طاقت، بیانیے اور سفارت کاری کی آزمایش

جمعہ کے دن جب مَیں یہ سطور لکھ رہا ہوں، تو بہ ظاہر حالات پُرسکون اور معمولاتِ زندگی بہ حال ہیں۔ سرحدی علاقوں میں دونوں جانب پہرہ دار چوکس کھڑے ہیں۔ سرحد کے اُس پار کابل میں بھی دن کا آغاز نسبتاً پُرسکون انداز میں ہوا ہے، اگرچہ رات بھر وہاں پاکستانی طیاروں کی بمباری […]
ادارہ جاتی، نظامی اور ساختیاتی ٹوٹ پھوٹ

پاکستان کو درپیش مسائل، قانون کی کم زوری، احتساب کا سیاسی استعمال، انتخابی بے اعتمادی، سست انصاف، بدامنی اور اداروں پر اشرافیہ کا غلبہ، محض عوام کی ’’بے شعوری‘‘ کا نتیجہ نہیں۔ سیاسیات اور حکم رانی کے مطالعے میں ایسے مسائل کو نظامی (Systemic) اور ساختیاتی (Structural) خرابیوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس […]
حالیہ شدید سیاسی بحران کا جائزہ

پاکستان میں آئین کی حکم رانی ہے، نہ قانون کی…… بل کہ یہاں صرف جنگل کا قانون رائجہے۔ یہاں قانون نہیں، بل کہ خوف اور طاقت بولتے ہیں۔ یہاں جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے، بھینس بھی اُسی کی ہوتی ہے۔ بعض دانش مند سمجھتے ہیں کہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ بھینس […]
ترمیم نئی اور دُکھ وہی پرانے

27ویں آئینی ترمیم کے بعد جو ماحول بنا ہوا ہے، اُس نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ مثلاً: کیا یہ پہلی ترمیم ہے؟ جواب ہے: ’’نہیں۔‘‘کیا یہ آخری ترمیم ہے؟ اس کا بھی جواب نفی میں ہے۔پھر ایسے میں اتنا واویلا کیوں ہے؟ ترمیم کے حمایتی اور مخالفین دونوں کے پاس درجنوں دلائل ہیں، […]
جیل بھرو تحریک اور سیاسی عدم استحکام

حکومت کی طرف سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ ہونے سے پی ٹی آئی نے اگر ایک طرف’’جیل بھرو تحریک‘‘ کا اعلان کیا ہے، تو دوسری طرف سیاسی افراتفری کی وجہ سے ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ روحیل اکبر کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]