انسانی زندگی کی بقا صرف سانسوں کی روانی پر منحصر نہیں، بل کہ اس کا خون کے بہاو پر بھی انحصار ہے۔ خون وہ قیمتی عطیہ ہے، جو انسان کے جسم کو نہ صرف زندہ رکھتا ہے، بل کہ زندگی کی حرارت کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں بلڈ گروپس کی تقسیم ایک دل چسپ حقیقت ہے۔ کسی کے جسم میں ’’اُو پازیٹو‘‘(O+) خون بہتا ہے، تو کسی کے اندر ’’بی نیگٹو‘‘(B-)۔ کسی کے لیے یہ ایک سادہ سا میڈیکل ڈیٹا ہے، مگر کسی (مریض) کے لیے یہی اعداد و شمار زندگی اور موت کے درمیان کھڑی دیوار بن جاتے ہیں۔
دنیا کی آبادی میں تقریباً 37 فی صد افراد کا خون ’’اُو پازیٹو‘‘ ہوتا ہے، 33 فی صد کا ’’اے پازیٹو‘‘، 23 فی صد کا ’’بی پازیٹو‘‘ جب کہ صرف 7 فی صد افراد کے وجود میں ’’اے بی پازیٹو‘‘خون دوڑ رہا ہوتا ہے۔
اب اگر ہم پاکستان کی بات کریں، تو یہاں ’’بی پازیٹو‘‘ گروپ سب سے زیادہ اور عام ہے، جو تقریباً 38 فی صد آبادی میں موجود ہے اور ’’اے بی پازیٹو‘‘ صرف 5 فی صد…… یعنی ہمارے ملک میں بھی خون کے بعض گروپ عام ہیں اور کچھ نایاب، خاص طور پر منفی گروپ (Rh)،جن کی مجموعی شرح 5 فی صد سے بھی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی مریض کو ’’اُو‘‘ یا ’’بی‘‘ گروپخون کی ضرورت پڑتی ہے، تو اسپتالوں کے دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود اکثر مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں خون دینے کا رجحان بہت کم ہے۔ ہم جنازوں میں تو بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں، مگر خون دینے کے موقع پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ حالاں کہ ایک صحت مند انسان سال میں 3 تا 4 مرتبہ خون عطیہ کرسکتا ہے ، جس سے نہ صرف دوسروں کی زندگیاں بچتی ہیں، بل کہ خود عطیہ دینے والے کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔
سائنس بھی یہ ثابت کر چکی ہے کہ خون دینے سے جسم میں نئے خلیے پیدا ہوتے ہیں، خون صاف ہوتا ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں بلڈ ڈونیشن کو ایک وقتی نیکی سمجھا جاتا ہے، کوئی باقاعدہ سماجی روایت نہیں۔ اکثر نوجوان صرف کسی دوست یا عزیز کو ایمرجنسی کے وقت خون دیتے ہیں، مگر یہ عمل خودکار اور منظم ہونا چاہیے۔ ہمارے تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور مساجد میں باقاعدہ بلڈ کیمپ لگنے چاہییں۔ حکومت اور میڈیا کو اس عمل کو عبادت کے درجے میں اُجاگر کرنا ہوگا۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ ’’اُو‘‘ گروپ والے افراد کو ’’یونیورسل ڈونر‘‘کہا جاتا ہے، یعنی اُن کا خون ہر گروپ والے شخص کو دیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ’’اے بی پازیٹو‘‘ والے لوگ ’’یونیورسل ریسپینٹ‘‘ ہوتے ہیں، یعنی وہ ہر گروپ کا خون لے سکتے ہیں…… مگر یہ نایاب گروپس ہی جب کسی حادثے یا آپریشن کے دوران میں دست یاب نہیں ہوتے، تو کتنی زندگیاں لمحوں میں بجھ جاتی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنا بلڈ گروپ جانے ، قریبی بلڈ بینک میں رجسٹر ہو اور ہر سال کم از کم ایک مرتبہ خون عطیہ کرے۔
اگر حکومت چاہے، تو شناختی کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ بلڈ گروپ درج کرے۔ ہسپتالوں میں جدید بلڈ بینک قائم کیے جائیں اور دیہی علاقوں میں ’’موبائل بلڈ کلیکشن یونٹس‘‘ بنائے جائیں۔ کیوں کہ اکثر حادثات، زچگی کے کیس اور ایمرجنسی سرجریاں ایسی جگہوں پر ہوتی ہیں، جہاں خون فوراً دست یاب نہیں ہوتا۔
خون دینا دراصل زندگی کو بانٹنے کا نام ہے۔ یہ کوئی بڑی قربانی نہیں، بل کہ ایک انسانیت کا تقاضا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے، جہاں انسانیت اور عبادت ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔ کسی نوزائیدہ بچے کو زندگی کی پہلی سانس دینے کے لیے، کسی ماں کو زچگی میں بچانے کے لیے یا کسی حادثے کے شکار نوجوان کو واپس زندگی دلانے کے لیے چند بوندیں کافی ہوتی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں کہ خون دینا صرف اسپتالوں کی ضرورت نہیں، بل کہ یہ ایک سماجی فریضہ ہے۔ اگر ہر شخص سال میں ایک بار بھی خون دے، تو پاکستان میں خون کی کمی کا کوئی مسئلہ باقی نہ رہے۔ ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ خون دینے سے کم زوری آتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خون نہ دینے سے ہماری معاشرتی روح کم زور ہو رہی ہے۔
لہٰذا آئیں، آج یہ عہد کریں کہ ہم زندگی کی حرمت کے محافظ بنیں گے۔ ہم خون نہیں، اُمید عطیہ کریں گے۔ کیوں کہ کسی اَن جانی مسکراہٹ کے پیچھے آپ کے خون کی چند بوندوں کا کردار ہوسکتا ہے اور شاید یہی انسانیت کا اصل حسن ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










