’’شاہی خاندان‘‘ کہلانے کا مستحق کون؟

Blogger Malak Gohar Iqbal Khan Ramakhel

تاریخ ہمیشہ سوال اُٹھاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن سوالوں کے جوابات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ سوات کی تاریخ میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا سابق ریاستِ سوات کے حکم رانوں کو واقعی ’’شاہی خاندان‘‘ کہا جا سکتا ہے؟
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں، تو ہمیں سب سے پہلے باچا صاحب عبد الودود کا ذکر ملتا ہے۔ 1917ء میں سوات کے قبائلی جرگے نے باہمی مشاورت اور عوامی اتفاقِ رائے سے اُنھیں سوات کا حکم ران منتخب کیا۔ اُنھوں نے 1949ء تک ریاستِ سوات پر حکومت کی اور اس دوران میں عدلیہ، تعلیم اور انتظامی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات کیں، جو آج بھی یاد رکھی جاتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ یوسف زئی قبائل نے اس خطے کو بہ زورِ بازو فتح کیا تھا۔ تاہم اپنی نسلی برابری کے سبب وہ آپس میں اس بات پر متفق نہ ہوسکے کہ حکم ران کس کو بنایا جائے؟ بالآخر اکابرین نے غیر یوسف زئی ’’عبد الودود‘‘ کو حکم ران تسلیم کیا۔ ہم اپنے اکابرین کے اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ باچا صاحب اور اُن کے جانشین واقعی اچھے حکم ران ثابت ہوئے۔ اُن کی خدمات اور اصلاحات کا انکار ممکن نہیں، لیکن اُنھیں ’’شاہی خاندان‘‘ قرار دینا تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں۔
1949ء میں باچا صاحب کے بعد اُن کے جانشین میاں گل عبد الحق جہانزیب کو ’’والی سوات‘‘ کا درجہ دیا گیا۔ اُن کا منصب بادشاہت نہیں، بل کہ عملی طور پر گورنر جنرل کے مساوی تھا۔ اُنھوں نے جدید طرزِ حکومت کو فروغ دیا اور ریاست کے نظم و نسق کو مزید بہتر بنایا۔ تاہم بدلتے حالات اور علاقائی تقاضوں کے تحت اُنھوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور 1969ء میں سوات کو باضابطہ طور پر پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ شاہی خاندان کس کو کہا جائے گا؟
تاریخ کے مطابق شاہی خاندان وہ ہوتا ہے، جو بہ زورِ شمشیر کسی ملک یا سلطنت کو فتح کرے اور وہاں کم از کم تین نسلوں تک اقتدار قائم رکھے۔ عثمانی اور مغل سلطنتیں اس کی روشن مثالیں ہیں۔ عثمانیوں نے چھے صدیوں تک اناطولیہ، یورپ اور افریقہ کے بڑے حصے پر حکومت کی، جب کہ مغل سلطنت نے بابر سے لے کر اورنگزیب تک کئی نسلوں پر محیط اقتدار قائم رکھا۔ یہی وہ معیار ہے، جو شاہی خاندان کی پہچان ہے۔
اس تناظر میں اگر دیکھا جائے، تو عبد الودود اور اُن کے جانشین عبد الحق جہانزیب قابلِ احترام حکم ران ضرور تھے، مگر اُنھیں ’’شاہی خاندان‘‘ کہنا درست نہیں۔ نہ وہ ابتدا سے بادشاہ تھے اور نہ اُن کی اولاد کو شہزادے کہا جا سکتا ہے۔
جہاں تک موجودہ تنازع کا تعلق ہے، جو ایم پی اے فضل حکیم اور سابقہ ریاستِ سوات کے حکم ران خاندان کی اولاد کے درمیان ہے ، میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ والی سوات کا محل اُن کی اولاد کی ملکیت ہے۔ یہ عمارت صرف ایک گھر نہیں، بل کہ سابق ریاستِ سوات کی ایک اہم نشانی ہے۔ اس کا احترام کرنا اور اسے ریاستِ سوات کی یادگار کے طور پر محفوظ رکھنا ہر شہری کا اخلاقی فرض ہے۔
ریاستیں بدلتی ہیں، حکم ران آتے اور جاتے ہیں، لیکن تاریخ کی نشانیوں کو محفوظ رکھنا ہی اصل شعور اور مہذب قوموں کی پہچان ہے۔ شاہی خاندان کا درجہ صرف تاریخ دیتی ہے، مگر نشانیوں کا احترام ہر ذمے دار شہری کا فرض ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے