کاش ہم میں بہت سے باچا خان ہوتے!

’’مَیں بوٹ اس لیے نہیں پہنتا، کیوں کہ میرا پشتون دست کار اسے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ (باچا خان)پشتون معاشرت میں خودداری اور مقامی ثقافت سے وابستگی محض ایک طرزِ زندگی نہیں، بل کہ ایک مکمل نظریہ ہے، جس کی جڑیں غیرت اور معاشی خود انحصاری میں پیوست ہیں۔ بزرگوں کے اقوال محض الفاظ […]
خود احتسابی کا عمل جاری رہنا چاہے

گذشتہ چند دنوں سے چند پشتون لکھاری پشتون سماج کے اندر غیرت اور پشتون ولی کے نام سے ثقافتی انتہا پسندی پر لکھ رہے ہیں اور اس عمل کو خود احتسابی سے جوڑ رہے ہیں۔ کسی بھی سماج کی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے اور جہالت کے دور کے اُن فرسودہ […]