سوات، جو کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع ہے، کبھی اپنی قدرتی خوب صورتی، سرسبز پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں، دریاؤں اور جھرنوں کی بہ دولت جنت نظیر وادی کہلاتا تھا۔
کبھی یہ علاقہ گھنے جنگلات، زرخیز زمینوں، شفاف پانیوں، صحت بخش ماحول اور معتدل موسموں کا حامل تھا…… لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ترقی، آبادی میں اضافے، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، غیر منظم شہری منصوبہ بندی، ہوٹل انڈسٹری کے بے قابو پھیلاو اور دیگر عوامل نے اس وادی کو شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
٭ قدیم سوات:۔ فطرت کی آغوش میں بسی جنت:۔ سوات صدیوں تک ایک متوازن ماحولیاتی نظام کا حامل خطہ رہا۔ یہاں کے بلند و بالا پہاڑ صدیوں سے سرسبز جنگلات سے ڈھکے ہوئے تھے۔ مقامی لوگ اپنی ضروریات کے مطابق محدود پیمانے پر درخت کاٹتے، لیکن اجتماعی طور پر فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی بسر کرتے۔ دریائے سوات، جو اس وادی کی پہچان ہے، برفانی گلیشیر سے نکل کر شمال مشرق سے جنوب مغرب کی سمت بہتا ہے اور اس کے ساتھ بے شمار چھوٹے ندی نالے، جنھیں مقامی زبان میں ’’خوڑ‘‘ اور ’’ولے‘‘ کہا جاتا ہے، شامل ہو کر ایک شان دار آب پاشی کا نظام بناتے ہیں۔
یہاں کے لوگوں کا طرزِ زندگی زیادہ تر زراعت پر منحصر تھا اور پانی کے قدرتی ذرائع صاف اور آلودگی سے پاک تھے ۔ موسمی تغیرات معمول کے مطابق ہوتے، شدید خشک سالی یا طوفانی بارشیں کم ہی دیکھنے کو ملتیں۔ مقامی زراعت میں قدرتی کھادیں استعمال ہوتیں، کیڑے مار ادویہ کا تصور نہیں تھا، جس کے باعث نہ صرف زمین زرخیز رہتی، بل کہ شہد کی مکھیاں، مقامی پرندے اور جنگلی حیات بھی وافر مقدار میں موجود تھیں۔
٭ سوات میں ماحولیاتی زوال کی شروعات:۔ 1969ء میں جب سوات کی خود مختار ریاست کو پاکستان میں ضم کیا گیا، تبھی سے اس خطے میں ماحولیاتی زوال کا آغاز ہوا۔ پہلے پہل اس کے اثرات سست روی سے ظاہر ہوئے، لیکن 1990ء کی دہائی میں جب آبادی تیزی سے بڑھنے لگی، غیر منظم ترقی نے وادی کے قدرتی حسن کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔
جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے نتیجے میں بارشوں کے ’’پیٹرن‘‘ میں تبدیلی آئی، دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کم ہونے لگا اور زمین کٹاو کا شکار ہوگئی۔ خاص طور پر 1990ء کی دہائی میں جب ’’تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی‘‘ (TNSM) نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا، تو اس دوران میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔
٭ طالبان دور اور فوجی آپریشن، ماحولیاتی بحران میں اضافہ:۔ 2007ء سے 2009ء کے دوران میں سوات میں طالبان کا قبضہ اور بعد ازاں فوجی آپریشن ’’راہِ راست‘‘ نے وادی کو شدید ماحولیاتی نقصان پہنچایا۔ اس دوران میں بھاری توپ خانے، جیٹ طیاروں کی بمباری اور مارٹر گولہ باری سے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا۔ طالبان اور لکڑی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد نے سرکاری ناکامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں درخت کاٹ ڈالے۔ 2009ء میں فوجی آپریشن کے بعد جب بے گھر افراد واپس آئے، تو اُنھیں اپنی زمینوں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے مزید درختوں کی کٹائی پر مجبور ہونا پڑا۔ سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر سڑکوں کے کنارے درختوں کی کٹائی نے بھی ماحولیاتی بحران کو بڑھاوا دیا۔
٭ 2010ء کا تباہ کن سیلاب:۔ 2010ء میں غیر متوقع شدید بارشوں نے سوات کو تاریخ کے بدترین سیلاب سے دوچار کر دیا۔ یہ سیلاب قدرتی ماحولیاتی توازن کے بگڑنے کا ایک واضح ثبوت تھا۔ جنگلات کی بے تحاشا کٹائی کے باعث زمین پانی کو جذب نہ کرسکی، نتیجتاً دریا بپھر گیا اور اپنے ساتھ ہزاروں درخت، عمارتیں، پل، سڑکیں اور کھیت بہا لے گیا۔
٭ 15 اگست 2025ء کا قیامت خیز کلاؤڈ آؤٹ برسٹ:۔ 15 اگست 2025ء کو سوات، بونیر، باجوڑ اور شانگلہ میں کلاؤڈ آؤٹ برسٹ کے نتیجے میں قیامت خیز سیلاب آیا، جس نے پورے کے پورے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹا دیے۔ اس سانحے میں 400 سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ کلاؤڈ آؤٹ برسٹ زیادہ تر اُن علاقوں میں ہوا جہاں گلیشیر موجود ہی نہیں اور پانی کا بہاو بھی کم ہے ۔
ایلم رینج، جس کے شمالاً جنوباً سوات اور بونیر واقع ہیں، اس کا سب سے الم ناک منظر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف بشونی، پیر بابا، گوکند اور قادر نگر بری طرح متاثر ہوئے، تو دوسری طرف منگورہ شہر سیلابی ریلے کی زد میں آ گیا۔
یہ غیر متوقع سیلاب اُن خشک ندیوں میں آیا، جن پر پانی نہ آنے کے باعث لوگ گاؤں بسا چکے تھے، مارکیٹیں، اسکول اور اسپتال بنا لیے گئے تھے۔ اچانک آنے والے سیلاب نے بستیاں اُجاڑ دیں اور انسانی منصوبہ بندی کی کم زوریاں عیاں کر دیں۔
٭ ذمے دار کون؟:۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تباہی کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا ہم اسے عذابِ الٰہی قرار دے کر ریاستی ادارے اور عوام اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں…… یا ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نیچر کی بے دریغ مداخلت اور انسانی لالچ نے اس المیے کو جنم دیا ہے؟
کیا یہ تباہی ہمارا مقدر ہے، یا پھر حکومت اور سول سوسائٹی مل کر اس کے تدارک کے لیے کوئی دیرپا حل تلاش کریں گے؟
٭ ملاکنڈ ڈویژن، کلائمٹ چینج کا مرکز؟:۔ پورے خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ اثرات ملاکنڈ ڈویژن پر کیوں مرتب ہو رہے ہیں؟ کیا یہ ٹمبر مافیا کے ہاتھوں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا نتیجہ ہے، جس میں حکومتی ادارے بھی شریک رہے ہیں…… یا یہ گذشتہ 20 سالوں کے فوجی آپریشنوں اور بارود کے استعمال سے اس خطے کے نازک ایکو سسٹم کو پہنچنے والے نقصان کا شاخ سانہ ہے؟
اہم سوال یہ بھی ہے کہ حکومتِ پاکستان کیا واقعی "Pakistan Environmental Protection Act, 1977”, "NWFP Public Property (Removal of Encroachment) Act, 1977″ اور”NWFP River Protection Ordinance, 2002” کو نافذ کرکے ندیوں، نالوں اور دریاؤں کے قدرتی بہاو کو تنگ کرنے، مسدود کرنے یا رُخ موڑنے کی انسانی کوششوں کو روک پائے گی؟
٭ نتیجہ، کیا سوات کی فطری خوب صورتی واپس آ سکتی ہے؟:۔ زبیری توروالی نے بہ جا طور پر لکھا ہے کہ ’’سوات کسی شہر، قصبے یا گاؤں کا نام نہیں، بل کہ اُس دریا کا نام ہے، جو ان پہاڑوں سے نکل کر پورے خطے کی ثقافت، تاریخ اور تمدن کو سینچتا ہے اور پھر دریائے کابل میں جا گرتا ہے۔‘‘
اگر سوات کے قدرتی وسائل ختم ہوگئے، تو یہ وادی اپنی اصل شناخت سے محروم ہو جائے گی۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










