’’گلاف‘‘ اور ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘، سیلاب کے نئے نام

اگرچہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن یہ اُن گنے چنے ممالک میں شامل ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا، ہزاروں زندگیاں نگل لیں اور ملکی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صرف 2022ء کے سیلاب نے پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصانپہنچایا، جب کہ 33 ملین سے زیادہ لوگ بہ راہِ راست متاثر ہوئے۔
ذکر شدہ اعداد و شمار اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیلاب کوئی وقتی آفت نہیں، بل کہ ایک مسلسل بڑھتا ہوا بحران ہے۔ انھی ماحولیاتی خطرات میں سے ایک گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والا سیلاب، یعنی ’’گلاف‘‘ (Glacial Lake Outburst Floods)ہے، جو شمالی پاکستان میں ایک نیا، مگر نہایت مہلک خطرہ بن کر ابھرا ہے۔
’’گلاف‘‘ (GLOF) اُس وقت جنم لیتا ہے، جب گلیشیر پگھلنے سے جھیلیں وجود میں آتی ہیں اور اچانک پھٹنے پر پانی، پتھروں اور مٹی کا طوفانی ریلا وادیوں کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ اگست 2025ء میں گلگت بلتستان میں ’’گلاف‘‘ اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ (Cloud Burst) نے ایسی تباہی مچائی، جس کے اثرات ناقابلِ یقین اور ناقابلِ تلافی تھے۔
ضلع غذر کی وادیِ گوپس میں 22 اگست کا منظر سب سے زیادہ ہول ناک تھا۔ صبح 4 بجے کے قریب جب لوگ نیند کے عالم میں تھے، ایک چرواہا وصیت خان اپنے گاؤں راوشن کے قریب ندی کے بالائی چراگاہ پر مویشیوں کے باڑے میں محوِ خواب تھا۔ اچانک پتھروں اور ملبے کے ساتھ اُٹھتے پانی کے غیر معمولی شور نے اُسے جگا دیا۔ وہ اندھیرے میں بھاگ کر ایک ٹیلے پر پہنچا، جہاں اُسے موبائل سگنل ملا۔ گھبراہٹ میں اُس نے اپنے رشتہ دار کو فون کیا اور کہا کہ سب لوگ فوراً گاؤں چھوڑ دیں۔ لمحوں کے اندر گاؤں والے بچوں کو اُٹھائے اور بزرگوں کو سہارا دیے اندھیرے میں پہاڑوں کی طرف دوڑنے لگے۔ صبح ہوئی، تو گاؤں ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا تھا……پتھروں کے گھر زمین بوس ہو گئے تھے، کھیت اور مویشی بہہ گئے تھے، مگر انسانی جانیں محفوظ رہیں۔
مگر اگست 2025ء کی تباہی صرف گلاف تک محدود نہ رہی۔ خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ نے قیامت برپا کی۔ بونیر، سوات، شانگلہ اور صوابی میں موسلا دھار بارشوں نے چند گھنٹوں کے اندر ایسے ریلے چھوڑے، جنھوں نے بستیاں اُجاڑ دیں، فصلیں بہا دیں اور سیکڑوں جانیں نگل لیں۔ شانگلہ میں ایک ہی دن میں 19 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بونیر اور صوابی میں سیکڑوں گھر اور دکانیں متاثر ہوئیں۔ سڑکیں اور پل ٹوٹنے سے رابطہ منقطع ہو گیا اور امدادی کارروائیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ یوں ’’گلاف‘‘ اور ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ نے مل کر ایک وسیع انسانی اور ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کرلی۔
ذکر شدہ آفات کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین اور بچوں پر پڑا۔ کئی اسکول پانی میں بہہ گئے۔ بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کو شدید دھچکا پہنچا۔ پہلے ہی محدود تعلیمی مواقع مزید کم ہوگئے۔ اب ہنگامی کیمپوں میں تعلیم کا انتظام ہے اور نہ محفوظ ماحول کا۔ تعلیم کے خواب ڈوب گئے۔ بچیاں برسوں پیچھے جاسکتی ہیں۔
اسی طرح صحت کے مراکز کی تباہی نے حاملہ خواتین اور بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ یہ انسانی پہلو ذکر شدہآفات کے اصل المیے کو اُجاگر کرتا ہے۔
اعداد و شمار بھی کم لرزہ خیز نہیں۔ ’’گلاف‘‘ اور ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 300 سے زائد گھر تباہ ہوئے، پل اور سڑکیں بہہ گئیں اور زرعی نظام مٹی میں دفن ہوگیا۔ سیکڑوں خاندان بے گھر اور ہزاروں ایکڑ زمین برباد ہو گئی۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق صرف گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 3000 سے زائد گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں، جن میں کم از کم 33 کسی بھی وقت مہلک گلاف میں بدل سکتی ہیں۔ یہ خطرہ 7 لاکھ سے زائد افراد کو بہ راہِ راست لاحق ہے۔ یہ صرف انسانی المیہ نہیں، بل کہ ماحولیاتی تباہی بھی ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، جنگلات کی کٹائی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے ’’گلاف‘‘ اور ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے ۔ پاکستان کاربن کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتا ہے، مگر نقصان سب سے زیادہ یہیں ہوتا ہے۔
ادارہ جاتی سطح پر بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے بروقت الرٹس کے باوجود مقامی انتظامیہ حرکت میں نہ آ سکی، جب کہ مقامی برادری نے غیر رسمی وارننگ نیٹ ورک کے ذریعے قیمتی جانیں بچا لیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے چند سال پہلے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں ’’گلاف پراجیکٹ‘‘ شروع کیا تھا، جس کے تحت پیشگی اطلاع دینے کا نظام قائم کیا گیا۔ گلیشیر کے قریب رہنے والوں کو منظم کیا گیا اور مقامی نالوں، حفاظتی پشتوں اور چھوٹے پلوں کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کیے گئے۔ اس منصوبے کے تحت متبادل روزگار فراہم کرنے کے لیے خطیر رقم خرچ کی گئی۔ گلیشیر اور بڑے دریاؤں پر کیمرے اور آلات نصب کیے گئے، جو تبدیلیوں کو محسوس کر کے محکمۂ موسمیات کو بہ راہِ راست رپورٹ کرتے ہیں۔ مرکزی علاقوں میں اطلاعاتی مراکز قائم کیے گئے، جہاں سے خطرات کے بارے میں پیشگی معلومات رضاکار تنظیموں کے ذریعے عوام تک پہنچائی جاتی ہیں۔ آفات سے متعلق آگاہی پھیلانا بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔ یہ منصوبہ 2024ء میں اختتام پذیر ہوا، مگر اسے دوبارہ بڑے پیمانے پر شروع کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے…… بل کہ ایسے کئی مزید منصوبے ناگزیر ہیں۔
ہمارے ادارے صرف اعداد و شمار جمع کرنے، اُنھیں عوام تک پہنچانے اور آفات کے بعد امدادی سرگرمیوں تک محدود ہیں…… مگر پاکستان میں قدرتی آفات جو اصل میں انسانی رویوں کا عکس ہیں، خصوصی توجہ اور مربوط حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں۔ اگر حکم ران، سیاسی قوتیں، ترقیاتی اور فلاحی ادارے، عوامی شراکت اور ایمان داری کو مقدم رکھیں، تو ان آفات سے نمٹنے اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے موثر حکمتِ عملی بنانا ممکن ہے۔
گذشتہ ایک ڈیڑھ دہائی کے دوران میں پیش آنے والے ’’گلاف‘‘ اور ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ کے واقعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ یہ صرف قدرتی آفات نہیں، بل کہ ماحولیاتی ناانصافی، ناقص حکم رانی اور ناکام منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ اگر پاکستان نے اپنی حکمتِ عملی کو ریلیف کے بہ جائے تیاری اور روک تھام پر نہ ڈالا، تو آنے والے برسوں میں مزید ناقابلِ یقین اور ناقابلِ تلافی نقصانات اس کا مقدر ہوں گے۔ مستقبل کی بقا پتھروں اور اسٹیل سے نہیں، بل کہ مقامی برادری کی طاقت اور شراکت سے جڑی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے