جمعہ کو باجوڑ میں مولانا خانزیب شہید کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ اگرچہ شرکائے جنازہ کی تعداد لاکھوں میں نہ سہی، تو ہزاروں میں تو ضرور تھی۔ اس موقع پر مقررین کی تقاریر میں غصہ اور مایوسی نمایاں تھی، لیکن افسوس کہ کوئی واضح لائحۂ عمل پیش نہ کیا گیا۔ یوں غم سے نڈھال عوام منتشر ہوکر واپس لوٹ گئے۔ چند روز سوشل میڈیا پر جاری رہنے والا یہ ماتم بھی ماند پڑ جائے گا، اور پھر کسی نئے سانحے تک زندگی حسبِ معمول رواں دواں ہو جائے گی۔
اسی باجوڑ میں، محض ایک ہفتہ قبل، سوات سے تعلق رکھنے والے اعلا سرکاری آفیسر فیصل اسماعیل بھی شہید کیے جاچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کا جرم کیا تھا…… کیا صرف یہی کہ وہ اپنی سرکاری ذمے داریاں ادا کر رہے تھے؟ اس طرح مولانا خانزیب کا قصور کیا تھا…… یہ کہ وہ ایک قوم پرست راہ نما اور امن کا علم بردار تھا؟
اس دھرتی پر روز بہ روز فوجی جوانوں اور ’’کولیٹرل ڈیمیج‘‘ کے طور پر معصوم شہریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ برس ہا برس بیت گئے، دعوے تو بے شمار ہوئے، مگر امن ہے کہ قائم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ مولانا خانزیب اور فیصل اسماعیل کی شہادتیں محض درد ناک واقعات نہیں، بل کہ ایک بدترین تسلسل کا حصہ ہیں۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم فقط ٹھنڈی سانس بھرنے یا سر پیٹنے پر اکتفا نہ کریں، بل کہ سنجیدہ اور عملی اقدامات کی کوئی سبیل نکالیں۔ کیوں کہ خوف کے سائے میں زندگی بسر نہیں کی جا سکتی اور یہ کسی بھی ریاستی ادارے کے لیے ممکن نہیں کہ ہر انچ زمین پر محافظ کھڑے کرے۔
یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور افسوس کہ اب دہشت گردوں کو بھی ڈرونز تک رسائی حاصل ہوچکی ہے، جس سے اس خطے کا امن مزید متزلزل ہوگیا ہے۔ جذباتی نعرے بازی، ریاستی اِملاک کو نقصان پہنچانا یا احتجاجی ماتم…… یہ سب وقتی اظہار ہوسکتے ہیں، لیکن مستقل حل نہیں۔
حقیقی عملی اقدام یہ ہوسکتا ہے کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی قائدین، بلا تفریق جماعت و مکتب، اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے ایک پُرامن احتجاجی کیمپ لگائیں…… اور جب تک صوبائی و وفاقی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس مسئلے کی سنجیدگی پر قائل نہ کرلیں، تب تک واپس نہ آئیں۔ سوال اُٹھایا جائے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور اس کا پائیدار حل کیا ہے؟ کیوں کہ اُن لوگوں کو جو صرف عسکری حل کو ہی واحد راستہ سمجھتے ہیں، یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو شروع ہوئے 20 برس سے زائد ہوچکے۔ 70 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ سپاہی سے لے کر اعلا افسران تک نے شہادت پائی، لیکن بدامنی کا عفریت آج بھی زندہ ہے۔
اب دہشت گردی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوچکی ہے، جو اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ صرف فوجی کارروائیاں مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ یہ اقدامات وقتی ریلیف تو دے سکتے ہیں، لیکن مستقل امن نہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کون سے عوامل ہیں، جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے میں رکاوٹ ہیں …… اور کون سے اقدامات ایسے ہیں جن سے اس تاریکی کو روشنی میں بدلا جا سکتا ہے۔
کیا مَیں یہ سوال کرنے کی جسارت کرسکتا ہوں کہ ہمارے صوبے سے تعلق رکھنے والے سیاست دان واقعی اس قابل ہیں کہ اس بارِ گراں کو اٹھا سکیں، کیا وہ وفاق کو یہ باور کروا سکتے ہیں کہ اب بس بہت ہوچکا مزید لاشیں برداشت سے باہر ہیں۔
یہ معصوموں کے خون کا معاملہ صرف پختونخوا تک محدود نہیں۔ حسبِ سابق بلوچستان بھی اس آگ کی لپیٹ میں ہے۔ جمعرات کو باجوڑ میں مولانا خانزیب کو شہید کیا گیا اور جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب لورالائی (بلوچستان) میں مسافر بسوں سے لوگوں کو اُتار کر قتل کر دیا گیا۔ مقتولین کا تعلق پنجاب سے تھا۔ یاد رہے ، اسی علاقے میں پہلے بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کیا گیا۔ تو کیا پنجابی پاکستانی نہیں، کیا بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں؟ وہاں بھارتی پشت پناہی سے سرگرم دہشت گرد، شناخت کی بنیاد پر قتل و غارت میں مصروف ہیں، تاکہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا سکے۔
اس وقت خیبر پختونخوا اور بلوچستان، عملاً حالتِ جنگ میں ہیں۔ اس جنگ کو جیتنے کے لیے صرف عسکری مہمات کافی نہیں، بل کہ سیاسی استحکام، سماجی انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے ۔ تاکہ اگر کسی فوجی کارروائی کے نتیجے میں کام یابی ملتی ہے، تو اسے پائیدار امن میں ڈھالا جا سکے ۔ و قت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ جو کچھ بھی کرنا ہے، اَب کرنا ہوگا، تاکہ خیبر سے گوادر تک امن کا سورج طلوع ہو۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










