’’سوات کوہستان قومی جرگہ‘‘ کا اعلامیہ

Blogger Zubair Torwali

سوات کوہستان قومی جرگہ دراصل ’’امن جرگہ، کالام‘‘ کے زیر اہتمام 5 اکتوبر 2025ء کو ہوا، اعلامیہ ذیل میں ملاحظہ ہو:
ہم، سوات کوہستان (تحصیلِ بحرین) کے عوامی نمایندگان، آج کالام میں جمع ہوکر اپنے تاریخی وطن، اپنی ثقافت، اپنی زبانوں اور اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے یہ اعلامیہ پیش کرتے ہیں۔ یہ قومی جرگہ بحرین، مدین، کالام اور ان سے جڑی تمام وادیوں، دیہات اور برادریوں کا مشترکہ فورم ہے، جس میں توروالی، گاؤری، گوجری، اُوشوجو، کھوار اور پشتو زبان بولنے والی اقوام یک جا ہیں۔
سوات کوہستان، ضلع سوات کے کل رقبے کا تقریباً 60 فی صد ہے، مگر یہ علاقہ مسلسل ریاستی عدم توجہی اور ناانصافیوں کا شکار رہا ہے۔ یہ خطہ اپنی قیمتی جنگلات، آبی وسائل، معدنیات، چراگاہوں، سیاحت اور متنوع زبانوں کی بہ دولت پورے پاکستان کا سرمایہ ہے، مگر ذکر شدہ وسائل نے اسے بار بار استحصالی قوتوں کی توجہ کا نشانہ بنایا ہے۔ پچھلے 20 برسوں میں تین مہلک سیلاب، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور پن بجلی منصوبوں کی یلغار نے یہاں کے لوگوں کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم اپنی زمین، وسائل اور شناخت کے تحفظ کے لیے پُرامن لیکن پُرزور جد و جہد جاری رکھیں گے۔ اور ہم حکومتِ پاکستان، حکومتِ خیبر پختونخوا اور عالمی اداروں سے درجِ ذیل مطالبات کرتے ہیں:
1) انتظامی انصاف اور اَپر سوات ضلع:۔ اَپر سوات ضلع کے قیام میں تحصیلِ بحرین کے عوام کو مشاورت میں شامل نہ کرنا ہماری بے توقیری ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلع اَپر سوات کا ہیڈکوارٹر بحرین، مدین یا باغ ڈھیرئی میں قائم کیا جائے، تاکہ عوامی رسائی ممکن ہو۔ اگر مکمل ہیڈکوارٹر یہاں منتقل نہ بھی ہوسکے، تو کم از کم بڑے محکموں کے دفاتر یہیں ہونے چاہییں۔
2) تعلیم، ترقی کا بنیادی حق:۔ یونین کونسل مانکیال، بالاکوٹ، بشیگرام اور اُتروڑ میں تعلیمی سہولتوں کی شدید کمی ہے۔ بحرین تا کالام ثانوی اور اعلا تعلیم کے ادارے نہ ہونا ظلم کے مترادف ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
٭ فوری طور پر کالام میں سوات یونیورسٹی کا کیمپس قائم کیا جائے۔
٭ تمام ہائی اسکولوں کو مکمل اسٹاف اور جدید سہولتوں کے ساتھ فعال کیا جائے۔
٭ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے علاحدہ اسکول اور کالج قائم کیے جائیں۔
3) آبی وسائل اور پن بجلی منصوبے:۔ دریائے سوات اور اس کی شاخوں پر بننے والے پن بجلی منصوبے مقامی عوام کی مشاورت کے بغیر ان پر ایک طرح سے مسلط کیے گئے ہیں۔ ’’مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ‘‘ کے خلاف توروالی عوام کی 14 ماہ طویل مزاحمت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنے وسائل پر اجارہ داری کو قبول نہیں کرتے۔
ہم اعلان کرتے ہیں کہ:
٭ کوئی بھی منصوبہ مقامی شمولیت اور رضامندی کے بغیر تسلیم نہیں ہوگا۔
٭ پن بجلی سے پیدا ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ مقامی عوام کو دیا جائے ۔
٭ متاثرہ برادریوں کی آباد کاری اور روزگار کی ضمانت فراہم کی جائے۔
4) جنگلات،بقا کا سہارا:۔ دیودار اور دیگر قیمتی درختوں کی غیر قانونی کٹائی، سمگلنگ اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے مقامی مالکانہ حقوق کے خاتمے کو ہم مسترد کرتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
٭ مقامی لوگوں کو جنگلات پر دوبارہ حقِ ملکیت دیا جائے۔
٭ متبادل توانائی (بجلی، گیس) فراہم کی جائے، تاکہ ایندھن کے لیے جنگلات پر انحصار کم ہو۔
٭ جنگلات کے تحفظ کے لیے مقامی کمیٹیاں بااختیار بنائی جائیں۔
5) سیاحت اور مقامی حقوق:۔ سیاحت، مقامی روزگار کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے، لیکن حکومتی پالیسیوں اور ’’سیکشن 4‘‘جیسے قوانین نے عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کردیا ہے۔ ’’اَپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘‘ میں مقامی نمایندگی نہ ہونا واضح ناانصافی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
٭ سیاحت کے تمام منصوبوں میں مقامی عوام کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔
٭ مقامی نوجوانوں کو سیاحت کے شعبے میں تربیت اور ملازمت دی جائے۔
٭ بے ہنگم سیاحت سے ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کو روکا جائے ۔
6) مقامی تنازعات اور امن:۔ جنگلات اور چراگاہوں پر تنازعات بعض اوقات شدت پسندی اور تشدد میں بدل جاتے ہیں۔ ہم تجویز کرتے ہیں کہ ایک مقامی امن کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ان تنازعات کو جرگہ اور قانونی طریقے سے حل کرے۔
7) تجاوزات اور دریائے سوات پروٹیکشن ایکٹ:۔ 2014ء کا پروٹیکشن ایکٹ زمینی حقائق کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر 200 فٹ زمین دونوں اطراف میں دریا کو دے دی جائے، تو اس طرح تو کئی گاؤں ختم ہوجائیں گے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قانون پر فوری نظرِثانی کی جائے۔
8) صحت کے بنیادی حقوق:۔ بحرین اور کالام کے درمیان کوئی فعال اسپتال نہ ہونا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
٭ بحرین اور کالام میں جدید سہولتوں سے آراستہ اسپتال قائم کیے جائیں۔
٭ بی ایچ یو اور آر ایچ یو مراکز کو مکمل فعال بنایا جائے۔
٭ سول اسپتال کالام کو مکمل طور پر ہر موسم میں پوری طرح فعال رکھا جائے۔
9) موسمیاتی تبدیلی:۔ گلیشیرز کا تیزی سے پگھلنا، سڑکوں اور پلوں کا بار بار ٹوٹنا اور مسلسل سیلاب اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ علاقہ شدید خطرے میں ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
٭ حکومت اس خطے کو ترجیحی بنیادوں پر موسمیاتی فنڈز دے۔
٭ مقامی کمیونٹیوں کو ماحولیاتی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے۔
10) بنیادی ڈھانچا اور سڑکیں:۔ بحرین تا کالام روڈ اور پلوں کی مرمت میں مسلسل تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ این ایچ اے فوری طور پر اس سڑک کو مکمل طور پر بہ حال کرے۔
11) زبانیں اور ثقافتی حقوق:۔ توروالی، گاؤری اور گوجری زبانیں ہماری شناخت ہیں۔ 2023ء میں ہائی کورٹ میں مقدمہ جیتا گیا کہ یہ زبانیں مردم شماری میں شامل ہوں۔
اب اگلا قدم یہ ہوگا کہ:
٭ ان زبانوں کو پرائمری نصاب میں شامل کیا جائے۔
٭ سوات یونیورسٹی میں ان زبانوں پر تحقیق کا مرکز قائم کیا جائے۔
٭ ’’خیبر پختونخوا ریجنل لینگویجز پروموشن اتھارٹی‘‘ کو فوری فعال کیا جائے۔
اختتامی اعلامیہ:۔ سوات کوہستان قومی جرگہ اعلان کرتا ہے کہ:
٭ ہم اپنی سرزمین، وسائل، زبانوں اور ثقافت کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔
٭ ہم حکومتِ پاکستان، خیبر پختونخوا حکومت اور عالمی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔
٭ اگر یہ مطالبات نظرانداز کیے گئے، تو ہم اپنی بقا کے لیے آئینی، جمہوری اور اجتماعی جد و جہد کو مزید وسیع کریں گے۔
٭ یہ اعلامیہ ہمارے اجتماعی عزم اور یک جہتی کی علامت ہے ، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، بااختیار اور پائیدار مستقبل کا عہد ہے۔
جرگے سے ممبر صوبائی اسمبلی این اے 3 ڈاکٹر امجد علی خان، پختو نخوا امن جرگے کے سربراہ سید علی شاہ باچا، ضلعی زکوات چیئرمین ملک آصف شہزاد، حاجی معراج الدین، سابق ناظم محمد اقبال، عقیل زادہ، حبیب اللہ ثاقب، ملک امیر سید، ملک نوازش علی، ملک بخت بلند، راجہ ممتاز چموٹ، ممتاز گوجر، ڈاکٹر شاہ محمد خان، ملک جہانزیب خان، حمید کالامی، مولانا ابن روزی، طارق حسن زیب، سید حاکم شاہ، نواب خان ، غلام ربی، زبیر توروالی اور دیگر نے خطاب کیا۔ جرگے میں 600 سے زائدافراد نے شرکت کی۔
اس جرگے میں پوری تحصیلِ بحرین، کالام، بحرین، مدین، اُتروڑ، پشمال لائیکوٹ، بالاکوٹ، مانکیال، توروال، کیدام، ساتال اور دیگر علاقوں سے لوگوں نے شرکت کی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے