فلسفہ عید اور نظام جبر

Blogger Noor Muhammad Kanju

عید الفطر کا تہوار ہماری سماجی زندگی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے اس کے حقیقی فلسفے کو محض رسم و رواج کی تہوں میں دبا دیا ہے۔ عام طور پر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ دن صرف ایک […]

پاکستان، پالیسی سازی اور تحقیق کے درمیان خلا

Blogger Lawnagin Yousafzai

پاکستان میں تحقیق اور علمی مہارت کی کمی نہیں، مگر بدقسمتی سے پالیسی سازی میں اس علمی سرمایہ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں ملک میں جامعات، تھنک ٹینکس اور تحقیقی مراکز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر قائم یہ ادارے باقاعدگی […]

چے گویرا… انقلاب، نظریے اور مزاحمت کا استعارہ

Blogger Comrade Sajid Aman

چے گویرا کی زندگی پر قلم اٹھانا محض ایک تاریخی شخصیت کی سوانح لکھنا نہیں، بل کہ بیس ویں صدی کی سیاسی ہل چل، نظریاتی کش مہ کش اور انقلابی خوابوں کی پوری داستان بیان کرنا ہے۔ وہ اُن چند لوگوں میں شامل تھے، جنھوں نے اپنی زندگی کو ایک نظریے کے ساتھ اس حد […]

ماضی کی حکمت اور حال کی کم زوری (تقابلی جائزہ)

Blogger Tauseef Ahmad Khan

اگر تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے، تو ہمیں ایسے صاحبِ نظر، صاحبِ بصیرت اور دور اندیش شخصیات کا ذکر ملتا ہے، جو جغرافیائی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھ کر نہ صرف آنے والے حالات کا پیشگی ادراک کرلیتے تھے، بل کہ اپنی مضبوط اور بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے حالات کا رُخ […]

مذہب، طاقت اور عالمی مفادات کا تصادم

Blogger Fazal Manan Bazda

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرکے چند ہی دنوں میں ایران کے دفاعی نظام کو تباہ کر دیا جائے گا اور وہاں اسرائیلی و امریکی حامی، اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کا یہ بھی گمان تھا کہ ایران میں موجود حکومت کے […]

کاش ہم میں بہت سے باچا خان ہوتے!

Blooger Noor Muhammad Kanju

’’مَیں بوٹ اس لیے نہیں پہنتا، کیوں کہ میرا پشتون دست کار اسے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ (باچا خان)پشتون معاشرت میں خودداری اور مقامی ثقافت سے وابستگی محض ایک طرزِ زندگی نہیں، بل کہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کی جڑیں غیرت اور معاشی خود انحصاری میں پیوست ہیں۔ بزرگوں کے اقوال محض الفاظ […]

کرپشن بیوروکریسی تک محدود نہیں

Blogger Ikram Ullah Arif

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ایک سینیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ایف بی آر کے ایک افسر کے پاس پچاس ارب سے زائد اثاثے ہیں۔ سینیٹر صاحب کے بہ قول، یہ آمدن سے زیادہ اثاثوں کا ایک ’’پرفیکٹ کیس‘‘ ہے اور نیب کو اس حوالے سے دیکھنا چاہیے۔ سینیٹر نے اُس افسر کا نام […]

میاں بابا، ککڑئی، شگئی، سیرئی والہ…!

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90 کی دہائی میں جب سوات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا رواج نہیں تھا، تو پرانی وضع کی بس (جس سے ٹرک بھی بہ آسانی بنایا جاسکتا تھا)، ٹوورسٹ گاڑی (جنھیں ہم ٹورس کہتے)، ڈاٹسن (ہمارا ورژن ’’ڈاکسن‘‘)، سوزوکی (جو اس پوسٹ میں شامل تصویر میں بھی نظر آرہی ہے) اور انڈین رِکشا یا […]

ہیگل تا مارکس… جدلیات نے دنیا کا رُخ کیسے بدلا؟

Blogger Comrade Sajid Aman

ہیگل کا نام، ہیگل کا فلسفہ، نیز ہیگل اور کارل مارکس کا تعلق ہم اکثر سنتے اور پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہیگل نے ایسا کیا کہا تھا، جس نے فلسفے اور نظریات کی دنیا پر گہرا اثر ڈالا… اور یہ سمجھنا ہمارے لیے کیوں اہم ہے؟فلسفہ بہ ذاتِ […]

آئین، ’’پریزن کوڈ‘‘ اور عدالتی ذمے داری 

Blogger Advocate Naseer Ullah

پاکستان کے آئینی نظام میں یہ اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ ریاستی ادارے، عدالتیں اور انتظامیہ سب آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ جب کسی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق معطل ہونے لگیں، شنوائی میں تاخیر ہو اور انصاف کے عمل پر سوالات اٹھنے لگیں، تو اس صورتِ حال میں وکلا کا کردار مزید […]

علامہ اقبال کی فکری پیش بینی اور مسلم دنیا کا مستقبل

Blogger Tauseef Ahmad Khan

(لبِ لباب: علامہ اقبال کی جیوپولیٹیکل بصیرت اور مسلم دنیا کے مستقبل کے بارے میں حیرت انگیز پیش گوئیوں کا احاطہ کرتی مفصل تحریر)20ویں صدی کے اوائل میں جب بیش تر ایشیائی ممالک سیاسی و معاشی عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھے۔ اُس وقت علامہ اقبال نے اپنی فکری گہرائی، سیاسی بصیرت اور غیر […]

مسلم دنیا، شخصی حکومتیں اور سیاسی بے بسی

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

مسلم دنیا کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے، تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جن ممالک میں شخصی یا خاندانی آمریت قائم ہو جاتی ہے، وہاں قومی خودمختاری کا تصور کم زور پڑ جاتا ہے۔ ایسے نظاموں میں عنانِ اقتدار چند افراد یا ایک خاندان کے ہاتھ میں آجاتی ہے […]

پاکستان میں سوشل ازم کی جد و جہد کی تاریخ‎

Blogger Comrade Sajid Aman

پاکستان میں سوشلزم کی جد و جہد کی تاریخ محض عام سیاسی نظریات کی داستان نہیں، بل کہ محنت کشوں کے خوابوں، ادیبوں کی تحریروں، طلبہ کی بغاوتوں اور آمریتوں کے خلاف مزاحمت کی ایک مسلسل جدلیاتی روایت ہے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں سوشلزم یا اس کی جد و جہد کبھی مکمل […]

حالات حاضرہ بارے قرآن کی تاریخی پیش گوئیاں

Blogger Tauseef Ahmad Khan

قارئینِ کرام! اگر آج کے عالمی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس وقت دنیا تیزی سے ایک نئے اور خطرناک جنگی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل صف آرا ہیں۔ ایک طرف کئی ممالک کے درمیان اتحاد […]

امریکہ، اسرائیل و ایران تنازع: پاکستان کو درپیش چیلنجز

Blogger Fazal Manan bazda

دنیا اس وقت جس بے چینی اور اضطراب سے گزر رہی ہے، اس کی وجہ مختلف خطوں میں جاری جنگیں ہیں۔ کہیں سرحدی تنازعات ہیں، کہیں نظریاتی اختلافات اور کہیں طاقت اور توازن کی کش مہ کش۔ پہلی جنگِ عظیم سے لے کر آج تک ان جنگی اقدامات نے ثابت کیا ہے کہ جنگ خواہ […]

امریکی اسلحہ ساز صنعت… عالمی بدامنی کی جڑ

Blogger Ikram Ullah Arif

سوال ہے کہ کیا ایران کے میزائل امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں؟ جواب ہے: ’’نہیں…!‘‘ کیا عراق کی فضائیہ امریکہ یا اسرائیل پر بمباری کرکتی ہے؟ اس سوال کا جواب بھی نفی ہی میں ہے۔ اور کیا افغانستان فوجی لحاظ سے امریکہ پر حملہ آور ہوسکتا ہے؟ تو اس سوال کا جواب بھی نفی میں […]

مسلم امہ بہ مقابلہ قومی مفاد

Blogger Noor Muhammad Kanju

بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگ اور تزویراتی تقاضوں نے دورِ حاضر میں مسلم امہ کے روایتی تصور اور جدید ریاست کے مفادات کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا مسلمان دنیا بھر میں ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ایک ایسی قوم […]

قطرے سے گہر ہونے تک

Blogger Fazal Maula Zahid

جولائی 2012 عیسوی میں اٹھارویں ترمیم کا ’’بھونچال‘‘ آیا، تو وفاق کی کئی نامی گرامی وزارتیں اور ادارے بہ یک جنبشِ قلم تحلیل ہوگئے۔ انھی دنوں ہم وفاقی وزارتِ خوراک و زراعت کے صوبائی ڈائریکٹوریٹ پشاور میں تعینات تھے۔ اس محکمے کا کام صوبوں کے سپرد ہوا اور ہم جیسے سیکڑوں ملازمین تتربتر ہو کر […]

فلسفہ تا سیاست: عطاء اللہ جان کی ہمہ جہت فکر

Blogger Comrade Sajjid Aman

ہر ہفتے کی شام شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کے ساتھ ایک سنجیدہ محفل جمتی تھی۔ مختلف موضوعات پر گفت گو ہوتی، بعض بحثیں ادھوری رہ جاتیں اور کئی سوالات اپنے پیچھے پیغامات چھوڑ جاتے۔ہیگل کے بارے میں شہید جان کا خیال تھا: ’’اس فلسفی (ہیگل) کو کھل کر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ہیگل […]

بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی توازن کا جائزہ

Blogger Sami Khan Torwali

سنہ 2026 عیسوی کی عالمی معیشت کا منظرنامہ ایک ایسے دور کی عکاسی کرتا ہے، جس میں طاقت، وسائل، پیداوار اور اقتصادی اثر و رسوخ کی جغرافیائی تقسیم تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا کی مجموعی معیشت جس کا حجم تقریباً 219 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب ایک نئی حقیقت کی طرف […]