ساتویں حس کی باری

Blogger Syed Asrar Ali

دوستو، سائنس کی دنیا میں ایک ایسا چھکا مارا گیا ہے کہ گیند نہ صرف طب کے میدان سے باہرچلی گئی ہے، بل کہ منطق، تصوف اور ہماری اُردو شاعری کے میدان کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے۔
’’اسٹینفرڈ یونیورسٹی‘‘ (Stanford University) کے سائنس دانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’’چھٹی حس‘‘ جسے ہم اَب تک دل کی دھڑکنوں کے بیچ، ماتھے کے شکنوں میں اور چہرے کی رنگت میں چھپا مانتے تھے، دراصل جسم کا ہی ایک ’’فزیکل فیچر‘‘ ہے۔
جی ہاں، یہ حس جسم کی اندرونی پوزیشن، توازن اور حرکت کا غیر مرئی شعور ہے، جسے "Proprioception” کہتے ہیں۔ مطلب، جو چیز ہمیں بتاتی تھی کہ پاؤں کہاں ہے، ہاتھ کتنا اُٹھا، گردن کتنی ٹیڑھی ہوئی، وہی ہماری اصلی چھٹی حس ہے۔ اور جو ہمیں بتاتی تھی کہ ابا نہیں مانے گا، وہ جھوٹ بول رہا ہے، یہ رشتہ خطرناک ہے، وہ سودا گھاٹے کا ہے، وہ اب ترقی کرکے ’’ساتویں حس‘‘ کہلائے گی۔
گویا وہ جو ہم بچپن سے سنتے آئے تھے کہ دل کی سُن، وہ دل اَب تھوڑا پیچھے ہٹ گیا ہے اور جسم نے ’’سائنس کی نوکری‘‘ سنبھال لی ہے۔ اب اگر کبھی آپ کو ایسا محسوس ہو کہ کوئی بندہ دیکھ کر ہی خطرناک لگ رہا ہے، تو سمجھ جائیے گا کہ آپ کی ساتویں حس جاگ گئی ہے اور چھٹی حس اس وقت گھٹنے کے جوڑ کا حساب لگا رہی ہے۔
مگر دوستو……! اصل دھماکا تو تب ہوا جب انھی سائنس دانوں نے اسی چھٹی حس سے جُڑے ایک ’’مالیکیول‘‘ کو تلاش کیا، جسے ’’بی آر پی‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک قدرتی دوا، جو انسان کی بھوک کو اس انداز سے کنٹرول کرتی ہے، جیسے اماں بچوں کی جیب سے چپس نکال کر رکھ دیتی ہیں، ’’بعد میں کھانا، ابھی کھانے سے دانت خراب ہوں گے۔ ‘‘
بی آر پی صرف دماغ کے ایک خاص حصے، ہائپوتھیلمس، کو چھیڑتی ہے، اور اُسے کہتی ہے: ’’بس کر پگلے، روٹی نہیں، احساس کھا لے!‘‘ اور یوں انسان کو لگتا ہے، جیسے وہ پہلے ہی بہت کچھ کھا چکا ہے، حالاں کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
اب یہاں سے خیال میرا پھسلا اور مَیں نے سوچا کہ اگر سائنس اتنی ترقی کرچکی ہے کہ بھوک جیسی جبلت کو بھی دوا سے دبوچ لے، تو پھر پیسے کی بھوک پر بھی ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ پاکستان کو اس وقت خوراک سے زیادہ ’’اوپر والی کمائی‘‘ سے ڈائٹنگ کی ضرورت ہے۔ سرِ دست تو یہ حالت ہے کہ یہاں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی بندگی چھوڑ کر درہم و دینار، یورو اور ڈالر کی بندگی کررہے ہیں…… تو کیوں نہ بی آر پی دوا کو تھوڑا سا ایڈٹ کیا جائے اور "Cash-Appetite Suppressant” کے نام سے لانچ کر دیا جائے؟ دوا وہی ہو، مگر ہدف بدل جائے، معدہ کی جگہ ضمیر کو نشانہ بنایا جائے۔
ذرا تصور کریں، اگر ایسی دوا بن جائے اور سیاست دانوں کو دی جائے، تو پہلے دن ہی وہ پریس کانفرنس میں کہیں: ’’مَیں عوام کی خدمت کے لیے آیا ہوں۔‘‘
ایک ہفتے بعد وہ کمیشن لینے سے شرمانے لگیں، دو ہفتے بعد پہلی بار کسی فائل پر لکھیں: "Not Approved- Conflict of Interest”…… اور تین ہفتے بعد تو وہ خود ہی قومی خزانے میں رقم واپس جمع کروا کر رسید مانگنے لگیں۔
پھر کاروباری افراد پر اس دوا کا اثر بھی کمال کا ہوگا۔ پہلے ہفتے ملازمین کی تنخواہیں وقت پر دیں، دوسرے ہفتے سیلز ٹیکس بھر کر کہیں: ’’یہ تو میرا قومی فریضہ ہے!‘‘، تیسرے ہفتے ’’سی ایس آر‘‘ کے تحت یتیم خانے کی فنڈنگ کریں، اور چوتھے ہفتے اس نکتہ پر پہنچیں کہ ’’اتنا منافع کیا کرنا ہے؟ اللہ کا دیا سب کچھ ہے!‘‘
اور جہاں تک مقتدر حلقوں کی بات ہے ، تو ان کے لیے تو یہ دوا مستقل آئی وی ڈرِپ میں دی جائے، کیوں کہ ان کی بھوک، بہ قول شاعر
کبھی کم نہ ہو سکی، کبھی مٹ نہ سکی
وہ پیاس تھی جو نسلوں میں اتر گئی
اس دوا کے کچھ حیران کن ضمنی اثرات بھی ہوں گے۔ جیسے کرپشن کم ہونا، اختیارات کا دائرہ محدود ہونا اور عوام کا اعتبار بہ حال ہونا…… لیکن ہاں، کچھ منفی اثرات بھی ممکن ہیں۔ مثلاً: کئی لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ کیوں کہ ان کی کل مہارت ہی ’’دست خط کے عوض لفافہ لینا‘‘تھی، کچھ افراد کو "Identity Crisis” ہوگا۔ کیوں کہ اگر وہ پیسے کی بھوک سے آزاد ہوگئے تو پھر وہ ہیں کون؟ اور سوئس بینکوں میں جگہ خالی ہوجائے گی، جزیروں کی قیمتیں گر جائیں گی اور سارا نظام جیسے نئی نبض پر آ جائے گا۔
خوراک کی ہدایت کچھ یوں ہو سکتی ہے کہ سیاست دانوں کو روزانہ دو گولیاں، الیکشن سے پہلے ڈبل ڈوز؛ کاروباری حضرات کو ہر نئی ڈیل سے پہلے ایک گولی، اور مقتدر حلقوں کو صبح و شام مستقل ڈرِپ، کیوں کہ انھیں وسیع تر مفاد میں مسلسل غلطیاں کرنے کا روگ چمٹاہوا ہے۔
خلاصہ یہی ہے کہ جس چھٹی حس کو ہم برسوں سے اندرونی وجدان سمجھتے آئے، وہ دراصل جسمانی توازن کا نام نکلا، اور اسی سائنسی بنیاد پر ایسی دوا تیار ہوئی، جو بھوک کو مات دے سکتی ہے۔ تو اب سوال یہ نہیں کہ ’’کیا یہ دوا پیسے کی بھوک کم کرسکتی ہے؟‘‘ بل کہ سوال یہ ہے کہ ’’کیا ہم واقعی یہ دوا لینا چاہتے ہیں؟‘‘ اگر ہاں، تو یہ دوا بنانے والے سائنس دان نوبیل انعام کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی دعائیں لینے کے حق دار ہوں گے۔
اور اگر نہیں، تو ہمیں اپنی حسوں پر نہیں، اپنے نفس پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر کب تک ہم اپنی کم زوریوں کو جبلتوں کا نام دے کر چھپاتے رہیں گے؟ کب تک ہر خواہش کو ضرورت کا لباس پہنا کر اپنی ذات کی بے لباسی کو چھپائیں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی اندرونی خلاؤں کا سامنا کریں۔ کیوں کہ کچھ بھوکیں روٹی سے نہیں، روشنی سے مٹتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے