مزارات اور ان سے منسوب غلط تصورات

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
لوگوں میں یہ خیال کیسے پروان چڑھا کہ مسلمان اولیا کے مزارات کو کچھ خاص تقاضوں کے لیے مخصوص کیا جائے؟ لیکن یہ عقیدہ بہت پہلے سے موجود ہے۔ مثلاً: ہر سال بہار کے دنوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پیر بابا کے مزار پر جمع ہوتے اور شادی جلدی ہوجانے کی دعا مانگتے۔ یہ جیسے تہوار کا وقت ہوتا اور پاچا کلے (بونیر) نوجوان لڑکیوں کی موجودگی میں خاصا رنگین منظر پیش کرتا۔ لڑکے روایتی پکول اور ٹوپیاں پہنے ہوئے اور کانوں کے پیچھے پھول لگائے ہوتے پھرتے۔
1965ء میں، مَیں 22 سال کا تھا اور ابھی تک غیر شادی شدہ تھا۔ ہم اپنے افسر محمد کریم صاحب کے ساتھ بونیر جا رہے تھے۔ اُس دن ہمارا دوپہر کا کھانا بٹئی گاؤں میں نقشے ملک کے ساتھ طے تھا۔ ان کا بیٹا، محمد خان، 1958-59ء میں جہانزیب کالج میں میرا کلاس فیلو تھا۔ میرے دیگر کلاس فیلو بونیر سے احمد حسین پاچا کلی سے، نذر خان ملک پور سے اور شاکر وکیل ایلئی سے تھے۔ دوپہر کے کھانے اور ایک گھنٹا سستانے کے بعد ہم پیر بابا کے مزار پر پہنچے۔ ہمارے افسر نے مسجد کے زیرِ تعمیر میناروں کا معائنہ کیا۔ پرانے میناروں کو خطرناک قرار دیا گیا تھا اور انھیں مسمار کر دیا گیا تھا۔ نئے میناروں کو پرانے ڈیزائن پر بنایا جانا تھا۔ ان کی لاگت اُس وقت 48 ہزار روپے بنتی تھی، جو کہ اُس وقت ایک بڑی رقم تھی۔ مَیں مزار کے اندر چلا گیا۔ مزار لکڑی اور مٹی سے بنا ایک بڑا، نیچے چھت والا تاریک کمرہ تھا۔ قبر ایک لوہے کی باڑ کے اندر تھی۔ مَیں نے غیر ارادی طور پر اپنے ہاتھ اٹھائے اور اللہ سے دعا کی کہ میری شادی کا انتظام کرے۔ تب میرے ذہن میں کوئی خاص لڑکی کا نام نہیں تھا۔ اب میں کیسے ایک سو ناموں میں سے کسی کا ایک کا انتخاب کرتا۔ حیرت انگیز طور پر گھر واپسی پر نہ صرف میری منگنی ہوگئی، بل کہ ایک ہفتے کے اندر اندر شادی بھی ہوگئی۔ یہ واقعی عجیب تھا، حالاں کہ میں ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتا اور اب بھی نہیں رکھتا۔
سیدو بابا کے مزار کے قریب سرو کا ایک درخت تھا، جسے پرانی تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر کسی بچے کو بخار ہوتا، تو اسے یہاں لایا جاتا اور اس کی گردن کے گرد اس درخت کے کون (مخروطی شکل کے بیج) سفید دھاگے سے باندھ دیتے اور وہ بخار سے نجات پالیتا۔ اسی طرح ذہنی اور پاگل مریضوں کو بھی اس درخت سے دو یا تین دن کے لیے باندھا جاتا۔
بریکوٹ کے مشہور ’’غاخی‘‘ کے قریب ایک قبر ہے۔ اس قبر پر اُگے قدیم زیتون کے درخت کے پتے پیسے جاتے اور اس کا مائع کانوں میں ڈالا جاتا، تاکہ درد کم ہو۔
اسی طرح حصار طوطہ کان میں ایک مزار ہے، جسے حصار بابا کہتے ہیں۔ خارش اور جلد کی دیگر بیماریوں کے مریض اپنے زخموں کو ٹھیک کروانے کے لیے وہاں جاتے تھے۔ ایک دن، اُس گاؤں کا ایک آدمی سیدو آیا، تاکہ ایک جلدی ماہر سے مشورہ کرے۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ اس نے کہا، ’’حصار بابا سے۔‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا کہ وہ مزار کیوں نہیں گیا؟ آدمی نے جواب دیا: ’’جناب، مَیں وہاں گیا، لیکن حصار بابا نے مجھے آپ کے پاس بھیج دیا۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے