ستمبر 1965ء کا ذکر آتے ہی پاکستانیوں کے ذہن میں دفاعِ لاہور اور جوانوں کی قربانیوں کے روشن چراغ جل اُٹھتے ہیں۔ ہمارے اسکولوں میں، نصاب میں اور قومی تقریبات میں یہ دن ایک عظیم فتح اور بہادری کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے…… مگر سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا آغاز کس نے کیا؟ کیا بھارت چھے ستمبر کو اچانک لاہور پر ٹوٹ پڑا تھا، یا اس سے پہلے پاکستان نے کشمیر کے محاذ پر پہل کی تھی؟
یہ سوال صرف تاریخ کا حصہ نہیں، بل کہ قومی بیانیے اور ہماری اجتماعی یادداشت کی بنیاد سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں ملک آج تک اپنی اپنی قوم کو الگ الگ کہانیاں سناتے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری موقف کے مطابق، بھارت نے چھے ستمبر کو لاہور پر حملہ کر کے کھلی جارحیت کی۔ قوم نے اس حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اہلِ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی کو میلی آنکھ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر سال اس دن کو ’’یومِ دفاع‘‘ کے طور پر مناتے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام اُس وقت بھارتی جبر کے خلاف کھڑے تھے۔ اُن کی حمایت کے لیے چند مجاہدین کشمیر کی سرزمین پر بھیجے گئے، تاکہ مقامی سطح پر آزادی کی تحریک کو سہارا ملے…… مگر اصل بڑی جنگ بھارت نے شروع کی اور پاکستان نے صرف دفاع کیا۔
دوسری طرف بھارت اپنی قوم کو یہ بتاتا ہے کہ جنگ کا آغاز پاکستان نے کیا۔ بھارتی دعوا ہے کہ اگست 1965ء میں پاکستان نے ’’آپریشن جبرالٹر‘‘ کے نام سے اپنے فوجی اور گوریلا دستے کشمیری عوام کی بغاوت بھڑکانے کے لیے وادی میں داخل کیے۔ بھارت اسے گھس بیٹھیوں کی سازش قرار دیتا ہے۔
بھارت کے مطابق، چھے ستمبر کو سرحد عبور کرنے کا مقصد پاکستان پر دباو ڈالنا اور اپنی دفاعی پوزیشن مستحکم کرنا تھا۔ اس بیانیے میں بھارت اپنے آپ کو دفاعی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے اور پاکستان کو حملہ آور کہتا ہے۔
اب اگر ہم دونوں سرکاری بیانیوں سے ہٹ کر آزاد اور غیر جانب دار مورخین کی طرف رجوع کریں، تو ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر سامنے آتی ہے۔
"Stanley Wolpert” برصغیر کی تاریخ کے بڑے مورخ مانے جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جنگ کا آغاز دراصل پاکستان کے آپریشن جبرالٹرسے ہوا۔ اس منصوبے کا مقصد وادیِ کشمیر میں بغاوت کو بھڑکانا اور بھارتی افواج کو پھنسانا تھا۔
عائشہ جلال کے مطابق یہ منصوبہ سیاسی طور پر کم زور اور عسکری طور پر غیر حقیقت پسند تھا۔ کیوں کہ کشمیری عوام اُس سطح پر منظم نہیں تھے کہ وہ فوری طور پر بغاوت پر آمادہ ہو جاتے۔
شجاع نواز نے اپنی کتاب "Crossed Swords” میں بھی یہی موقف اختیار کیا کہ فوجی قیادت نے یہ سمجھا تھا کہ بھارت شاید بین الاقوامی سرحد پار نہیں کرے گا، لیکن یہ ایک خطرناک غلط فہمی ثابت ہوئی۔
مغربی مصنف "Owen Bennett Jones” بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنگ کی چنگاری پاکستان کی کارروائی تھی، مگر باقاعدہ اور کھلی جنگ بھارت نے چھے ستمبر کو لاہور پر حملہ کر کے شروع کی۔
یوں ایک متوازن تاریخی تصویر یہ ہے کہ پاکستان نے اگست 1965ء میں کشمیر میں فوجی مداخلت کے ذریعے پہل کی اور بھارت نے چھے ستمبر کو سرحد پار کر کے اس مداخلت کو کھلی جنگ میں بدل دیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم تاریخ کو ایمان داری سے دیکھیں، تو دونوں ممالک کسی نہ کسی سطح پر اس جنگ کے آغاز کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان نے کشمیر میں کارروائی کر کے کھیل شروع کیا اور بھارت نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے کھیل کو وسیع پیمانے پر پھیلا دیا۔
آج ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس جنگ نے دونوں ممالک کو کیا دیا؟ ہزاروں جانوں کا ضیاع، دونوں طرف معصوم شہریوں کا نقصان اور بالآخر ایک ایسی سرحدی کش مہ کش جو آج تک ختم نہیں ہوئی۔ اصل مسئلہ کشمیر آج بھی وہیں کا وہیں ہے ۔
قوموں کے لیے اپنی تاریخ کا سچ جاننا کڑوا ضرور ہوتا ہے، مگر یہی سچ مستقبل کے فیصلوں کو بہتر بناتا ہے۔ اگر ہم اپنی نسلوں کو صرف ایک رُخ کی کہانی سنائیں گے، تو وہ تاریخ کے پیچیدہ حقائق سے محروم رہیں گے۔
سوال یہی ہے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو جذباتی داستانیں سناتے رہیں گے، یا اُنھیں حقیقت بتا کر مستقبل کے لیے زیادہ دانش مندانہ راستہ دکھائیں گے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










