پاکستان، پالیسی سازی اور تحقیق کے درمیان خلا

پاکستان میں تحقیق اور علمی مہارت کی کمی نہیں، مگر بدقسمتی سے پالیسی سازی میں اس علمی سرمایہ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں ملک میں جامعات، تھنک ٹینکس اور تحقیقی مراکز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر قائم یہ ادارے باقاعدگی […]
چے گویرا… انقلاب، نظریے اور مزاحمت کا استعارہ

چے گویرا کی زندگی پر قلم اٹھانا محض ایک تاریخی شخصیت کی سوانح لکھنا نہیں، بل کہ بیس ویں صدی کی سیاسی ہل چل، نظریاتی کش مہ کش اور انقلابی خوابوں کی پوری داستان بیان کرنا ہے۔ وہ اُن چند لوگوں میں شامل تھے، جنھوں نے اپنی زندگی کو ایک نظریے کے ساتھ اس حد […]
ماضی کی حکمت اور حال کی کم زوری (تقابلی جائزہ)

اگر تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے، تو ہمیں ایسے صاحبِ نظر، صاحبِ بصیرت اور دور اندیش شخصیات کا ذکر ملتا ہے، جو جغرافیائی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھ کر نہ صرف آنے والے حالات کا پیشگی ادراک کرلیتے تھے، بل کہ اپنی مضبوط اور بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے حالات کا رُخ […]
مذہب، طاقت اور عالمی مفادات کا تصادم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرکے چند ہی دنوں میں ایران کے دفاعی نظام کو تباہ کر دیا جائے گا اور وہاں اسرائیلی و امریکی حامی، اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کا یہ بھی گمان تھا کہ ایران میں موجود حکومت کے […]
کاش ہم میں بہت سے باچا خان ہوتے!

’’مَیں بوٹ اس لیے نہیں پہنتا، کیوں کہ میرا پشتون دست کار اسے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ (باچا خان)پشتون معاشرت میں خودداری اور مقامی ثقافت سے وابستگی محض ایک طرزِ زندگی نہیں، بل کہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کی جڑیں غیرت اور معاشی خود انحصاری میں پیوست ہیں۔ بزرگوں کے اقوال محض الفاظ […]
میاں بابا، ککڑئی، شگئی، سیرئی والہ…!

90 کی دہائی میں جب سوات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا رواج نہیں تھا، تو پرانی وضع کی بس (جس سے ٹرک بھی بہ آسانی بنایا جاسکتا تھا)، ٹوورسٹ گاڑی (جنھیں ہم ٹورس کہتے)، ڈاٹسن (ہمارا ورژن ’’ڈاکسن‘‘)، سوزوکی (جو اس پوسٹ میں شامل تصویر میں بھی نظر آرہی ہے) اور انڈین رِکشا یا […]
ہیگل تا مارکس… جدلیات نے دنیا کا رُخ کیسے بدلا؟

ہیگل کا نام، ہیگل کا فلسفہ، نیز ہیگل اور کارل مارکس کا تعلق ہم اکثر سنتے اور پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہیگل نے ایسا کیا کہا تھا، جس نے فلسفے اور نظریات کی دنیا پر گہرا اثر ڈالا… اور یہ سمجھنا ہمارے لیے کیوں اہم ہے؟فلسفہ بہ ذاتِ […]
آئین، ’’پریزن کوڈ‘‘ اور عدالتی ذمے داری

پاکستان کے آئینی نظام میں یہ اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ ریاستی ادارے، عدالتیں اور انتظامیہ سب آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ جب کسی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق معطل ہونے لگیں، شنوائی میں تاخیر ہو اور انصاف کے عمل پر سوالات اٹھنے لگیں، تو اس صورتِ حال میں وکلا کا کردار مزید […]
علامہ اقبال کی فکری پیش بینی اور مسلم دنیا کا مستقبل

(لبِ لباب: علامہ اقبال کی جیوپولیٹیکل بصیرت اور مسلم دنیا کے مستقبل کے بارے میں حیرت انگیز پیش گوئیوں کا احاطہ کرتی مفصل تحریر)20ویں صدی کے اوائل میں جب بیش تر ایشیائی ممالک سیاسی و معاشی عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھے۔ اُس وقت علامہ اقبال نے اپنی فکری گہرائی، سیاسی بصیرت اور غیر […]
مسلم دنیا، شخصی حکومتیں اور سیاسی بے بسی

مسلم دنیا کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے، تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جن ممالک میں شخصی یا خاندانی آمریت قائم ہو جاتی ہے، وہاں قومی خودمختاری کا تصور کم زور پڑ جاتا ہے۔ ایسے نظاموں میں عنانِ اقتدار چند افراد یا ایک خاندان کے ہاتھ میں آجاتی ہے […]
ایران، نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کی امریکی-اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں […]
پاکستان میں سوشل ازم کی جد و جہد کی تاریخ

پاکستان میں سوشلزم کی جد و جہد کی تاریخ محض عام سیاسی نظریات کی داستان نہیں، بل کہ محنت کشوں کے خوابوں، ادیبوں کی تحریروں، طلبہ کی بغاوتوں اور آمریتوں کے خلاف مزاحمت کی ایک مسلسل جدلیاتی روایت ہے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں سوشلزم یا اس کی جد و جہد کبھی مکمل […]
حالات حاضرہ بارے قرآن کی تاریخی پیش گوئیاں

قارئینِ کرام! اگر آج کے عالمی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس وقت دنیا تیزی سے ایک نئے اور خطرناک جنگی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل صف آرا ہیں۔ ایک طرف کئی ممالک کے درمیان اتحاد […]
امریکہ، اسرائیل و ایران تنازع: پاکستان کو درپیش چیلنجز

دنیا اس وقت جس بے چینی اور اضطراب سے گزر رہی ہے، اس کی وجہ مختلف خطوں میں جاری جنگیں ہیں۔ کہیں سرحدی تنازعات ہیں، کہیں نظریاتی اختلافات اور کہیں طاقت اور توازن کی کش مہ کش۔ پہلی جنگِ عظیم سے لے کر آج تک ان جنگی اقدامات نے ثابت کیا ہے کہ جنگ خواہ […]
امریکی اسلحہ ساز صنعت… عالمی بدامنی کی جڑ

سوال ہے کہ کیا ایران کے میزائل امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں؟ جواب ہے: ’’نہیں…!‘‘ کیا عراق کی فضائیہ امریکہ یا اسرائیل پر بمباری کرکتی ہے؟ اس سوال کا جواب بھی نفی ہی میں ہے۔ اور کیا افغانستان فوجی لحاظ سے امریکہ پر حملہ آور ہوسکتا ہے؟ تو اس سوال کا جواب بھی نفی میں […]
مسلم امہ بہ مقابلہ قومی مفاد

بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگ اور تزویراتی تقاضوں نے دورِ حاضر میں مسلم امہ کے روایتی تصور اور جدید ریاست کے مفادات کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا مسلمان دنیا بھر میں ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ایک ایسی قوم […]
د لکونو روپو گاڑے ساتو خو د پارکنگ دیرش روپئی نہ
قطرے سے گہر ہونے تک

جولائی 2012 عیسوی میں اٹھارویں ترمیم کا ’’بھونچال‘‘ آیا، تو وفاق کی کئی نامی گرامی وزارتیں اور ادارے بہ یک جنبشِ قلم تحلیل ہوگئے۔ انھی دنوں ہم وفاقی وزارتِ خوراک و زراعت کے صوبائی ڈائریکٹوریٹ پشاور میں تعینات تھے۔ اس محکمے کا کام صوبوں کے سپرد ہوا اور ہم جیسے سیکڑوں ملازمین تتربتر ہو کر […]
فلسفہ تا سیاست: عطاء اللہ جان کی ہمہ جہت فکر

ہر ہفتے کی شام شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کے ساتھ ایک سنجیدہ محفل جمتی تھی۔ مختلف موضوعات پر گفت گو ہوتی، بعض بحثیں ادھوری رہ جاتیں اور کئی سوالات اپنے پیچھے پیغامات چھوڑ جاتے۔ہیگل کے بارے میں شہید جان کا خیال تھا: ’’اس فلسفی (ہیگل) کو کھل کر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ہیگل […]
بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی توازن کا جائزہ

سنہ 2026 عیسوی کی عالمی معیشت کا منظرنامہ ایک ایسے دور کی عکاسی کرتا ہے، جس میں طاقت، وسائل، پیداوار اور اقتصادی اثر و رسوخ کی جغرافیائی تقسیم تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا کی مجموعی معیشت جس کا حجم تقریباً 219 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب ایک نئی حقیقت کی طرف […]
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی بساط اور اردوان

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کی تشکیل میں رجب طیب اردوان کا کردار مرکزی، متنازع اور گہرے اثرات کا حامل رہا ہے۔ ترکی کے صدر کی حیثیت سے اردوان نے انقرہ کو ایک طرف اسرائیلی اسٹریٹجک توسیع پسندی، جسے علاقائی بیانیے میں اکثر’’صیہونی وژن‘‘ کے طور پر پیش کیا […]