کون رکاوٹ ہے؟ شیر افضل مروت کے دعوے کو ابھی تک کوئی جھٹلایا نہ پایا۔ اس کا مطلب ہے کہ عمران خان ڈیل کرچکے تھے۔ عمران خان اگر باہر آگئے، تو پی ٹی آئی کے بہت سے لیڈر ’’بونے‘‘ ہو جائیں گے۔ کتنے ہی ’’یوٹیوبرز‘‘ بے روزگار ہوجائیں گے۔ عمران خان کا نہ جھکنے والا، نہ ڈیل کرنے والا بُت بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنا ان ’’بینفیشریز‘‘ کی مجبوری ہے۔ اگر معتدل مزاج لیڈرشپ نے معاملات اپنے ہاتھ میں نہ لیے، تو اشتعال دلانے والے 2026ء میں بھی بانیِ پی ٹی آئی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہیں گے۔ وہ جیل کاٹے گا اور مفاد پرست فائدے اٹھائیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے