گذشتہ چند دہائیوں سے پاکستان سمیت دنیا کے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے نوجوانوں میں بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں اعلس تعلیم حاصل کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ پاکستانی طلبہ بھی اس دوڑ میں نمایاں ہیں اور بڑی تعداد میں آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک کا رُخ کر رہے ہیں۔ کسی کے لیے یہ خوابوں کی تعبیر ہے، تو کسی کے لیے ملکی حالات کے باعث ایک مجبوری۔ تاہم اس خواب کو حقیقت میں بدلنے اور اس مقصد کے حصول کے لیے صرف داخلے کے پیچھے دوڑنا کافی نہیں ہوتا، بل کہ اس کے لیے مکمل تیاری، درست معلومات اور حقیقت پسندانہ سوچ وہ بنیادی عوامل ہیں، جو اس سفر میں کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔
پاکستانی طلبہ کے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کی کئی وجوہات ہیں۔ اُن میں سب سے بڑی وجہ ملکی سیاسی حالات ہیں، جن کی وجہ سے اکثر نوجوان بیرونِ ملک جانے کے خواہاں ہوتے ہیں، جب کہ بڑے گھرانوں، سیاسی اور عسکری راہ نماؤں کے بچے معیاری تعلیم اور بہتر طرزِ زندگی کی تلاش میں یہ قدم اٹھاتے ہیں۔ آسٹریلیا اور یورپ جیسی ترقی یافتہ قوموں کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جدید نصاب اور تحقیق کے وسیع مواقع کے ساتھ ساتھ عالمی معیار کا تدریسی نظام بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ بہتر لائف اسٹائل اور اچھی کمائی کا امکان بھی طلبہ کو اُن ممالک کی طرف راغب کرتا ہے۔ اُن ممالک کی ڈگریاں نہ صرف مقامی، بل کہ عالمی منڈی میں ملازمت کے امکانات بڑھاتی ہیں، جو نوجوانوں کو روشن مستقبل کی اُمید دلاتی ہیں۔ کچھ پاکستانی طلبہ بیرونِ ملک تعلیم کو مستقل سکونت کے دروازے کے طور پر دیکھتے ہیں، جب کہ دیگر مختلف ثقافتوں سے سیکھنے اور خود کو عالمی ماحول میں ڈھالنے کے تجربے کو ترجیح دیتے ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں پاکستانی طلبہ کی تعداد تقریباً 24 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے اور اس میں ایک خاص اضافہ کورونا وائرس کے فوراً بعد ہوا تھا۔ آسٹریلیا پاکستانی طلبہ کے لیے انگلینڈ کے بعد دوسرا سب سے مقبول تعلیمی مرکز بن چکا ہے، جہاں تقریباً 27 فی صد پاکستانی طلبہ اعلا تعلیم کے لیے مقیم ہیں۔
بہ حیثیت ایک پاکستانی طالب علم اور اپنے چار پانچ سال آسٹریلیا میں گزارنے کے تجربے کی بنیاد پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستانی طلبہ گریجویشن یا ماسٹرز کرنے کے باوجود اکثر غیر ملکی تعلیمی نظام سے مکمل طور پر ناواقف رہتے ہیں۔ زیادہ تر بچے اسے بھی پاکستانی تعلیمی نظام کی طرح سمجھتے ہیں، جہاں رٹنے، امتحان پاس کرنے، زیادہ نمبر لینے اور سفارشات پر زور دیا جاتا ہے، جب کہ یورپ اور آسٹریلیا میں تعلیم کا انداز یک سر مختلف ہے۔ یہاں طلبہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خود تحقیق کریں، سوالات اُٹھائیں اور تنقیدی سوچ اپنائیں، جو بدقسمتی سے پاکستان میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ انگریزی زبان میں مہارت بھی صرف بولنے یا لہجے تک محدود نہیں، بل کہ اکیڈمک تحریر، پریزنٹیشنز اور ریسرچ میں بھی اس کا موثر استعمال لازمی ہے۔ اسی طرح وقت کی پابندی، خود نظم و ضبط اور سماجی انضمام جیسے پہلو بھی ان ممالک کے تعلیمی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔
پاکستانی طلبہ کو ابتدا ہی سے یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ مغربی ممالک میں سب سے زیادہ زور تحقیق پر دیا جاتا ہے…… اور یہ عمل آسٹریلیا میں پرائمری سطح سے شروع ہو کر یونیورسٹی تک جاری رہتا ہے۔ ہمارے ہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے، جہاں طلبہ پی ایچ ڈی تک پہنچ جاتے ہیں، مگر تحقیق کا عملی تجربہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ لہٰذا جو طلبہ بیرونِ ملک، خاص کر آسٹریلیا میں اعلا تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں، اُنھیں چاہیے کہ گریجویشن ہی سے تحقیق پر توجہ دیں اور ماسٹرز یا ایم فل تک پہنچنے تک تین چار ریسرچ پیپرز شائع کروا لیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پی ایچ ڈی میں داخلے کے دوران میں ایسے طلبہ کو اسکالرشپ ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بہ صورتِ دیگر زیادہ تر افراد کے لیے یہاں کی فیس برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ آسٹریلیا میں ایک سال کی فیس کم از کم 50 لاکھ پاکستانی روپے سے شروع ہو کر ایک کروڑ روپے تک پہنچ جاتی ہے، جو اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس درجے کی یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں۔ تحقیق سے ناواقفیت اور جلد بازی کی وجہ سے بہت سوں کو یا تو داخلہ نہیں ملتا، یا پھر اُن کے ویزے مسترد ہوجاتے ہیں اور اسی طرح ناکامیوں سے دل برداشتہ ہوکر اکثر طلبہ ذہنی دباو کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح جو طلبہ اپنے وسائل (یعنی سیلف فنانس) پر بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا خواب رکھتے ہیں، اُنھیں چاہیے کہ میٹرک یا بارھویں جماعت ہی سے اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ سمت کا واضح انتخاب کریں۔ خواہ اُن کا ہدف انجینئر بننا ہو، یا ہنر مند شعبوں جیسے کارپینٹری، مکینک یا دیگر پیشوں میں مہارت حاصل کرنا، آغاز میں صحیح فیصلہ نہ صرف اُنھیں زیادہ مواقع فراہم کرے گا، بل کہ آسٹریلیا اور یورپ میں مستقل سکونت یا شہریت کے امکانات کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں کام یابی کی راہیں بھی کھول دے گا۔ ہنر مند افراد پاکستان سے آسٹریلیا اور یورپ کے لیے بہ راہِ راست مستقل رہایش کی درخواست دے سکتے ہیں۔ کیوں کہ ان ممالک کو ایسے ماہر افراد کی ضرورت ہے، جہاں وہ نہ صرف مستقل رہایش، بل کہ بعد میں شہریت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ بغیر کسی یونیورسٹی میں داخلہ لیے آسٹریلیا اور یورپ جا کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔
ہمارے طلبہ کو ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ غیر ملکی تعلیم حاصل کرنا ایک سنہری موقع ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے مکمل تیاری، حقیقت پسندانہ توقعات اور مسلسل محنت بھی ضروری ہے، جو اکثر ہم شارٹ کٹ کی تلاش میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پاکستانی طلبہ کو چاہیے کہ وہ صرف خواب نہ دیکھیں، بل کہ ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے خود کو مکمل طور پر تیار کریں۔ آسٹریلیا جیسے ممالک میں کام یابی صرف داخلہ لینے، یا وہاں رہنے سے نہیں، بل کہ وہاں کے نظام کو سمجھنے، خود کو اس تعلیمی ڈھانچے میں ڈھالنے اور مسلسل سیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔
جو طلبہ ان تمام چیلنجوں اور مشکلات کے باوجود، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں سے آسٹریلیا یا یورپ پہنچتے ہیں، اُنھیں بھی شروع میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کے لیے اُنھیں پہلے سے تیار رہنا چاہیے۔ ان ممالک میں پہنچتے ہی سب سے پہلے انھیں ثقافتی جھٹکا لگتا ہے، یعنی مختلف طرزِ زندگی، کھانے، لباس اور رویوں سے ہم آہنگ ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ اس کے بعد گھر سے دوری، مالی دباو اور تعلیمی پریشر، یہ تمام عوامل نئے آنے والے طلبہ کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پہنچتے ہی پارٹ ٹائم ملازمت ملنا بھی آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اگر انگریزی یا مقامی تجربہ نہ ہو۔ رہایش کے مسائل بھی طلبہ کے لیے ایک بڑی دشواری بن جاتے ہیں، خصوصاً بڑے شہروں جیسے سڈنی اور میلبرن میں۔ موجودہ دور میں آسٹریلیا میں طلبہ کو سب سے زیادہ پریشانی رہایش کی دست یابی اور اس کے اخراجات کی وجہ سے ہے۔ اگر کمرا دست یاب بھی ہو جائے، تو اس کا ماہانہ کرایہ کم از کم دو لاکھ (پاکستانی روپے) بنتا ہے، جو نئے آنے والے بیش تر طلبہ کے لیے ایک بھاری بوجھ ثابت ہوتا ہے۔
جو طلبہ ان مشکلات اور رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں، وہ آگے چل کر مختلف راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اکثر پاکستانی طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آسٹریلیا میں اچھی نوکری حاصل کرلیتے ہیں اور پھر یہیں مستقل سکونت اختیار کرلیتے ہیں۔ کچھ واپس پاکستان آکر اپنے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جب کہ کچھ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے یا غیر قانونی طور پر قیام کرتے ہیں، جس سے اُن کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔
آسٹریلیا میں 2025ء کے وسط تک کل 739,843 بین الاقوامی طلبہ موجود تھے، جن میں پاکستانی طلبہ بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اگرچہ مجموعی طور پر نئے داخلوں میں 23 فی صد کمی آئی ہے، لیکن اس کے باوجود انڈیا، بنگلہ دیش اور چین کے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ ملک اَب بھی ایک پُرکشش تعلیمی منزل ہے اور یہ اُن ممالک کے طلبہ کو ترجیح دیتا ہے، جن کی حکومتیں اپنے شہریوں کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
حالیہ دنوں کے سروے کے مطابق بنگلہ دیشی طلبہ کو ویزا ملنے کا تناسب سب سے زیادہ ہے، جو 99.10 فی صد ہے، جب کہ پاکستان کا تناسب تمام ممالک میں سب سے کم ہے، جو 50 سے 55 فی صد کے درمیان ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب پاکستان کو اپنے طلبہ کے بیرونِ ملک جانے میں سہولت دینی چاہیے اور اپنے بیرونِ ملک مقیم طلبہ اور پیشہ ور افراد پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی نوجوان، محنتی، پیشہ ور اور اعلا تعلیم یافتہ افراد صرف اپنی انفرادی کام یابیوں تک محدود نہیں رہتے، بل کہ اپنے وطن کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کے پاس جدید تعلیم، عالمی تجربہ اور مختلف شعبوں میں مہارت موجود ہے، جو اگر درست پالیسیوں کے تحت استعمال ہو، تو پاکستان کے سماجی اور معاشی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
بھارت اور چین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں حکومتوں نے اپنے ڈائسپورا کو قومی ترقی کا حصہ بنانے کے لیے واضح پالیسیاں مرتب کیں۔ اُنھوں نے بیرونِ ملک مقیم اپنے لوگوں کو تحقیق، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور تعلیمی تعاون کے ذریعے اپنے وطن سے جوڑ کر معاشی و تعلیمی میدان میں حیران کن ترقی کی۔ پاکستان بھی اگر اسی طرز پر ڈائسپورا کے لیے سہولت کار پالیسیاں بنائے، روابط کو ادارہ جاتی سطح پر فروغ دے اور اُنھیں وطن کے ترقیاتی منصوبوں میں شریک کرے، تو یہ قدم ایک سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔
ایک مضبوط اور فعال ڈائسپورا پاکستان کے لیے دوہرا فائدہ رکھتی ہے۔ ایک طرف یہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اُجاگر کرسکتی ہے، جب کہ دوسری طرف تعلیمی معیار بلند کرنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور معیشت میں سرمایہ لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ برادری اس پُل کا کردار ادا کر سکتی ہے، جو پاکستان کو عالمی تحقیق و ترقی کے ساتھ جوڑ دے۔ اگر حکومت اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کرے، تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے والے افراد نہیں رہیں گے، بل کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے حقیقی معمار بن جائیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










