تبدیلی سرکار کا منھ چڑاتا اسکول

Blogger Hazir Gul

سال 2012ء میں خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیم کے شعبے کے لیے 22 ارب 15 کروڑ روپے مختص کیے۔ اُن میں سے 17 ارب 9 کروڑ روپے بنیادی و ثانوی تعلیم کے لیے اور 5 ارب 6 کروڑ روپے اعلا تعلیم کے لیے رکھے گئے۔ یہ بجٹ محض اسکولوں کی نئی عمارتوں یا مرمت تک محدود نہ تھا، بل کہ اضافی کلاس رومز کی تعمیر، مفت نصابی کتب کی فراہمی، بچیوں کے لیے وظائف اور بنیادی سہولیات، مثلاً: پینے کے صاف پانی اور بیت الخلا تک رسائی جیسے منصوبے بھی اس میں شامل تھے۔ اس کے ساتھ 2010ء کے سیلاب سے متاثرہ 1173 اسکولوں کی بہ حالی بھی اسی رقم کا حصہ تھی۔ اعلا تعلیم کے ضمن میں کالجوں اور جامعات کے نئے بلاکس، ہاسٹل، لائبریریاں، بی ایس پروگرام اور فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے منصوبے بھی منظور کیے گئے۔ بین الاقوامی اداروں کا تعاون بھی حاصل ہوا اور ایک وقت ایسا محسوس ہونے لگا کہ صوبے میں تعلیم کے معیار اور سہولتوں میں حقیقی بہتری آنے کو ہے۔
مگر مئی 2013ء میں جب پاکستان تحریک انصاف ’’تبدیلی‘‘ اور ’’تعلیمی ایمرجنسی‘‘ کے نعروں کے ساتھ برسرِ اقتدار آئی، تو عوام نے یہ اُمید باندھ لی کہ اب تعلیم کے دیرینہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ 100 ارب روپے کے سرپلس بجٹ کے دعوے اور اصلاحات کے وعدے اُمیدوں کو پروان چڑھا رہے تھے…… لیکن آج، تقریباً ڈیڑھ دہائی بعد حقیقت یہ ہے کہ صوبہ اب بھی ادھورے منصوبوں اور ٹوٹے ہوئے وعدوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
اس کی ایک جیتی جاگتی مثال گورنمنٹ ہائی اسکول اسلام پور ہے۔ اسکول کی عمارت دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلا حصہ 1969ء میں والیِ سوات نے تعمیر کیا تھا، مگر 2015ء کے زلزلے میں وہ حصہ ناقابلِ استعمال ہوگیا اور انتظامیہ نے اسے بند کر دیا۔ نتیجتاً سیکڑوں طلبہ کو اسکول کے دوسرے حصے کے صرف پانچ کمروں میں ٹھونس دیا گیا۔ تنگی اور بے آرامی کا یہ عالم تھا کہ 108 طلبہ میں سے بہ مشکل 2 بچے میٹرک کا امتحان پاس کر پائے۔ بعد ازاں مخلص افسران اور مقامی راہ نماؤں کی کوششوں سے یہ حصہ دوبارہ تعمیر ہوا اور اگلے ہی سال کام یابی کی شرح 96 فی صد تک جا پہنچی۔ یہ اس امر کا واضح ثبوت تھا کہ اگر سہولتیں میسر ہوں، تو طلبہ اپنی محنت سے بہترین نتائج دے سکتے ہیں۔
لیکن اپریل 2023ء میں اسکول کے دوسرے حصے کو بھی گرا دیا گیا، تاکہ اسے نئے سرے سے تعمیر کیا جا سکے۔ اخبار میں ٹینڈر شائع ہوا، ٹھیکا بھی الاٹ کیا گیا، مگر جولائی 2024ء میں میعاد ختم ہونے کے باوجود ایک اینٹ بھی نہ رکھی گئی۔ آج 348 بچے محض پانچ کمروں میں تعفن زدہ اور غیر موزوں ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ پرنسپل صاحب نے درجنوں خطوط تحریر کیے، ویلج کونسل اسلام پور اور کوکڑئی چیتوڑ کے نمایندوں نے ملاقاتیں کیں، کمشنر ملاکنڈ نے انکوائری بھی کروائی…… رپورٹ میں صاف لکھا گیا کہ فنڈز نہ ہونے کے باعث تعمیر شروع نہیں ہوئی۔ منصوبے کا تخمینہ 6 کروڑ 32 لاکھ روپے تھا، مگر صرف 60 لاکھ جاری ہوئے۔ سی اینڈ ڈبلیو کے اہل کاروں کے مطابق چیک تو ٹھیکے دار کے نام جاری ہوا، لیکن رقم ریلیز نہ ہوئی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹھیکیدار نے چیک ہی لینے سے انکار کر دیا۔ انکوائری مئی 2025ء میں مکمل ہوئی، مگر تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
قارئین! یہ صرف اسلام پور ہائی اسکول کا معاملہ نہیں۔ صوبے میں 300 اسکولوں کی بہ حالی کا منصوبہ تھا، جن میں سے 80 سے زیادہ سوات میں واقع ہیں۔ افسوس کہ ان سب کے فنڈز کہیں اور منتقل کر دیے گئے اور یوں یہ اسکول بھی ادھورے منصوبوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ نتیجتاً ہزاروں طلبہ بنیادی سہولتوں سے محروم رہ گئے۔
ایک طرف حکومت سرپلس بجٹ کے اعلانات کرتی ہے، دوسری طرف معصوم بچے تنگ اور تاریک کمروں میں سڑتی ہوا اور بوسیدہ فرش کے ساتھ تعلیم پانے پر مجبور ہیں۔ اساتذہ دل گرفتہ ہیں، والدین مضطرب ہیں اور طلبہ مستقبل کی دھند میں کھوئے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب وسائل موجود ہیں، تو پھر تعلیم جیسے بنیادی شعبے کو مسلسل کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ یہ صرف اینٹ، بجری اور عمارت کا مسئلہ نہیں، بل کہ ہمارے بچوں کے خواب اور مستقبل کا سوال ہے، جو سرکاری تاخیر کی نذر ہو رہا ہے۔
اگر آج بھی ہمارے لبوں پر خاموشی سجی رہی، تو کل کا مورخ ضرور پوچھے گا کہ تعلیم کے حق کے قاتل کون تھے؟
بجٹ کے دعوے اور منصوبوں کے اشتہار تو ہر سال چھپتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچے آج بھی مٹی اور اینٹوں کے ڈھیروں پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کب تک تعلیم محض نعرہ اور سیاست کا ایندھن بنی رہے گی؟ اسلام پور کا اسکول اور سوات کے درجنوں دیگر ادارے گواہی دے رہے ہیں کہ اصل تبدیلی کبھی آئی ہی نہیں۔
اگر تعلیم کو پھر بھی نظرانداز کیا گیا، تو یہ نسل مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جائے گی۔ وسائل اور اختیار موجود ہوں اور ترقی نہ ہو، تو قصور صرف نیت کا ہوتا ہے۔ جو حکومت اپنے بچوں کو عزت کے ساتھ پڑھنے کا حق نہ دے سکے، اُس سے خوش حالی اور ترقی کی امید رکھنا محض خود فریبی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

One Response

  1. :
    مجھے یہ کہنے میں گہرا دکھ محسوس ہوتا ہے کہ میں اس ملک کا شہری ہوں جس کے قیام کو کئی دہائیاں گزر گئیں، مگر افسوس کہ آزادی کے بعد سے آج تک کسی بھی سیاسی رہنما نے عوام کی حقیقی خدمت نہیں کی۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والے چند برسوں میں ملک کے اندر بغاوت کی فضا پروان چڑھے گی اور بدامنی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے