باچا خان کی جد و جہد…… (جوابِ آں غزل)

Blogger Mehran Khan

تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جنھیں چاہ کر بھی آپ نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ہر تاریخی شخصیت کے کچھ چاہنے والے ہوتے ہیں، اُس کی سوچ اور نظریے کے کچھ پیروی کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح تاریخی شخصیات کے ناقدین اور اُن پر الزام تراشی کرنے والے بھی آپ کو ہر دور میں ملیں گے…… لیکن کون کتنا پانی میں ہے، کس نے تاریخ کا دھارا کس حد تک موڑا؟ اس بات کا فیصلہ تاریخ خود کرتی ہے۔
جو شخصیات تاریخ کا رُخ موڑیں، تاریخ پر اثر انداز ہو جائیں، تاریخ کے ماتھے پر اپنا نقش چھوڑ جائیں، تو ’’ول ڈیورانٹ‘‘ اُنھیں ’’تاریخ کے ہیروز‘‘ کہلاتا ہے۔
خان عبد الغفار خان المعروف باچا خان بھی ہم پشتونوں کے لیے تاریخ کے ہیروز میں سے ایک ہے۔ وہ ہماری تاریخ، اس خطے کی تاریخ اور اس ملک کی تاریخ کی اہم شخصیات میں سے ایک ہیں۔ کسی کے لیے وہ ’’فخرِ افغان‘‘ اور پشتونوں کے ’’جدِ امجد‘‘ ہیں،تو کسی کے لیے وہ سامراج کے خلاف جد و جہد کا روشن استعارہ ہیں…… تو کوئی اُنھیں آئین، جمہوری رواداری، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے قید و بند کی صعوبتیں کاٹنے والا عظیم راہ نما تصور کرتے ہیں ۔
اس کے بر خلاف کچھ لوگوں کے لیے باچا خان دشمن ایجنٹ، غدار اور پاکستان مخالف تھے اور اب بھی ہیں۔
تاریخی شخصیات کو ہر کوئی اپنے مطالعے، تاریخ کی سیاق و سِباق سے آگاہی، تاریخ شناسی ، تاریخ کے شعور اور اپنے ذاتی مشاہدے کی گہرائی کی روشنی میں دیکھتا ہے۔
باچا خان بابا کے حوالے سے کچھ روز پہلے روزنامہ آزادی میں ایک تحریر شائع ہوئی، جس کا عنوان تھا ’’باچا خان کی جدو جہد اور سیاسی لغزشیں۔‘‘ تحریر پڑھنے کے بعد علم ہوا کہ باچا خان بابا کی جد و جہد (خصوصاً انگریزوں کے خلاف) سے جو تمہید باندھی گئی تھی، اُس کا اختتام باچا خان کی پاکستان کے خلاف ضد اور اس کی سیاسی لغزشوں اور پشتونوں کی ریاستِ پاکستان سے بیگانگی پر ہوا ۔
تحریر لکھنے والے نے پشتونوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے، خدائی خدمت گار تحریک اور عدم تشدد کے فلسفہ سے پشتونوں کو آشنا کرنے پر بابا کی عظمت کا اعتراف کیا ہے، لیکن پھر اختصار سے کام لے کر نہ جانے کیوں باچا خان بابا کی جد و جہد کو بس انگریز سامراج تک ہی محدود رکھا ہے۔
شاید فاضل لکھاری کے لیے تاریخ 1947ء ہی پر رُک گئی ہے۔ تاریخ میں یہ واضح ہے کہ باچا خان بابا نے اُس کے بعد بھی بہت بڑی جد و جہد کی ہے، بل کہ ان کی تو پوری زندگی جد و جہد میں گزری ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد 18 سال جیل کاٹنا کوئی معمولی بات نہیں۔ خیر، فاضل لکھاری کی خدمت میں دو مثالیں دینا چاہوں گا۔
٭ پہلی مثال:۔ یہ کہ ملک کی سلامتی کے لیے اُنھوں نے ’’ون یونٹ‘‘ جیسے منصوبے کی کھل کر مخالفت کی۔ یہی منصوبہ بعد میں مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کی وجوہات میں سے ایک تھا ۔ اُسی ون یونٹ منصوبہ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے باچا خان بابا پر غداری کا مقدمہ درج ہوا…… یعنی وہ غدار کیوں قرار دیے گئے؟ کیوں کہ وہ ملک کی سلامتی چاہتے تھے۔ اس مقدمہ کا اُنھوں نے عدالت میں تفصیلی جواب دے کر یہ واضح کیا کہ مَیں پاکستان کا مخالف نہیں ہوں، بل کہ اس منصوبہ کو پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہوں ( بعد میں تاریخ نے یہی ثابت کیا کہ ون یونٹ منصوبہ ایک بڑی بے وقوفی تھی)۔ ’’فارغ بخاری‘‘ کی کتاب ’’باچا اور تحریکِ آزادی‘‘ میں اس تفصیلی جواب پر ایک علاحدہ باب ’’باچا خان کا عدالتِ عالیہ میں تحریری بیان‘‘ کے عنوان سے موجود ہے، جس میں اُنھوں نے ون یونٹ اور پاکستان کے حوالے سے کھل کر اپنی موقف کا اظہار کیا ہے۔
٭ دوسری مثال:۔ یہ کہ باچا خان بابا نے 1965ء کی صدارتی الیکشن میں ’’آئین شکن نمبر ایک‘‘ کے خلاف ’’مادرِ ملت‘‘ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔ قائد اعظم کی بہن کا ساتھ دینے والا کیا پاکستان مخالف یا غدار ہوسکتا ہے؟
شاید یہاں دستور یہی ہے کہ آئین شکنوں کا ساتھ دینے والا محب وطن اور بانیِ وطن کی بہن کا ساتھ دینے والا غدار کہلاتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی ڈھیر ساری مثالوں سے تاریخ اٹی پڑی ہے۔
فاضل لکھاری نے اس کے علاوہ باچا خان بابا کی کچھ سیاسی لغزشوں کا ذکر کیا تھا، جن میں ایک لغزش یہ تھی کہ اُنھوں نے ریفرنڈم میں آزاد پختونستان کا مطالبہ کیا اور جب اُن کا مطالبہ پورا نہ ہوا، تو پھر اُنھوں نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔
باچا خان بابا کا تعلق ’’انڈین نیشنل کانگریس‘‘ سے تھا اور کانگریس کا موقف یہی تھا کہ ہندوستان کی تقسیم ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ اگر خدا نہ خواستہ تقسیم ہوتی ہے، تو پھر صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کے پاس تیسرا آپشن (آزاد پختونستان) بھی ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ مطالبہ پوری متحدہ ہندوستان پر پھیلی ہوئی پارٹی کانگریس کا تھا، نہ کہ اکیلے باچا خان کا کہ ’’صوبہ سرحد کو آزاد پختونستان کا آپشن دو، یا ہمیں الگ ریاست دو۔‘‘
یہ مطالبہ انگریز وائسرائے نے مسترد کردیا، جس کی وجہ سے اُنھوں نے انگریز حکومت کی ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔ واضح رہے یہ ریفرینڈم حکومتِ پاکستان کی طرف سے ہرگز نہیں تھا، بل کہ انگریز حکومت کی طرف سے تھا۔
تاریخ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ کانگریس آخری دم تک تقسیمِ ہند کے خلاف تھی۔ کیوں کہ اُنھیں معلوم تھا کہ بعد میں خون خرابا ہوگا اور پھر یہی دو ملک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں گے۔
خیر، اس بیچ متحدہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کی پیدایش ہوئی، تو کانگریس کا خدشہ بھی درست ثابت ہوا۔ تقسیم کے بعد سے لے کے اب تک دونوں ممالک زور و شور سے دشمنی نبھا رہے ہیں اور جنگیں لڑ رہے ہیں۔ وہ تاریخی فسادات بھی ہوئے، جن کا کانگریس کو ڈر تھا۔ فسادات ایسے ہوئے کہ سعادت حسن منٹو کے ’’کھول دو‘‘ اور ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ جیسے دردناک افسانوں نے جنم لیا۔ اس کے علاوہ ’’خوشونت سنگھ‘‘ کے "Train to Pakistan” اور خدیجہ مستور کے ’’آنگن‘‘ جیسے ناول بھی ان فسادات کی یادگار ہیں۔
فسادات پر لکھی جانے والی تحریروں کی اور بھی ڈھیر ساری مثالیں موجود ہیں۔ بٹوارے نے لاکھوں لوگوں سے کیا چھینا، وہ لاکھوں کہانیاں تو ہم تک پہنچی ہی نہیں؟ تقسیم کی وجہ سے لوگوں کو جو دُکھ اٹھانا پڑا، اُن کا تو ہمیں اندازہ ہی نہیں…… یعنی تقسیم کا وہ دُکھ، خون سے لکھی وہ داستانیں، جو ہم پڑھ ہی نہیں سکے، ایک المیہ ہی ہیں۔ بھلا ہوں باچا خان بابا کی خدائی خدمت گار تحریک کا، جنھوں نے تقسیم کے بعد اپنی جان پر کھیل کر ہندوستان جانے والوں کو بہ خیر و عافیت پہنچایا اور فسادات ہونے نہ دیے۔
ان تمام دردناک واقعات کے باوجود فروری 1948ء میں باچا خان بابا نے دستور ساز اسمبلی کا حلف لیا اور اسمبلی میں خطاب بھی کیا۔ اُنھوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی لیا اور خطاب کرتے ہوئے آزاد پختونستان کے موقف کی بھی کھل کر وضاحت کی۔ باچا خان بابا کا کہنا تھا کہ آزاد پختونستان کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم ایک الگ ریاست چاہتے ہیں، بل کہ جس طرح پنجابیوں کا صوبہ پنجاب ہے، سندھیوں کا سندھ ہے، اُسی طرح ہم پشتونوں کی صحیح شناخت پختونستان ہی سے ہوگی…… یعنی ہمارا اپنا صوبہ پختونستان ہونا چاہیے۔ اس تقریر اور پوری روداد کی مزید تفصیل کے لیے ’’خان عبد الغفار خان‘‘ (آپ بیتی)، فارغ بخاری کی کتاب ’’باچا خان اور تحریکِ آزادی‘‘، پروفیسر وقار علی شاہ کی کتاب ’’باچا خان‘‘ اور شاہ نواز خان کی کتاب ’’افکارِ باچا خان‘‘پڑھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ بھی بہت سارے لکھنے والوں نے اس ساری کارروائی کی تصدیق کی ہے، لیکن پھر بھی باچا خان بابا محب وطن نہ ہوسکے اور اب تک غدار کہلاتے ہیں۔
اس کے علاوہ موصوف نے لکھا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد باچا خان بابا کو صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) میں اپنی (کانگریس) کی حکومت تحلیل کرکے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے تھی، لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا…… اور پھر جب قائد اعظم نے آپنی رٹ قائم کرنے کے لیے اُن کی صوبائی حکومت ختم کردی، تو اُنھوں نے احتجاج کی غلطی کردی۔ یہاں پر فاضل لکھاری نے ’’مذہب کارڈ‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ قائد اعظم کی جگہ اگر اُس وقت معروف مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی بھی ہوتے، تو وہ ایسا کرتے۔
فاضل لکھاری کو بتاتا چلوں کہ باچا خان بابا کوئی مطلق العنان شخصیت نہ تھے۔ یہ تو قائدِ اعظم تھے، جنھوں نے اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے جو غیر جمہوری مثال قائم کی، اُس کی وجہ سے آنے والے 9 سالوں میں 22 صوبائی وزیرِ اعلا اور 9 وزیرِ اعظموں کی چھٹی ہوگئی۔ تبھی تو ’’جواہر لال نہرو‘‘ نے کہا تھا کہ ’’اتنے وقت میں تو میں دھوتی نہیں بدلتا، جتنی دیر میں پاکستان میں وزیرِ اعظم تبدیل ہوتا ہے۔‘‘ اس غیر جمہوری رویے نے شروع دن سے جمہوریت کی عمارت کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیا۔ جس طرح دنیا میں ہونے والے ہر قتل میں قابیل کا حصہ ہے، اُسی طرح پاکستان میں ہونے والی تمام غیر جمہوری سرگرمیوں میں کس کا حصہ ہوگا؟ بلاشبہ اس کا جس نے اولین بنیاد رکھی۔
واضح رہے باچا خان بابا کبھی اقتدار کے بھوکے نہ تھے۔ وہ خدمتِ خلق ہی کو اپنا نصب العین سمجھتے تھے۔ وہ بھی پنجاب اور سندھ کی طرح حکومت تحلیل کر دیتے، لیکن اُنھیں تو موقع ہی نہیں دیا گیا اور اُن کی حکومت کو 8دن بعد ہی غیر جمہوری طریقہ سے ختم کیا گیا تھا۔
صرف غیر جمہوری رویہ یہاں نہیں اپنا گیا، بل کہ نہتے مظاہرین پر بابڑہ میں فائرنگ کرکے اُس جنرل ڈائر جس نے جلیانوالہ باغ میں مظاہرین پر فائرنگ کی تھی اور پشاور کے ڈپٹی کمشنر میٹکاف، جس نے قصہ خوانی میں مظاہرین پر فائر کھول دی تھی، دونوں کا سر فخر سے بلند کیا اور اُن کی صف میں کھڑے ہوکر اُن دونوں کا سینہ چوڑا کروایا۔ مظاہرین سے نبٹنے کے لیے انگریز حکومت اور آزاد حکومت کا طریقۂ کار تو ایک ہی تھا، یا شاید میں ہی کوتاہ نظر ہوں، جو فرق نہیں دیکھ پا رہا ہوں۔
اس کے علاوہ باچا خان بابا پر فاضل لکھاری نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ وہ پہلے پاکستان مخالف تھے، بعد میں جدید دریافت شدہ سیاسی اصطلاح کے مطابق ’’لوٹا‘‘ بنے اور پاکستان کو تسلیم کیا۔
قارئین! مَیں یہ بتاتا چلوں کہ اُس وقت پاکستان کتنی مشکلات میں گھرا ہوا تھا…… مہاجرین کا مسئلہ تھا، اثاثوں کی تقسیم کا مسئلہ تھا، ریاستوں کے الحاق کا مسئلہ تھا، دفاع کا مسئلہ تھا۔ یہ باچا خان بابا کا ظرف تھا، جو اُنھوں نے پاکستان کے مسائل میں اصافہ کرنے کے بہ جائے پاکستان کا سہارا بننا پسند کیا۔ وہ حقیقت میں اس ملک کے خیر خواہ تھے۔ اس لیے اُنھوں نے قائد اعظم کا ساتھ دیا۔ وگرنہ اتنے بحرانوں میں گھرا ہوا تھا یہ ملک، اُس وقت کیا کچھ نہیں ہوسکتا تھا……!
آخری بات جو فاضل لکھاری نے لکھی ہے، وہ یہ ہے کہ باچا خان بابا کی ضد اور پاکستان دشمنی کی وجہ سے آج ’’پشتون تحفظ موومنٹ‘‘ جیسی تنظیمیں آٹھ رہی ہیں اور پشتون انتشار کا شکار ہیں۔ تو یہ واضح رہے کہ ’’پشتون تحفظ موومنٹ‘‘ کے سربراہ منظور پشتون شاید اُس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، جب باچا خان بابا کا انتقال ہوا تھا۔ یہ تحریک اُن دو افغان جنگوں اور 22 سے زیادہ فوجی آپریشنوں کی پیداوار ہے…… نہ ہم طالبان بناتے، نہ ڈالر کھاتے، نہ ’’گڈ‘‘ اور ’’بیڈ‘‘ کی تفریق کرنی پڑتی اور نہ فوجی آپریشنوں کی ضرورت آتی۔ پشتون تحفظ موومنٹ نے اُس جبر کی کوکھ سے جنم لیا جو یہ مٹی سہہ چکی ہے۔ رہی بات اُن کی سیاسی فلسفہ کی، تو وہ عدم تشدد کے قائل ہیں اور عدم تشدد کے لوگ مزاحمت اور جد و جہد آئین کے دائرے کے اندر ہی کرتے ہیں ۔
جاتے جاتے یہی کہوں گا کہ ہر سیاسی شخصیت ’’انسان‘‘ بھی ہوتی ہے۔ اُس کی ذاتی زندگی ہوتی ہے۔ پسند و نا پسند ہوتی ہے۔ باچا خان بابا نے اگر افغانستان میں دفن ہونا پسند کیا، تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ پاکستان مخالف تھے۔ اُن کی پوری زندگی اور جد و جہد پاکستان سے وفاداری کاثبوت ہے۔ پاکستان کی پیدایش کے بعد جمہوریت کی پاس داری اور جمہوری اُصولوں کی بالادستی کے لیے 18 سال قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والا غدار ہر گز نہیں ہوسکتا۔ شاید محب وطن ہونے کا معیار یہی ہے کہ اس ملک سے جتنا لوٹ سکتے ہو، لوٹ لو۔ باہر کسی ملک میں جاکر عیش والی زندگی گزارو اور پھر دفن ہونے کے لیے پاکستان آؤ۔ بھلے تمھارے کرتوت بیان کرنے قابل نہ ہوں، لیکن تمھارا جسدِ خاکی اگر وطن پہنچ گیا، تو تم وفادار ہو۔ باقی کون کتنا محب وطن ہے اور کتنا غدار، یہ فیصلہ وقت اور تاریخ پر چھوڑتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے