کاش ہم میں بہت سے باچا خان ہوتے!

’’مَیں بوٹ اس لیے نہیں پہنتا، کیوں کہ میرا پشتون دست کار اسے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ (باچا خان)پشتون معاشرت میں خودداری اور مقامی ثقافت سے وابستگی محض ایک طرزِ زندگی نہیں، بل کہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کی جڑیں غیرت اور معاشی خود انحصاری میں پیوست ہیں۔ بزرگوں کے اقوال محض الفاظ […]
سوشل میڈیا، ثقافتی اظہار اور فکری تقسیم

گذشتہ دو دہائیوں میں خیبر پختونخوا کا سماجی و سیاسی منظرنامہ غیر معمولی تغیرات سے گزرا ہے۔ عسکریت پسندی، ریاستی آپریشنز، نقلِ مکانی، عالمی سیاست کے اثرات، اور اب سوشل میڈیا کی برق رفتار دنیا، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے چکے ہیں، جہاں ہر واقعہ فوری طور پر ایک وسیع […]
نن بیا ھغہ ماخام دے…!

’’پھر وہی شام ہے اور ’یارانِ شام‘ اکھٹے ہوئے ہیں۔‘‘فیاض ظفر کے کہے ہوئے یہ الفاظ ایک ٹرینڈ، بل کہ برانڈ بن گئے ہیں، مگر شاید بہت سارے لوگوں کو اس شام میں پکا ہوا کھانا اور سنائی جانے والی موسیقی کے سوا کچھ نام ہی پتا ہوں گے، جو اس شام کا حصہ ہوتے […]
کوٹہ گئی (Doll House)

’’کوٹہ گئی‘‘ کی اِفادیت پر بات کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ آخر ہے کیا؟ہمارے پشتون معاشرے میں بچیاں اپنے بچپن میں گھر کے کسی کونے میں دو تین فٹ کا ایک چھوٹا سا گھر بنالیتی ہیں۔ اس کی دیواریں زمین پر کھینچی گئی لکیروں یا چھوٹے چھوٹے کنکروں سے بنائی جاتی […]