بین الاقوامی تعلقات کی شطرنج، جیت کس کی؟

Blogger Ikram Ullah Arif

خود ساختہ عالمی تھانے دار، امریکہ کے صدر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم نے پاکستان کے ساتھ بہت اچھا معاہدہ کیا ہے۔ پاکستان میں تیل کی تلاش کے لیے ایک امریکی کمپنی کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ اور کون جانے، کسی دن پاکستان، بھارت کو ہی تیل بیچنے لگے۔‘‘
ٍیہ ٹرمپ کے بیان کا سادہ خلاصہ ہے۔ دوسری جانب، امریکہ نے بھارت پر 25 فی صد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جب کہ پانچ بھارتی کمپنیوں اور کچھ شخصیات پر ایران کے ساتھ تیل کے کاروبار کے الزام میں پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ ان بیانات کے تناظر میں پاکستان کے حکومتی حلقوں پر گویا شادیِ مرگ کی کیفیت طاری ہے ۔
کبھی یہی لوگ ٹرمپ کو پاکستان کو ’’منافق‘‘ کہنے پر کوستے تھے۔ آج یہ عالم ہے کہ نہ صرف سپہ سالار کو خلافِ معمول وائٹ ہاؤس میں ضیافت پر مدعو کیا گیا، بل کہ اب پاکستان کے ساتھ مشترکہ کاروبار کی بات بھی ہو رہی ہے۔
کبھی یہ علاقہ امریکی نگاہ میں صرف بھارت کا میدانِ عمل تھا۔ امریکہ کی عسکری، معاشی اور سیاسی حمایت نے بھارت کے دماغ میں یہ زعم پیدا کر دیا تھا کہ اس خطے میں صرف وہی چین کا مدِ مقابل ہے، اور کوئی علاقائی طاقت اس کو چیلنج کرنے کی سکت نہیں رکھتی…… مگر آسمانی فیصلے عجب ہوتے ہیں۔
گذشتہ ماہ مئی میں، پلوامہ کے بعد پاکستان نے جو کچھ کیا، اُس نے نہ صرف بھارت، بل کہ امریکہ کے ایوانوں میں بھی چراغاں کر دیا۔ اب امریکی تھنک ٹینکس اور حکومتی اداروں میں یہ صدا سنائی دیتی ہے کہ ’’ہم بھارت پر اتنے مہربان کیوں تھے؟ ہم سوچ کیا رہے تھے اور بھارت نے حقیقت میں دکھایا کیا؟‘‘
ٹرمپ کے حالیہ اقدامات دراصل انھی اندیشوں اور وسوسوں کی عملی شکل ہیں۔ فی الوقت امریکہ کا اعتماد بھارت پر متزلزل ہوچکا ہے۔ امریکہ اب کھلے عام کَہ رہا ہے کہ بھارت ایک طرف ہم سے فائدہ اٹھا رہا ہے، اور دوسری طرف ’’برکس‘‘ (BRICS) جیسی امریکہ مخالف تنظیم کا فعال رکن ہے۔
ان تمام واقعات کو دیکھا جائے، تو بھارت سے امریکی ناراضی ایک فطری ردعمل محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان پر امریکی ’’مہربانی‘‘ پر بہت زیادہ خوش ہونا قبل از وقت ہوگا۔
ہمارے وزیرِاعظم نے تو پلک جھپکتے ہی ’’شکریہ مسٹر ٹرمپ‘‘ کَہ دیا…… مگر عالمی سیاست میں امریکہ ہم سے کہیں زیادہ جانتا ہے کہ پاکستان، چین کے ساتھ اس قدر گہرے تعلقات میں بندھ چکا ہے کہ واپسی کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ یہ بعید از قیاس ہے کہ پاکستان ’’چینی بلاک‘‘ کو ترک کر کے مکمل طور پر امریکی کیمپ میں شامل ہوجائے۔
چند ہفتے قبل بھی عرض کیا تھا کہ چین اور روس کی سرپرستی میں ایک نئی علاقائی تنظیم تشکیل پا رہی ہے اور پاکستان اس کا اہم رُکن ہوگا۔ اس تناظر میں شاید امریکی صدر نے پاکستان کو مشترکہ کاروبار کا دانہ ڈال کر اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھاتا ہے؟
ساتھ ہی احتیاط بھی لازم ہے، کیوں کہ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان میں چین کی سرپرستی میں جاری سی پیک منصوبہ کام یاب ہو۔ اسی طرح چین بھی ہرگز نہیں چاہے گا کہ اس کا بڑا معاشی حریف، امریکہ، پاکستان میں اپنے قدم جمانے میں کام یاب ہو۔
ایسے میں ممکن ہے کہ دونوں بڑی طاقتوں کے مابین ’’پراکسیز‘‘ کی نئی بساط بچھے۔
خدا نہ کرے ، مگر اگر ایسا ہو گیا، تو سوال یہ ہے کہ پاکستان کی تیاری کیا ہے اور وہ ان حالات کا مقابلہ کس طرح کرے گا؟
چین پر پاکستان کو بلاشبہ اعتماد ہے، لیکن امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی تاریخ بداعتمادی کی گواہ رہی ہے۔ خصوصاً جب امریکہ کی قیادت ٹرمپ جیسے ناعاقبت اندیش صدر کے ہاتھ میں ہو، تو پاکستان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہیے۔
ممکن ہے کسی بھی عجلت سے ہمارے چینی دوستوں کو بدگمانی ہو اور یہی امریکہ کا اصل مقصد ہو۔ کیوں کہ مغرب میں کہا جاتا ہے :”There’s no such thing as a free lunch.”
اگر ہمارے بڑے ’’کھا‘‘ چکے ہیں، تو خوشی کے ڈکار مارنے سے پہلے زمینی حقائق کی ’’پھکی‘‘ ضرور کھا لینی چاہیے، تاکہ ہاضمہ درست رہے۔ علاقائی بدہضمی، پاکستان کی سیاست اور معیشت کے لیے کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ لہٰذا امریکی وعدوں پر خوش ہونے سے پہلے، علاقائی حقائق کا ٹھوس ادراک ناگزیر ہے ۔
عالمی سیاست میں کوئی دوستی یا دشمنی مستقل نہیں ہوتی، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اب ماضی کی بھول چوک سے سبق سیکھ کر توازن، حکمت اور بصیرت سے آگے بڑھنا ہو گا۔ نہ تو امریکہ کی دل لبھاتی باتوں پر فوراً یقین کر لینا دانش مندی ہے اور نہ چین کی قربت میں اندھی عقیدت پالنا۔ بین الاقوامی تعلقات کی شطرنج میں اصل جیت اُس کی ہے، جو اپنی چال خود چلے اور کسی اور کا مہرہ نہ بنے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے