تیزی سے بدلتا عالمی منظرنامہ

20ویں صدی کے اختتام تک عالمی سیاست ایک نازک مگر قائم توازن کے سہارے کھڑی تھی۔ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں، اختلافات شدید تھے، مگر ایک حد بھی موجود تھی۔ اس حد نے دنیا کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔ پھر وہ مرحلہ آیا، جب ایک طاقت بکھر گئی اور دوسری […]
پاک افغان جنگ اور دو قومی نظریہ

برطانوی سامراج نے جب ہندوستان کی دولت سمیٹنے اور یہاں کے وسائل کی بے رحمانہ لوٹ مار کے بعد رختِ سفر باندھنے کا ارادہ کیا، تو وہ جاتے جاتے اس خطے کو ایک ایسی مستقل تقسیم اور نظریاتی انتشار کی بھٹی میں جھونک گیا، جس کی تپش آج بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ […]