سوئے سکردو (بارے راستے کا کچھ بیاں ہوجائے)

سفر میں دھوپ تو ہو گی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں، بھیڑ ہے، تم بھی نکل سکو تو چلوعام طور پر ساٹھ سال کی عمر میں سرکاری ملازم کو ادارے ریٹائر کر دیا کرتے ہیں کہ ’’جا بابا، ہن گھر بہہ کے آرام کر……!‘‘ مگر پتا نہیں پہاڑوں کا یہ عشق کیسا روگ ہے […]
سکردو کا سب سے خوب صورت گاؤں ’’کریس‘‘

’’کریس‘‘ کا دل کش گاؤں، سکردو سے تقریباً 60 کلومیٹر آگے اور دریائے سندھ پر بنے ’’چھومدو پل‘‘ کو کراس کرکے آتا ہے۔ سکردو سے یہاں تک پہنچنے کے لیے تقریباً 2گھنٹے لگ جاتے ہیں۔یہ وہی مقام ہے، جہاں پر دریائے شیوک اوپر سے آ کر دریائے سندھ میں ملتا ہے۔چھومدو پل سے تھوڑا آگے […]
وادئی باشو (گلگت بلتستان)

’’باشو‘‘ (جسے بشو بھی کہتے ہیں) ایک وادی ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ یہ وادی 3,600 میٹر (11,800 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے اور اس میں باشو گلیشیر سمیت متعدد گلیشیر ہیں۔وادئی باشو کو پہلی بار برطانوی کوہ پیما ولیم مارٹن کونوے نے 1892ء میں دریافت کیا تھا۔ […]