پاکستان نے حال ہی میں "HPV” ویکسین کو قومی حفاظتی پروگرام کا حصہ بنایا ہے، جو دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں لاکھوں خواتین کو ’’سروائیکل کینسر‘‘ (Cervical cancer) جیسے مہلک مرض سے بچا رہی ہے۔ یہ ویکسین 2006ء میں ایجاد ہوئی اور امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ نے سب سے پہلے اسے اپنی اسکیموں میں شامل کیا۔ آج یہی ویکسین پاکستان میں 9 تا 14 سال کی لڑکیوں کو مفت فراہم کی جا رہی ہے، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ زمینی سطح پر 95 فی صد والدین شبہات اور پروپیگنڈے کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم افواہوں کے حصار میں قیمتی زندگیاں داؤ پر لگا دیں؟
’’ایچ پی وی‘‘ ایک عام وائرس ہے، جو مرد و خواتین دونوں کو متاثر کرتا ہے، لیکن خواتین میں یہ بچہ دانی کے منھ کے سرطان (Cervical Cancer) کا بنیادی سبب ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 6 لاکھ خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں اور 3 لاکھ سے زائد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔
2006ء میں پہلی بار ’’ایچ پی وی‘‘ ویکسین متعارف کرائی گئی۔ یہ ویکسین جسم کو وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت فراہم کرتی ہے اور کینسر کے خلیات بننے سے روکتی ہے۔ عالمی تحقیق کے مطابق یہ ویکسین 70 تا 90 فی صد سروائیکل کینسر کے خطرے کو ختم کرتی ہے۔
’’ایچ پی وی‘‘ ویکسین سب سے پہلے امریکہ (2006) اور آسٹریلیا (2007) نے اپنائی۔ برطانیہ نے 2008ء میں اسے قومی پروگرام میں شامل کیا۔ دیگر یورپی ممالک جیسے کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین بھی جلد شامل ہو گئے۔
نتیجتاً آسٹریلیا میں 70 فی صد تک کینسر کی شرح کم ہو گئی اور 2035ء تک اس مرض کے مکمل خاتمے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس طرح برطانیہ میں نوجوان لڑکیوں میں اس وائرس کی موجودگی 86 فی صد کم ہو گئی ہے اورامریکہ میں 10 سال میں اس انفیکشن کی شرح 64 فی صد گھٹ گئی ہے۔مذکورہ نتائج اس ویکسین کی اِفادیت کا واضح ثبوت ہیں۔
اکثر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ ویکسین غیر اسلامی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی مسلم ممالک برسوں سے اسے استعمال کر رہے ہیں۔جیسے متحدہ عرب امارات نے 2008ء میں اسکولوں میں ویکسی نیشن شروع کی۔ ملائشیا نے 2010ء میں اسے قومی پروگرام میں شامل کیا۔ سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین، ترکی اور انڈونیشیا بھی اسے کئی سال پہلے اختیار کرچکے ہیں۔
یہ مثالیں اس تاثر کو غلط ثابت کرتی ہیں کہ مسلم معاشروں میں یہ ویکسین قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان نے 2025ء میں ’’ایچ پی وی‘‘ ویکسین کا پائلٹ پروجیکٹ شروع تو کیا پنجاب میں، تاہم عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر انکار سامنے آیا ہے۔ تقریباً 95 فی صد والدین ویکسین لگوانے کے لیے راضی نہیں۔ اس انکار کی وجوہات میں مذہبی خدشات، افواہیں اور لاعلمی شامل ہیں۔ کچھ حلقے اسے ’’بانجھ پن‘‘ کا ذریعہ یا مغربی سازش قرار دیتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں پولیو ویکسین کے خلاف کیا گیا۔
اس پروپیگنڈے کو موثر انداز میں رَد کرنے کے لیے چند اقدامات ضروری ہیں:
٭ دنیا کے ممالک میں کام یاب نتائج اور اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے جائیں۔
٭ علما اور مذہبی راہ نماؤں کو شامل کیا جائے، تاکہ عوامی اعتماد بہ حال ہو۔
٭ متاثرہ خواتین کی حقیقی کہانیاں عوام تک پہنچائی جائیں۔
٭ میڈیا اور سوشل میڈیا پر موثر آگاہی مہم چلائی جائے ۔
٭ گاؤں اور اسکولوں کی سطح پر ہیلتھ ورکرز والدین کو بہ راہ راست قائل کریں۔
’’ایچ پی وی‘‘ ویکسین کوئی سازش نہیں، بل کہ ایک سائنسی حقیقت ہے، جس نے دنیا بھر میں لاکھوں زندگیاں بچائی ہیں۔ اسلامی اور مغربی دونوں ممالک اس کے استعمال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ افواہوں کے بہ جائے سچائی کو اپنائیں۔ اگر ہم نے آج یہ قدم نہ اُٹھایا، تو ہماری آنے والی نسلیں اس غفلت کی بھاری قیمت ادا کریں گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










