ریور سوات مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام، وقت کی ضرورت

Blogger Fazal Maula Zahid Swat

15 اگست 2025ء کے ہول ناک سیلاب نے سوات کی کئی زرخیز وادیوں کو ریگستان میں بدل دیا۔ قدرت کے قہر نے جہاں ہزاروں ایکڑ زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، وہیں ناقص حکم رانی، جنگلات کی کٹائی، تعمیرات کی سونامی اور ماحولیاتی بگاڑ نے اس تباہی کو کئی گنا بڑھا دیا۔ کبھی سرسبز کھیتوں اور پھلوں کے باغات سے لدی پھندی یہ وادی آج لاکھوں ٹن کیچڑ اور ملبے کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ سوات کی تقریباً 70 فی صد آبادی بہ راہِ راست زراعت پر انحصار کرتی ہے اور یہ آفت اُن کے روزگار، خوراک اور بقا تینوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
کئی علاقوں میں دھان کی فصل کٹائی کے قریب تھی۔ زیادہ تر کسان اوسطاً 30 ہزار روپے فی ایکڑ ہل چلانے، آب پاشی، کھاد اور مزدوری پر خرچ کر چکے تھے۔ مکئی اور سبزیاں بھی خوب تیار تھیں، مگر ندی نالوں کی شدید طغیانی نے اُن سب کو بہا کر رکھ دیا۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق، سوات بھر میں تقریباً دو ہزار ایکڑ زرعی زمین مکمل طور پر بہہ گئی ہے، جب کہ تیز بارشوں نے لگ بھگ 30 ہزار ایکڑ ڈھلوان زمینوں کی بالائی مٹی بھی اپنے ساتھ بہا دی ہے، وہی مٹی جو نسلوں سے غذائی تحفظ کی ضامن تھی۔
واسا کی ایک رپورٹ کے مطابق، 5 کروڑ 20 لاکھ مکعب فٹ کیچڑ اور ریت یعنی تقریباً 23 لاکھ ٹن ملبہ بنگلہ دیش، لنڈے کس، مکان باغ، کوکارئی اور مرغزار درہ کے بڑے حصوں کو ڈھانپ چکا ہے۔ زمین کی زرخیزی ختم ہو چکی ہے اور ماہرین کے مطابق ان علاقوں کو دوبارہ قابلِ کاشت بننے میں پانچ سے سات سال لگ سکتے ہیں۔
اس حوالے سے کوکارئی کے 70 سالہ فضل کرم بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے تین ایکڑ پر چاول کاشت کیا تھا، جس پر 80 ہزار روپے خرچ آیا۔ ہر سال اس سے 5 لاکھ روپے کی آمدنی ہوتی تھی۔ ’’اب وہ زمین جو ہمارے 10 افراد کے خاندان کے گزر بسر کا ذریعہ تھی، ریت اور پتھروں میں دفن ہوچکی ہے۔‘‘
یہ صرف ایک فضل کرم کی نہیں، بل کہ سوات کے ہزاروں کسانوں کی مشترکہ کہانی ہے۔ اسی طرح 50 سالہ راشد احمد اپنی ایک ایکڑ مکئی کی فصل سے محروم ہوئے ہیں، جو پورے سال ان کے گھرانے کے لیے خوراک کا ذریعہ تھی۔
کوکارئی ویلج کونسل کے چیئرمین گوہر علی کے مطابق، نقصان صرف فصلوں کا نہیں، بل کہ بنیادی ڈھانچے کا بھی ہے۔ کوکارئی وادی میں چھے پل بہہ گئے، جب کہ 50 کلومیٹر سے زیادہ زرعی سڑکیں ناقابلِ استعمال ہوگئی ہیں۔ اکثر کسان اپنی سبزیاں اور پھل مینگورہ تک نہیں پہنچاسکتے۔ املوک اور ناشپاتی کے باغوں میں پھل گل سڑ رہے ہیں اور بازاروں میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
یوں فصلوں کی تباہی اور منڈیوں تک رسائی میں مشکلات نے کسانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔
اندازہ ہے کہ ہزاروں ایکڑ زرخیز زمین کے بنجر ہونے اور پیداوار میں کمی کے باعث اگلے چند برسوں میں یہاں کے زرعی شعبے کو 50 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ یہ محض مقامی مسئلہ نہیں، بل کہ قومی المیہ ہے۔ کیوں کہ سوات کے پھل، چاول، مکئی اور سبزیاں پشاور، مردان، راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور کی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ سپلائی میں کمی کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔
یہ تباہی پہلی بار نہیں آئی۔ 2010ء اور 2022ء کے سیلابوں نے بھی ہماری ناقص منصوبہ بندی، درختوں کی کٹائی اور دریا کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات کی سنگینی کو عیاں کیا تھا۔ بدقسمتی سے ان واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ اب ایک بار پھر غیر سنجیدہ حکومتی رویہ اور بدانتظامی نے قدرتی آفت کو ایک انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔
اب تک حکومتی ردِعمل محض نقصانات کے تخمینے اور عارضی امداد تک محدود ہے، وہ بھی بے دلی کے ساتھ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بہ حالی کا ایک جامع منصوبہ بنایا جائے، جس میں کاشت کاروں کو مفت بیج اور کھاد فراہم کیا جائے، ملبہ صاف کرنے کے لیے مشینری دی جائے، زمین کی زرخیزی بہ حال کرنے کے منصوبے بنائے جائیں، چھوٹے کسانوں کو بغیر سود کے قرضے دیے جائیں، زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی بند تعمیر کیے جائیں اور بالائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے، تاکہ مٹی کے کٹاؤ کو روکا جاسکے۔
اس کے ساتھ ہی حکومت کو دریائے سوات پروٹیکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کی تجویز پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے، جو دریا اور اس سے جڑے ندی نالوں کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی کرے، سیلاب سے بچاو کے منصوبے بنائے، آب پاشی کے نظام کو جدید بنائے اور بالائی علاقوں میں جنگلات کی بہ حالی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائے۔ سب سے بڑھ کر، یہ ادارہ مقامی کسانوں، ماہرینِ ماحولیات اور کمیونٹی نمایندوں کے ساتھ اشتراک میں کام کرے، تاکہ دریائے سوات کے پورے نظام کو محفوظ اور پائیدار بنایا جاسکے۔ دریا کا تحفظ دراصل سوات کے کھیتوں، کسانوں اور مستقبل کا تحفظ ہے ۔
یہ سیلاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماحولیاتی بے پروائیکس طرح زرعی تباہی میں بدل سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کی کٹائی کے باعث پاکستان کے شمالی علاقے ہر سال زیادہ خطرناک بنتے جا رہے ہیں۔ اگر موثر آبی نظم و نسق نہ اپنایا گیا، تو یہ المیہ ہر سال ایک نئی شکل میں سامنے آئے گا۔
سوات کی زمینوں کی بہ حالی محض ایک امدادی عمل نہیں، بل کہ قومی عزم کا امتحان ہے ۔ سوات کے لوگ جفاکش اور باحوصلہ ہیں؛ وہ پہلے بھی تباہیوں سے نکل کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ اس بار انھیں عارضی ہم دردی نہیں، بل کہ مستقل تحفظ دیا جائے۔
دریائے سوات پروٹیکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام اسی سمت میں ایک فیصلہ کن قدم ہوگا، جو زرعی معیشت کی بہ حالی اور قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
2025ء کا یہ سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں، بل کہ ایک انتباہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی غفلت نہ چھوڑی، تو ماحولیاتی بحران صرف وادیِ سوات کی زراعت ہی نہیں، بل کہ زندگی کے تمام رنگ نچوڑ لے گا۔ یہ صورتِ حال حکم رانوں کی مجرمانہ بے حسی کا واضح ثبوت ہوگی، جس کا حساب دینا پڑے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے