سوشل میڈیا، بگڑتی نسل اور ہماری ترجیحات

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج سوشل میڈیا (خصوصاً TikTok جیسی تیز رفتار اور وائرل کلچر کو فروغ دینے والی ایپس) خاموشی سے، مگر غیر معمولی تیز رفتاری کے ساتھ ہمارے معاشرے کی ترجیحات کو تبدیل کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض تفریح یا اظہارِ رائے تک محدود نہیں، بل کہ […]

نن بیا ھغہ ماخام دے…!

Blogger Comrade Sajid Aman

’’پھر وہی شام ہے اور ’یارانِ شام‘ اکھٹے ہوئے ہیں۔‘‘فیاض ظفر کے کہے ہوئے یہ الفاظ ایک ٹرینڈ، بل کہ برانڈ بن گئے ہیں، مگر شاید بہت سارے لوگوں کو اس شام میں پکا ہوا کھانا اور سنائی جانے والی موسیقی کے سوا کچھ نام ہی پتا ہوں گے، جو اس شام کا حصہ ہوتے […]

ایپسٹین فائلز اور عالمی طاقت کا مکروہ چہرہ

Blogger Hilal Danish

ایپسٹین فائلز (The Epstein files) کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں۔ یہ طاقت، دولت اور ریاستی نظام کے درمیان ایسے روابط کی داستان ہے، جنھیں برسوں تک پردۂ راز میں رکھا گیا۔ سب سے پہلا سوال یہی ہے: ’’جیفری ایپسٹین آخر تھا کون… اور وہ اس قدر طاقت […]

عورت کی نفسیاتی قید

Blogger Izhar Amin

کبھی کبھی یہ فکر بہت پریشان کرتی ہے کہ آخر کیوں ہمارے معاشرے میں عورت کو ایک "Object” کے طور پر دیکھا جاتا ہے؟ لیکن اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ معاشرہ تو عورت کو ایک آبجیکٹ تصور کرتا ہی ہے، عورت خود کو بھی آبجیکٹ ہی سمجھنے لگتی ہے۔ المیہ […]

سماج کا مساج… احتجاج اور رواج کا فریب

Blogger Ghufran Tajik

ہمارا سماج آج جس کیفیت سے گزر رہا ہے، اُسے بیان کرنے کے لیے شاید کسی فلسفیانہ اصطلاح کی ضرورت نہیں۔ ایک سادہ سا طنزیہ جملہ ہی کافی ہے:’’سماج کا مساج ضروری ہے…!‘‘یعنی معاشرے کی رگوں میں جو بےحسی جم چکی ہے، اُسے جھنجھوڑنا لازم ہے۔ جیسے جسم میں درد ہو، تو مساج کیا جاتا […]

دولت، جرم اور احتساب کا بحران

Blogger

خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران میں منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ایک پیچیدہ سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ بہ ظاہر ریاستی سطح پر منشیات کے خلاف آگاہی مہمات جاری ہیں، جن کا اظہار پولیس تھانوں کے گیٹوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر آویزاں بینرز اور […]

طاقت کی پولرائزیشن اور آئینی خلاف ورزیوں کے اثرات

Blogger Lawangin Yousafzai

پاکستان کا موجودہ آئین اس مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا تھا کہ ریاست کے تمام ستونوں کے درمیان توازن قائم رہے، عوام کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور اقتدار قانون کے تابع ہو… مگر گذشتہ کئی دہائیوں سے اس آئین کو بار بار معطل، معطل شدہ صورت میں نافذ یا ترامیم کے ذریعے کم […]

شریفوں کا کھیل جو سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا

Blogger Noor Muhammad Kanju, lafzuna.com

کرکٹ، جسے کبھی ’’شریفوں کا کھیل‘‘ کہا جاتا تھا، آج محض ایک کھیل نہیں رہا… بل کہ یہ جذبات، سیاست، معیشت اور سماجی اتار چڑھاؤ کا ایک ایسا مرکب بن چکا ہے، جس کی تپش میدان سے باہر کہیں زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔کھیل انسانی تہذیب کا وہ خوب صورت حصہ ہیں، جو نہ صرف […]

بورڈ آف پیس: انسانی بحران یا عالمی مفادات؟

Blogger Fazal Manan Bazda, Thana Baizai

فلسطین اور کشمیر کا تنازع طویل عرصہ سے عالمی سیاست کا موضوع بنا ہوا ہے۔ گذشتہ ڈھائی سالوں سے اسرائیل کی بربریت، تشدد، بمباری اور ظلم و ستم نے فلسطینیوں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی۔ امریکہ کی اشیرباد اور پشت پناہی سے نتین یاہو نے […]

خاموش بلوچستان اور چیختے سوالات

Blogger Ikram Ullah

نیا سال شروع ہوئے پورا ایک مہینا گزر چکا ہے، مگر طبیعت ابھی مائل نہیں ہوئی۔ دل لکھنے کو بالکل نہیں چاہ رہا۔ گاؤں میں تعطیلات سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ چہار سو پہاڑوں نے برف کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ چمکتی دھوپ میں خنک ہوا کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اس […]

ماہ صیام اور دمہ کے مسائل

Blogger Doctor Noman Khan Pulmonologist

رمضان کی آمد آمد ہے۔ ایک طرف رمضان اپنے ساتھ رحمتیں اور برکتیں لاتا ہے، تو دوسری طرف دمہ اور سانس کے جملہ امراض کے مریضوں پر تھوڑا گراں گزرتا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سوات کی خشک سردی اور سحری افطار میں مرغن غذاؤں کے ساتھ گھی، چکنائی اور […]

تعلیم کا اصل مقصد (فکری مکالمہ)

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

تعلیم کا مقصد صرف انسان کو روزگار کے قابل بنانا یا اسے معاشی دوڑ میں شامل کرنا نہیں، بل کہ اس کی اصل غایت انسان کو انسان بنانا ہے۔ ایسا انسان جو صرف زندہ رہنا نہ جانتا ہو، بل کہ باوقار، بامقصد اور باشعور زندگی جینے کا سلیقہ بھی رکھتا ہو۔ زندہ رہنا تو فطری […]

قومی بدانتظامی یا سرمایہ داری کا بحران؟ (مارکسی تجزیہ)

Blogger Comrade Sajid Aman

’’مملکتِ خدادا‘‘ پاکستان میں سوشل ازم کو ماضی کا ایک ناکام خواب بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ سوشل ازم کو بدنام کرنے کا عمل آج بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کام بندوق، کوڑے اور فتوے سے ہوتا تھا، آج یہ […]

سیاسی بقا کی فقہ

Blogger Naseer Ullah

قانون اور سیاسی طاقت کا سنگم اکثر ایک ایسا میدانِ جنگ تخلیق کرتا ہے، جہاں عدالتیں طاقت کی کش مہ کش کا ثانوی تھیٹر بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں جمہوری نمایندگی اور ادارہ جاتی دباو کے درمیان جاری کش مہ کش میں قانونی نظام کو اکثر ریاست کی جانب سے اختلافِ رائے کو کچلنے کے […]

شوگر کے مریض اور روزہ (ماہرانہ تجزیہ)

Blogger Doctor Ahmad Ali

رمضان کے دوران میں شوگر (ذیابیطس) کے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا ایک احتیاط طلب معاملہ ہے۔ صحیح منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ یہ ممکن ہوسکتا ہے، لیکن کچھ صورتوں میں یہ صحت کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کے روزہ رکھنے کے حوالے سے خطرے کی سطح مریض […]

ذہنی اذیتوں کا مداوا… آہ، ڈاکٹر حیدر علی

Blogger Comrade Sajid Aman, Mingora Swat

مینگروال تہذیب میں بہت سے جملوں کے معنی ہوسکتا ہے کچھ اور ہوں مگر ان کا استعمال اور مطلب مینگروال خوب سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ قارئین! بات آبائی مینگروال تہذیب اور شہریوں کی ہو رہی ہے۔ بیش تر لوگوں کو پتا ہوگا کہ ڈاکٹر حیدر علی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، یہ ایک افسوس […]

جمعیت العلمائے اسلام کی خدمات کا مختصر بیانیہ

Blogger Suhail Sohrab, Swat

یہ پاؤں شاید عام نگاہ میں محض تھکے ہوئے قدم ہوں، مگر اہل بصیرت جانتے ہیں کہ یہی قدم تاریخ کے وہ روشن صفحات ہیں، جن پر دین اور انسانیت کی خدمت کے نقوش ثبت ہوتے ہیں۔ خاک آلود اُنگلیاں، گھسے ہوئے ناخن، چلچلاتی دھوپ اور پتھریلے راستوں کی تھکن، یہ سب قربانی نہیں، بل […]

کیا ہم واقعی باشعور لوگ ہیں…؟

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

’’خیبر پختونخوا کے عوام سب سے زیادہ باشعور ہیں۔‘‘یہ جملہ اتنی بار دہرایا جاچکا ہے کہ اب یہ نعرہ کم اور طنز زیادہ لگتا ہے۔ باشعور ہونا کوئی معمولی دعوا نہیں، یہ ایک بھاری ذمے داری ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس شعور کا اظہار سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں میں کم […]

ہائبرڈ جمہوریت کے تجربات و ثمرات

Blogger Fazal Manan Bazda, Thana Baizai

پاکستان میں جمہور اور جمہوریت کے نام پر جو کھلواڑ کھیلا گیا اور اب بھی جاری ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ موجودہ ہائبرڈ جمہوری نظام سے پیدا ہونے والے بعض لوگ یہ دعوا کرتے ہیں، یا دل کو بہلانے کے لیے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’’بدترین جمہوریت، آمریت سے بہتر ہے۔‘‘ […]

’’کیس نمبر 9‘‘، اردو ادب کی مقصدی روایت کا احیا

Blogger Noor Muhammad Kanju, Swat

​اردو ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ جب داستانوں کے مافوق الفطرت کرداروں اور طلسماتی فضاؤں نے انسانی شعور کو محض تخیلاتی دنیا تک محدود کر دیا تھا، تب سرسید احمد خان نے اپنے قریبی رفیق مولوی نذیر احمد کو ایک نیا راستہ دکھایا تھا۔ سرسید کا موقف تھا کہ ادب محض وقت گزاری یا […]