حیدرعلی آتشؔ کا یہ مصرع
کہتی ہے تجھے خلقِ خدا غائبانہ کیا
آج کل کارپوریٹ دنیا میں 360 ڈگری ایویلیوایشن (Three Sixty Degree Evaluation) کے نام سے ایک سائنسی نظام بن چکا ہے۔ یہ وہ جادوئی آئینہ ہے، جو آپ کو چاروں طرف سے دکھاتا ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں غائبانہ کیا کہتے ہیں؟ صرف ایک زاویے سے نہیں، بل کہ تمام اطراف سے اوپر والے ، نیچے والے، برابر والے اور یہاں تک کہ صارفین اور موکلین تک سے۔ مطلب یہ کہ اب آپ کو پتا چل جائے گا کہ آپ کی موجودگی لوگوں کے لیے باعثِ سکون ہے یا باعثِ صُداع……؟
یہ 360 ڈگری ایویلیوایشن دراصل ایک جامع نظام ہے، جو آپ کی کارکردگی، رویے اور مہارتوں کا ہر زاویے سے جائزہ لیتا ہے۔ یہ صرف ایک یا دو افراد کی رائے پر مبنی نہیں ہوتا، بل کہ اس میں مختلف ذرائع سے رائے لی جاتی ہے۔ آپ کے سپروائزر، ساتھی ملازمین، ماتحت عملہ، خود آپ کی اپنی رائے اور بعض اوقات آپ کے موکل یا صارفین بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے جیسے آئینوں کا کمرا ہو، جہاں آپ ہر کونے سے اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ کہیں چہرہ، کہیں پیٹھ، کہیں پہلو اور کہیں وہ حصہ جو آپ کو کبھی نظر نہیں آتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں، وہ اکثر حقیقت سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بہترین لیڈر ہیں، جب کہ ٹیم ہمیں ڈکٹیٹر سمجھتی ہے۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ ہم دوستانہ ہیں، جب کہ لوگ ہم سے ڈرتے ہیں۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم منصف ہیں، جب کہ عملہ ہمیں متعصب پاتا ہے۔ یہ خلا اُسی وقت ختم ہوتا ہے، جب آپ کو سچ کا سامنا کرایا جاتا ہے بغیر کسی نام کے، بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی سیاسی چال بازی کے۔
چلیے، گھر سے شروع کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اپنے بچوں، بیوی یا والدین سے بے نام پرچیوں میں اپنے بارے میں رائے لی ہے؟ شاید آپ یقین کرتے ہوں کہ آپ بہترین والد ہیں، لیکن بچے شاید لکھیں کہ ’’ابا ہمیشہ موبائل میں مصروف رہتے ہیں!‘‘ یا ’’ہمارے لیے وقت نہیں ملتا۔‘‘ آپ سمجھتے ہوں کہ آپ سمجھ دار شوہر ہیں، لیکن بیوی شاید بتائے کہ ’’وہ صرف اپنے کام کی بات کرتے ہیں، میری مسائل نہیں سنتے۔‘‘ یہ وہ آئینہ ہے، جو گھر کی چار دیواری میں ضروری ہے، لیکن ہم کبھی اس ہمت کو جمع نہیں کر پاتے ۔
دفتر میں تو یہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ مینیجر اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عوام دوست ہیں، جب کہ ملازمین اُن کو ’’بگ بوس‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ سپروائزر خیال کرتے ہیں کہ وہ راہ نمائی کرتے ہیں، جب کہ عملہ محسوس کرتا ہے کہ وہ مائیکرو مینجمنٹ کا شکار ہے۔ ایک پراجیکٹ مینیجر کا 360 ڈگری جائزہ لیا جائے، تو خود وہ کہے گا کہ مَیں بہترین کمیونی کیٹر ہوں۔ اوپر والا کہے گا کہ ’’وقت پر رپورٹ نہیں دیتا‘‘، ٹیم کہے گی کہ ’’صاف ہدایات نہیں دیتا‘‘ اور کلائنٹ کہے گا کہ ’’اکثر کنفیوژن میں رکھتا ہے۔‘‘ اب حقیقت یہ ہے کہ چاروں رائے مختلف ہیں، لیکن سب کا مطلب ایک ہی ہے، کمیونی کیشن میں خلا ہے۔
ہسپتال میں ڈاکٹر صاحب یقین کرتے ہیں کہ وہ مریض نواز ہیں، لیکن مریض کہتے ہیں کہ ’’مناسب وقت نہیں دیتے، بات پوری نہیں سنتے!‘‘
نرسز کہتی ہیں کہ ’’غصے میں رہتے ہیں اور رعب جماتے ہیں۔‘‘
پیرامیڈیکل سٹاف کہتا ہے کہ ’’ہمیں انسان نہیں سمجھتے۔‘‘ اور ایڈمن کہتا ہے کہ ’’ہمیشہ ایمرجنسی بناتے ہیں۔‘‘
یہ 360 ڈگری تصویر بتاتی ہے کہ طبی علم اور انسانی رویہ میں فرق ہے۔
اسکول میں پرنسپل صاحب سمجھتے ہیں کہ وہ تعلیمی اصلاحات کے علم بردار ہیں، لیکن اساتذہ کہتے ہیں کہ ’’صرف حکم دیتے ہیں، مشورہ نہیں لیتے۔‘‘ بچے کہتے ہیں کہ ’’ڈراتے ہیں۔‘‘ والدین کہتے ہیں کہ ’’وقت نہیں دیتے۔‘‘ اور عملہ کہتا ہے کہ ’’فیورٹزم کرتے ہیں۔‘‘ یہ چاروں رائے مل کر اصل تصویر بناتی ہیں، جو پرنسپل صاحب کو کبھی نظر نہیں آئی۔
سیاسی جماعت کے لیڈر کو لگتا ہے کہ وہ عوام کا ترجمان ہے، لیکن کارکنوں کی رائے یہ ہوتی ہے: ’’صرف الیکشن کے وقت یاد آتے ہیں‘‘، ’’ٹکٹ اپنے رشتے داروں کو دیتے ہیں‘‘، ’’وعدے پورے نہیں کرتے‘‘، ’’عوام سے رابطہ کم کر دیا ہے۔‘‘
ووٹرز کہتے ہیں کہ ’’پانچ سال میں ایک بار نظر آتے ہیں۔‘‘
اور میڈیا کہتا ہے کہ ’’صرف اچھی تقریریں کرلیتا ہے ، عمل کچھ نہیں۔‘‘
سماجی تنظیم کے ہیڈ کو یقین ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کر رہا ہے، لیکن رضاکاروں کی رائے یہ ہے: ’’صرف پبلسٹی چاہیے۔‘‘، ’’حقیقی کام کرنے والوں کو کریڈٹ نہیں ملتا۔‘‘، ’’فنڈز کا استعمال شفاف نہیں۔‘‘
مستفیدین کہتے ہیں کہ ’’کام میں تاخیر ہے۔‘‘
اور ڈونرز کہتے ہیں کہ ’’پیسے کا حساب مانگنے پر ناراض ہوتے ہیں۔‘‘
اصل بات یہ ہے کہ 360 ڈگری ایویلیوایشن کوئی منفی چیز نہیں، بل کہ یہ آپ کو صحیح سمت متعین کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ اُس آئینے کی طرح ہے، جو ہر کونے سے آپ کا عکس دکھاتا ہے، تاکہ آپ اپنے آپ کو مکمل طور پر دیکھ سکیں۔ یہ نہیں بتاتا کہ آپ برے ہیں، بل کہ یہ بتاتا ہے کہ آپ کہاں بہتر ہو سکتے ہیں؟
اہم بات یہ ہے کہ یہ جائزہ رازداری سے کیا جاتا ہے۔ جو لوگ رائے دیتے ہیں، اُن کی شناخت چھپائی جاتی ہے، تاکہ وہ بغیر کسی خوف یا دباو کے سچ بول سکیں۔ یہ بالکل اُس فارمولے کی طرح ہے، جو آتش نے دیا تھا ’’غائبانہ‘‘ رائے۔ جب نام نہ ہو، خوف نہ ہو، سیاست نہ ہو، تو سچ باہر آ جاتا ہے۔
یہ نظام صرف کارپوریٹ دنیا میں محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہر شعبہ زندگی میں اس کا استعمال ہونا چاہیے۔ گھر میں والدین اپنے بچوں سے، اساتذہ اپنے شاگردوں سے، ڈاکٹر اپنے مریضوں سے، امام اپنے مقتدیوں سے، سیاست دان اپنے ووٹرز سے بے نام رائے لے سکتے ہیں۔
یہ وہ آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور ہماری سوچ کیا ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم تنقید کو دشمنی سمجھتے ہیں، مشورہ کو مداخلت سمجھتے ہیں اور رائے کو سازش سمجھتے ہیں۔ 360 ڈگری ایویلیوایشن کا اصل فلسفہ یہ ہے کہ ہر انسان میں بہتری کی گنجایش ہے اور دوسروں کی رائے اُس بہتری کا ذریعہ ہوسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر رائے کو قبول کرلیں۔ اصل مہارت یہ ہے کہ آپ مختلف رائے کو ملا کر ایک پیٹرن دیکھیں۔ اگر مختلف لوگ آپ کے بارے میں ایک ہی بات کَہ رہے ہیں، تو شاید اس میں کوئی حقیقت ہو۔ اگر صرف ایک شخص کَہ رہا ہے، تو شاید یہ اُس کا ذاتی مسئلہ ہو۔
کہتی ہے تجھے خلقِ خدا غائبانہ کیا
صرف شاعری نہیں، بل کہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ 360 ڈگری ایویلیوایشن اُس اُصول کو سائنسی شکل دے دیتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










