یہ اب تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود دشمن کا ہر حملہ روکنا ممکن نہیں۔ چاہے آپ کے پاس ڈرون شکن میزائل ہوں، یا ’’آئرن ڈوم‘‘ جیسے دفاعی نظام، کوئی نہ کوئی وار ہمیشہ پھسل کر نکل ہی جاتا ہے۔ البتہ اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے،کہ آپ نے اس حملے کے بعد کیا کیا؟ قوموں کی بہادری اسی جوابی وار پر پرکھی جاتی ہے اور یہیں سے طاقت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں بھارت نے پاکستان کے خلاف دو مرتبہ کھلے عام جارحیت کی۔ پہلی بار 26 فروری 2019 ء کو بالاکوٹ حملوں میں اور دوسری بار رواں برس 10 مئی کو۔ دونوں بار بھارت نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ اُس نے پاکستان کو سبق سکھا دیا…… لیکن تاریخ کا حوالہ یہ ہے کہ دونوں مرتبہ اس سبق کی تختی اُلٹی اُنھی کے سر پر آگری۔ دونوں مرتبہ بھارت کے جہاز گرے اور جہاز دینے والوں کی تجارت۔
پاکستان نے بالاکوٹ کے جواب میں بھارت کے دو طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کیا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان صرف دفاعی ڈھال نہیں، بل کہ جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور طاقت بھی رکھتا ہے۔ دوسری بار بھی بھارت کے رعونت بھرے دعوے اُس وقت زمین بوس ہوئے، جب پاکستان نے بروقت اور دوٹوک جواب دے کر چھے جہاز گراگر معرکۂ حق اپنے نام کیا اور فاتح بن کر اُبھرا۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ ان دونوں مواقع پر دنیا کی بڑی طاقتیں (ہمارے اپنے قریبی دوست بھی) پاکستان کو یہی سمجھا رہے تھے کہ جواب نہ دو، معاملے کو ٹھنڈا رہنے دو…… مگر پاکستان نے اپنی روایت برقرار رکھی کہ اگر کوئی پتھر پھینکے گا، تو جواب کنکر سے نہیں، چٹان سے ملے گا۔ یہی اصل خودداری ہے۔رواں برس کے معرکۂ حق سے پاکستان کی عالمی دنیا میں بھی عزت بڑھی اور خود پاکستان میں بھی۔
اب ذرا قطر کا قصہ سنیے۔ 9 ستمبر 2025ء کو اسرائیلی فضائیہ نے دوحہ کے قلب میں اُس عمارت کو نشانہ بنایا، جہاں حماس کی اعلا قیادت اجلاس کر رہی تھی۔ یہ وہی اجلاس تھا، جس میں غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر بات ہونی تھی۔ اسرائیل نے اس کارروائی کو ’’انسدادِ دہشت گردی‘‘ قرار دیا، مگر قطر نے اسے اپنی خودمختاری پر بہ راہِ راست حملہ اور کھلی جارحیت کہا۔ دھماکے کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا، عمارت کے کئی حصے زمین بوس ہوگئے اور مذاکرات کا سلسلہ سبوتاژ ہوگیا۔
یہ واقعہ یوں ہی نہیں ہوا؛ اسرائیل جانتا ہے کہ قطر عالمی سطح پر ثالثی کرتا ہے۔ امریکہ اور طالبان کو ایک میز پر بٹھاتا ہے۔ فلسطینیوں کو سہارا دیتا ہے۔ عالمِ اسلام کے جَلا وطن راہ نماؤں کو پناہ دیتا ہے اور اپنی بے پناہ دولت کے زور پر دنیا میں مسلسل اپنی اثر بڑھارہا ہے، لیکن اس کے باوجود اسرائیل کو یقین تھا کہ عسکری سطح پر قطر سے کوئی جواب نہیں ملے گا۔
اہم سوال یہ نہیں کہ قطر حملہ روک سکتا تھا یا نہیں، اصل نکتہ یہ ہے کہ اب وہ کرے گا کیا؟ کیا وہ ایسا جواب دے پائے گا کہ آیندہ اسرائیل کو اس طرف دیکھتے ہوئے دس بار سوچنا پڑے…… یا پھر احتجاجی بیانات، اقوامِ متحدہ میں قراردادیں اور سفارتی مذمتیں ہی اس کا کل اثاثہ ہوں گی؟ بہ ظاہر تو جواب یہی ہے کہ قطر کسی عسکری جرات کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور زیادہ سے زیادہ ’’فیس سیونگ‘‘اقدامات کرے گا۔
مقامِ افسوس یہ ہے کہ یہ صرف قطر کا معاملہ نہیں، بل کہ پوری عرب دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں، جو اسرائیل کو عسکری زبان میں جواب دے سکے۔ تیل کی دولت بے حساب ہے، اسلحہ کے ڈھیر پڑے ہیں، جدید ترین طیارے اور ٹینک موجود ہیں، عوام کی اکثریت جہادی ہے، لیکن پھر بھی قومی سطح پرعملی جرات کا فقدان ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکم ران زیادہ تر نرم تکیے پر سر رکھ کر یہی سوچتے ہیں کہ ڈالر بہتے رہیں اور اقتدار سلامت رہے۔
کہنے کو سب کے پاس آئرن ڈوم اور پیٹریاٹ ہیں، لیکن اصل ڈوم (یعنی جرات اور غیرت کا گنبد) کہیں نظر نہیں آتا۔ عوام کے جذبات الگ ہیں، مگر حکم رانوں کا حساب کتاب اور ہے۔ چناں چہ اسرائیل بہ آسانی جان لیتا ہے کہ ان ممالک سے عسکری جواب کا کوئی امکان نہیں۔ عالمِ کفر اور بالخصوص اسرائیل کو پتا ہے کہ اُن کی زمین میں تو تیل وافر مقدار میں ہے، لیکن اُن کے تلوں میں تیل نہیں۔
عالمِ عرب کے برعکس پاکستان کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ ملک ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے۔ بڑی فوج رکھتا ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی عسکری خودداری رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت جیسی بڑی معیشت اور امریکہ جیسے طاقت ور ملک کے دباو کے باوجود پاکستان نے کبھی جواب دینے سے دریغ نہیں کیا۔ بالاکوٹ ہو یا 10 مئی، پاکستان نے دکھایا کہ ہم حساب برابر کیے بغیر نہیں رہتے۔ یہی اصل بہادری ہے۔ دشمن کو پیغام دینا کہ تمھارے پاس ٹیکنالوجی ہوگی، ڈالر ہوں گے، مگر ہماری جرات کے آگے یہ سب کاغذی شیر ہیں۔
یہ دور ٹیکنالوجی کا ہے۔ ڈرونز، میزائل، سائبر وارفیئر، مصنوعی ذہانت سب کچھ…… مگر کیا ٹیکنالوجی ہی سب کچھ ہے؟ نہیں……! اگر ایسا ہوتا، تو امریکہ، افغانستان میں کبھی نہ ہارتا۔ اصل طاقت وہ ہے، جو ردِعمل میں جھلکے، جو دشمن کو یہ احساس دلائے کہ ہمارے ساتھ کھیلنے کی قیمت بہت بھاری ہے۔ پاکستان نے یہ سبق سیکھ لیا ہے۔ ہماری ایٹمی طاقت صرف ہتھیار نہیں، بل کہ ایک نفسیاتی ڈھال ہے…… اور ہماری فوجی کارروائیاں یہ بتاتی ہیں کہ ہم اس طاقت کو صرف نمایش کے لیے نہیں رکھتے۔ قطر کے پاس پیسا ہے، عرب دنیا کے پاس تیل ہے، لیکن جواب دینے کی جرات کم ہے۔
قطر اور سعودی عرب سمیت پورے خلیج کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ دفاع صرف کرائے کے فوجی اڈوں، امریکی ہتھیاروں اور مغربی ضمانتوں سے ممکن نہیں ہوتا۔ امریکہ جیسے عیار ممالک کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہ اپنی ضرورت پوری ہونے تک ساتھ دیتے ہیں اور وقت آنے پر ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ اصل تحفظ اپنی اندرونی طاقت، مقامی عسکری صلاحیت اور خودمختار دفاعی ڈھانچے میں ہے۔ جس دن عرب دنیا نے اپنی حفاظت کے لیے دوسروں کے بہ جائے اپنے بازو پر بھروسا کرنا شروع کیا، اُسی دن دشمن کی آنکھوں میں خوف اُترے گا اور حملہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔
اسی لیے یہی مناسب وقت ہے کہ خلیجی ممالک ترکی اور پاکستان جیسے برادر ملکوں سے تعاون بڑھائیں۔ ترکی کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی ہے اور پاکستان کے پاس ایٹمی بازدار صلاحیت، جنگی تجربہ اور ایک خودمختار عسکری روایت۔ اگر یہ صلاحیتیں عرب دنیا کی دولت اور وسائل کے ساتھ جڑ جائیں، تو عالمِ اسلام کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو سکتا ہے…… لیکن اس کے لیے جرات مندانہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ صرف ’’دفاعی خریداری‘‘ نہیں، بل کہ ’’دفاعی شراکت‘‘ کو اپنایا جائے۔
آج کا لمحہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ عالم اسلام ’’نیٹو‘‘ (NATO) طرز پر اپنی مشترکہ فوجی قوت تشکیل دے، اور اسرائیل جیسے خطروں کو سرِ فہرست رکھے۔ اپنی باری کا انتظار کرنے اور ری ایکشن کی حکمتِ عملی چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا، تاکہ دشمن کو پہلے سے علم ہو کہ حملے کی قیمت ناقابلِ برداشت ہوگی۔ فلسطین اور خصوصاً غزہ کی خوں چکاں صورتِ حال پر آنکھ بند رکھنے کے بہ جائے اس کا پائیدار حل ڈھونڈنا ہوگا۔ اگر مسلمان ممالک نے اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنی فوج میں خودمختاری پیدا کر لی، تو پھر وہ وقت دور نہیں جب طاقت ور دشمنوں کو بھی نکیل ڈالنے کی ہمت پیدا ہو جائے گی۔
یہی اصل بہادری ہے اور یہی اصل دفاع۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










