زمانہ حال کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ہم معلومات کے ایک سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں، مگر اس سیلاب میں غوطہ لگانے کا شوق دم توڑ چکا ہے۔ ایک وہ دور تھا، جب علم اور تفریح کا واحد ذریعہ کاغذ اور سیاہی کی بنی کتابیں تھیں۔ آج، اس شان دار عہد کی یادیں مٹتی جا رہی ہیں اور کتب بینی کا ذوق ایک قیمتی نوادرات کی طرح عجائب گھروں کی زینت بننے کو ہے۔
٭ ماضی کا سنہرا دور:۔ وہ زمانہ اب ایک خواب جیسا لگتا ہے، جب ہر طبقے اور ہر عمر کے لوگ کتب خانے کا رُخ ذوق و شوق سے کرتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم اسکول کے طالب علم تھے، تو کتابوں کی اہمیت کیا تھی۔ مینگورہ شہر ہی میں کئی ایک ایسے نجی کتب خانے ہوا کرتے تھے جہاں کتابیں کرائے پر دست یاب تھیں۔ ہر گلی محلے میں ایک ایسی جگہ تھی، جہاں چند سکوں کے عوض ہفتے بھر کا فکری سامان مل جایا کرتا تھا۔ میونسپل لائبریری کا حال تو اور ہی دل کش تھا؛ وہاں کتب بینوں اور اخبار بینوں کا ایک مستقل جمگھٹا لگا رہتا تھا، جہاں سیاسی، ادبی اور سماجی موضوعات پر بحثیں ہوا کرتی تھیں۔
بعض رسالے ، جیسے ’’اخبارِ جہاں‘‘، لوگ سال بھر کے لیے پیسے دے کر باقاعدگی سے گھر منگوایا کرتے تھے۔ یہ صرف رسالے نہیں تھے، بل کہ گھر کے ثقافتی شیڈول کا حصہ تھے۔ اسکول کے بچوں کے اپنے محبوب رسالے اور کہانیوں کی کتابیں ہوتی تھیں، جب کہ کالج کے طلبہ، بالخصوص خواتین کی ایک بڑی تعداد، مخصوص ادبی ڈائجسٹوں کی دل دادہ تھی۔ یہ ایک ایسا دور تھا، جہاں کتاب کو وقت گزاری نہیں، بل کہ شخصیت سازی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
٭ ٹیکنالوجی کا ظہور اور زوالِ ذوق:۔ افسوس! وہ دور گزر گیا۔ کتب بینی کا وہ جنون اَب باقی نہیں رہا۔ اس کی سب سے بڑی اور واضح وجہ جدید ٹیکنالوجی کی آمد، خاص کر موبائل فون کا عام ہو جانا ہے۔ موبائل فون نے دنیا کو ہماری مٹھی میں تو دے دیا، مگر ہماری توجہ کو ہزار ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ لمبی تحریریں پڑھنے کا صبر کم ہوتا چلا گیا۔
یہ درست ہے کہ اب کتابیں ’’پی ڈی ایف‘‘ (PDF) کی شکل میں موبائل فون اور دوسرے الیکٹرانک آلات میں دست یاب ہیں، مگر یہ عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسکرین پر پڑھنا اُس روحانی سکون سے خالی ہے، جو ایک ہاتھ میں کتاب تھامنے، صفحات پلٹنے اور خوش بو محسوس کرنے سے ملتا ہے۔ ایک سنسنی خیز پیش گوئی یہ کی جاتی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا، جب نئی نسل کتاب کو پہچانے گی بھی نہیں اور اس دور کو ’’کاغذ کا زمانہ‘‘ کہا جائے گا، جیسے پرانے وقتوں کو ’’پتھر کا زمانہ‘‘ کَہ کر یاد کیا جاتا ہے۔
٭ جدیدیت اور روایت کا امتزاج:۔ ان مشکل حالات کے باوجود بھی، اُمید کی کرن موجود ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ باقاعدہ کتابیں پڑھتے ہیں، مصنفین نئی کتابیں لکھتے اور چھاپتے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وقت پہلے جیسا نہیں رہا۔ اَب ہمیں پرانے اور نئے طریقوں کو ملا کر ایک نئی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ ضرورت اس امر کی متقاضی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو کتاب کا حریف نہیں، بل کہ معاون بنا کر نئی نسل کو کتاب سے آشنا کیا جائے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو صرف سستی تفریح کے لیے نہیں، بل کہ مطالعے کو پروان چڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
نئی نسل میں کتب بینی اور مطالعہ کا شوق پروان چڑھانے کے لیے درجِ ذیل اقدامات وقت کی اہم پکار ہیں:
٭ ڈیجیٹل لائبریریوں اور آڈیو بکس کے ذریعے نوجوانوں کو اُن کی پسندیدہ ڈیوائس پر معیاری مواد تک آسان رسائی فراہم کی جائے۔
٭ پرنٹ اور ڈیجیٹل دونوں صورتوں میں بہترین مواد لکھنے اور شائع کرنے والے مصنفین کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے۔ اُنھیں وہ معاوضہ اور پذیرائی دی جائے جس کے وہ حق دار ہیں۔
٭ تعلیمی اداروں میں ایسے اوقات مقرر کیے جائیں، جہاں طلبہ صرف طبع شدہ کتابیں پڑھیں، تاکہ وہ کاغذ کے لمس اور مطالعے کی گہرائی سے دوبارہ جڑ سکیں۔
کتاب دراصل کسی قوم کی فکری میراث ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اس میراث کو ٹیکنالوجی کی رو میں بہہ جانے دیا، تو ہمارا ثقافتی اور فکری مستقبل تاریک ہوسکتا ہے۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کی رفتار کو سست کیے بغیر، کتب بینی کے شوق کو نئی توانائی اور جدید وسائل سے دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










