ڈاکٹر سوزین سولنیئرز، محبت و خدمت کا پیکر

Blogger Hazir Gul

زندگی کے کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں، جو محض رشتوں کی حدود سے بڑھ کر دل کے تاروں کو چھولیتے ہیں۔ ڈاکٹر سوزین سمتھ سولنیئرز میرے لیے ایسی ہی ہستی تھیں: ایک استاد، ایک راہ نما اور سب سے بڑھ کر ایک ماں۔
سنہ 2007ء کی بات ہے، جب میں انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی میں بہ طور اسسٹنٹ سوشل آرگنائزر بھرتی ہوا۔ اُس وقت ڈاکٹر سوزین، ریکوری اینڈ ری ہبیلی ٹیشن پروگرام کی ڈائریکٹر تھیں۔ اُن کا اندازِ قیادت بے مثال تھا۔ صبح 7 بجے دفتر پہنچنا، شام گئے تک کام میں مصروف رہنا اور مانسہرہ اور آزاد کشمیر کے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر سفر کرنا اُن کے روزمرہ معمولات میں شامل تھا۔
ایک دن گھر میں حادثہ پیش آیا۔ پریشر ککر پھٹنے سے میرے اہلِ خانہ اسپتال پہنچ گئے۔ مَیں گھبراہٹ میں اجازت لینے گیا، تو اُنھوں نے کہا: ’’آپ اپنے فلیٹ جائیں، مَیں گاڑی بھیجتی ہوں!‘‘
کچھ ہی دیر بعد گاڑی آ گئی اور جب سفر شروع ہوا، تو معلوم ہوا کہ وہ خود بھی میرے ساتھ ہیں۔ بارش میں وہ میرے کچے گھر میں داخل ہوئیں۔ ہر گھر والے سے الگ الگ ملیں اور تسلی دی۔ جاتے ہوئے کہا: ’’دو ہفتے دفتر نہ آئیں، گھر والوں کے ساتھ رہیں!‘‘
اُس دن سے میرا اور اُن کا رشتہ محض رسمی نہ رہا۔ وہ مجھے بیٹا کہتیں اور میں اُنھیں ماں۔
ڈاکٹر سوزین کا علمی سفر بھی غیر معمولی تھا۔ کورنیل یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن سے دیہی سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اس شعبے میں امریکہ کی پہلی خاتون بنیں۔ یہ صرف ایک اعزاز نہ تھا، بل کہ خواتین کے لیے نئی راہیں کھولنے والی کام یابی تھی۔ اُنھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ہسٹن ٹلٹسن یونیورسٹی میں تدریس سے کیا، جو ایک تاریخی سیاہ فام کالج ہے۔ اُس کے بعد اُن کی خدمات کا دائرہ دنیا بھر میں پھیل گیا۔ پاکستان، کشمیر، مراکش، عراق، کینیا، کانگو، پیرو اور چین جیسے ممالک میں اُنھوں نے دیہی ترقی، سماجی بہ حالی، خواتین کے کردار کو مضبوط بنانے اور مقامی کمیونٹیز کو بااختیار کرنے کے منصوبوں پر کام کیا۔ ساتھ ہی افغانستان، آرمینیا، بنگلہ دیش، بیلیز، بوٹسوانا، برازیل، چاڈ، مصر، ایتھوپیا، اریٹیریا، گیمبیا، گھانا، گنی کوناکری، ہیٹی، بھارت، قازقستان، کرغزستان، لیسوتھو، ملیشیا، روانڈا، تنزانیہ، یوگنڈا، ویتنام اور زمبابوے جیسے ممالک میں بھی پروگرامز کی راہ نمائی، نگرانی اور معاونت کی۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتیہے کہ اُن کی خدمات براعظموں کی سرحدوں سے ماورا تھیں اور اُن کے دل میں ہر کمیونٹی کے لیے یک ساں محبت موجود تھی۔
ڈاکٹر سوزین نے فورڈ فاؤنڈیشن، یو ایس ایڈ، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، ایف اے اُو، ڈی ایف آئی ڈی، کیتھولک ریلیف سروسز اور دیگر بڑے اداروں کے ساتھ کام کیا۔ مذکورہ اداروں میں اُن کی رائے اور تجربے کو ہمیشہ عزت دی گئی۔ کیوں کہ وہ نہ صرف نظریاتی اعتبار سے مضبوط تھیں، بل کہ عملی طور پر بھی زمین پر موجود مشکلات کو سمجھتی اور اُن کے قابلِ عمل حل پیش کرتیں۔ نیوبیڈفورڈ میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ ’’اورچرڈ اسٹریٹ مینور بیڈ اینڈ بریک فاسٹ‘‘ بھی چلاتی رہیں اور مقامی سیاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کے وارڈ فائیو کی چیئر کے طور پر سرگرم رہیں…… لیکن اُن کی اصل پہچان انسان دوستی تھی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کو اپنے سے مقدم رکھتی تھیں۔ اُن کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہی تھی کہ چاہے وہ ایک چھوٹے گاؤں کی خاتون سے مل رہی ہوں، یا کسی بڑے ادارے کے سربراہ سے، سب کو ایک جیسی عزت اور توجہ دیتی تھیں۔
زندگی کے آخری برسوں میں وہ کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتی رہیں۔ بیماری نے اُن کے جسم کو کم زور کیا، لیکن اُن کے حوصلے ، جذبے اور دوسروں کے لیے فکر کو ختم نہ کرسکی۔ وہ آخری لمحے تک اپنے ساتھیوں اور عزیزوں کو یاد رکھتی رہیں۔ بالآخر 23 ستمبر 2025ء کو وہ نیوبیڈفورڈ کے ایک اسپتال میں وہ انتقال کرگئیں۔ اُن کے انتقال نے نہ صرف اُن کے خاندان، بل کہ دنیا بھر میں اُن کے چاہنے والوں، شاگردوں اور ساتھیوں کو غم زدہ کر دیا۔
ڈاکٹر سوزین سولنیئرز کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم، تجربہ اور حیثیت اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اصل عظمت، انسانیت اور محبت میں ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے