سوات: گندھارا ورثہ اور معاشی امکانات

سوات کی وادی، جسے مشرق کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے، محض بلند و بالا برف پوش چوٹیوں، گنگناتی جھیلوں اور سرسبز چراگاہوں کا نام نہیں، بل کہ یہ خطہ انسانی تاریخ کی اَن گنت تہوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ حال ہی میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کے پیروکاروں […]
سوات، سماجی ہم آہنگی کو درپیش چیلنجز

قارئینِ کرام! اگر سوات کے موجودہ حالات کا تھوڑا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ افسوس ناک حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ انتشار اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہو رہا ہے۔ معمولی نوعیت کے اختلافات کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا […]
گندھارا کی روداد

جنوبی ایشیا کے تاریخی طور پر مشہور ثقافتی خطوں میں سے ایک خطہ گندھارا کے نام سے مشہور ہے۔ گندھارا بہ یک وقت ایک ایسی متنوع شناخت کو جنم دیتا ہے، جو جغرافیائی، تاریخی، فنی اور مذہبی پہلوؤں پر محیط ہے۔ یہ تمام پہلو مل کر ایک ایسی دل چسپ داستان کی غمازی کرتے ہیں، […]
لاوارث گندھارا

(زیرِ نظر تحریر دراصل میرے ہی ایک انگریزی آرٹیکل "The (un)claimed Gandhara” کا اُردو ترجمہ ہے، جو 26 جولائی 2020ء کو روزنامہ "The News”کے لیے اُس وقت لکھا تھا، جب تخت بھائی میں بدھا کے ایک بڑے مجسمے کو توڑا گیا تھا۔ ترجمہ کے لیے کامریڈ امجد علی سحابؔ کا مشکور ہوں، ڈاکٹر رفیع اللہ۔)تخت […]
ورثہ، ثقافت اور تاریخ

بہ قول شخصے: ورثہ کی حفاظت تاریخ، شناخت اور تہذیب کی حفاظت ہوتی ہے۔جرمنی کے میونخ یونیورسٹی سے گندھارا اور گندھاری زبانوں (پراکرت کے لہجوں) کے عالم سوات تشریف لائے تھے۔ 2023ء میں اُن کو ای میل بھیجا تھا۔ اُن کے سیکریٹری نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن خدا کی کرنی کہ صاحب گذشتہ دنوں […]
گندھارا تہذیب

قدیم زمانے میں وادئی سوات مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذہبوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ یہاں کئی تہذیبیں پلیں پھولیں اور عروج کی منزلیں طے کرکے زوال پذیر ہوئیں۔ کئی مذاہب نے اپنے اثرات یہاں چھوڑے اور کئی اقوام کی بود و باش اور ان کی طرزِ زندگی کے نقوش یہاں اُبھر کر ماند پڑ گئے۔ […]