امن صرف ہتھیار کی خاموشی کا نام نہیں

اکیسویں صدی میں امن کو صرف جنگ یا مسلح تصادم کے نہ ہونے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ عالمی حقائق نے امن کے تصور کو کہیں زیادہ وسیع کر دیا ہے، جس میں معاشی انصاف، سماجی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ، صنفی برابری، صحت و تعلیم تک رسائی، اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ شامل ہیں۔ […]
اسٹیبلشمنٹ کا مارکسی تجزیہ

ریاست، اقتدار اور طاقت کے سوال پر جب ہم مارکسی عدسے سے نظر ڈالتے ہیں، تو ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ محض ایک مبہم سیاسی اصطلاح نہیں رہتی، بل کہ ایک واضح اور متعین طبقاتی مفہوم اختیار کرلیتی ہے۔ عام سیاسی گفت گو میں اسٹیبلشمنٹ سے مراد عموماً فوج، بیوروکریسی یا خفیہ ادارے لی جاتی ہے، مگر مارکسزم اس […]
دولت، جرم اور احتساب کا بحران

خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران میں منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ایک پیچیدہ سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ بہ ظاہر ریاستی سطح پر منشیات کے خلاف آگاہی مہمات جاری ہیں، جن کا اظہار پولیس تھانوں کے گیٹوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر آویزاں بینرز اور […]
پاکستان میں طبقاتی نظام (مارکسی مطالعہ)

کارل مارکس کا یہ قول کہ ’’اب تک کی تمام تاریخ طبقاتی جد و جہد کی تاریخ ہے‘‘ اگر کسی ایک ملک پر پوری شدت کے ساتھ صادق آتا ہے، تو وہ پاکستان ہے۔ یہاں طبقاتی تقسیم محض معاشی نہیں، بل کہ سیاسی، سماجی، ثقافتی اور حتیٰ کہ جغرافیائی صورت اختیار کرچکی ہے۔ مارکس کی […]
سیاسی و انتظامی تجربات کے بوجھ تلے سسکتا سوات

سوات، جو کبھی ’’مشرق کا سویٹزرلینڈ‘‘ کہلاتا تھا، آج معاشی، سماجی اور انتظامی بحرانوں کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے ۔ یہ وادی محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بل کہ ایک تہذیب، ایک تاریخ اور ایک امید کا نام ہے۔ یہاں کے عوام کی اکثریت کا ذریعۂ معاش سیاحت سے وابستہ ہے، مگر افسوس کہ […]
سماجی انصاف کا عالمی دن اور ہم

معاشی ترقی کے لیے سماجی انصاف بہت اہمیت رکھتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں اقوام نے ترقی اس وقت کی جب انھوں نے اپنے شہریوں کو ہر شعبۂ زندگی میں مساوی مواقع فراہم کیے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات مثلاً: صحت، تعلیم، رہایش، پینے کا صاف پانی وغیرہ دینے میں ناکام […]